اُردو ادبافسانہ

چڑیاں دا چمبا / عارفین یوسف ،راولپنڈی

اندرون لاہور کی ملتانی گلی میں لوگوں کی آمدورفت جاری ہے۔بھیڑ سے بھرے بازار سے ملحق پرپیچ اور بل کھاتی گلی کی چوڑائی فقط اتنی ہے کہ دو آدمی ساتھ ساتھ چل سکتے ہیں۔ راستے کے دونوں اطراف بوسیدہ دیواریں قدیم گھروں کا بوجھ سہارے اُڑے اُڑے رنگوں کے ساتھ یہاں کے مکینوں کی درماندگی کا چیخ چیخ کر اعلان کر رہی ہیں۔ان جگہوں پر دن کے اوقات میں بھی روشنی کا گزر کم ہی ہوتا ہے چنانچہ باہر بھرپور دھوپ کے باوجود ماحول ملگجا اور افسردہ رہتا ہے۔ گلی میں تھوڑا اندر کی طرف ایک حقہ خانہ ہے جس کے باہر لکڑی کی چند پرانی کرم خوردہ کرسیاں پڑی ہیں جو زیادہ وزن سہنے کی بالکل متحمل نہیں ہو سکتیں۔ حقہ خانہ کا موڑ مڑتے ہی سامنے والی طرف ایک ہوٹل نما سٹال ہے جہاں پکوان سے زیادہ پتی کی خوشبو گلی میں یوں رچ بس گئی ہے جیسے وہ اس فضا کا جزوِلاینفک ہو۔ اگلے موڑ سے پہلے دائیں طرف ایک چھوٹی سی مسجد ہے جس کی دیواروں اور فرش میں سنگِ مرمر کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے نصب ہیں جو امتدادِ زمانہ کے ہاتھوں اپنی آب و تاب کھو چکے ہیں۔ مسجد کے مینار بہت بلند نہیں ہیں البتہ اُن پر معدوم ہوتے نقش و نگار ابھی بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ بیشتر گھروں کی کھڑکیاں گلی میں نیچے کی طرف کھلتی ہیں۔کسی بخیل انسان کے دل کی مانند تنگ گلی کے باوجود بچے کھیل کود میں مصروف ہیں اگرچہ راہگیروں کے آنے پر اُن کو بار بار اپنا کھیل روکنا پڑتا ہے۔کبھی کبھار کوئی موٹر سائیکل شور مچاتا لوگوں سے بچتا بچاتا گزرتا ہے تو گلی کے شور میں مزید کرختگی پیدا ہو جاتی ہے۔

آج گلی میں آنے والے افراد کی اکثریت کا رُخ ملک رئیس کے اُس عشرت کدے کی طرف ہے جو پچھلے پچاس برس سے اہل خانہ کو پناہ دیتے دیتے شکست و ریخت کا شکارہو گیا ہے۔ گھر کا پلستر جگہ جگہ سے اکھڑا ہوا ہے جس کے باعث پرانی اینٹیں یوں جھانک رہی ہیں جیسے پڑوسی نیچی دیوار کا فائدہ اٹھا کر ساتھ والے گھر میں ایڑیاں اُچک اُچک کر جھانکتے ہیں۔ مرکزی دروازہ بھاری لکڑی کا ہے جو دیکھنے سے ہی اپنی خستہ حالی کا پتا دے رہی ہے۔ دروازے کے عین وسط میں دوٹوٹے ہوئے لوہے کے ہینڈل یوں لگے ہیں گویا ہاتھ لگانے سے ہی اکھڑ جائیں گے۔ کسی غریب کی مختصر کمائی جیسی قلیل سی ڈیوڑھی کے ساتھ ایک درمیانے حجم کا ہال نما کمرہ ہے جس کے اندر کچھ اور ہی دنیا آبادہے۔

کمرے میں داخل ہوتے ہی دائیں طرف پانچ سٹول پڑے ہیں جن پر گوٹا کناری، دبکا، بھاری اور ہلکے کام، دلکش کڑھائی والے نئے نویلے ملبوسات سیلوفن میں لپٹے آنے والوں کو دعوتِ نظارہ دے رہے ہیں ان کے ساتھ ہی دیوارگیر پر ہینگروں میں لٹکے متفرق سلے ہوئے نئے سوٹ دیکھنے والوں کو اپنی طرف متوجہ کر رہے ہیں۔ ہینگروں کے نیچے مختلف طرح کی نئی جوتیوں کے دس جوڑے ایک ترتیب سے رکھے ہوئے ہیں جن میں اونچی ایڑی، دیدہ زیب فینسی رنگوں اور گھر کے عام مگر آرام دہ جوتوں کے جوڑے شامل ہیں۔ کپڑوں اور جوتوں پر افشاں بکھیری گئی ہے جس سے ان کی جھلملاہٹ میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔اِن کے ساتھ ہی میک اپ کی اشیاء پر مشتمل بیوٹی بکس کو کھول کر آئی لائنرز، فیس پاوڈر، لپ اسٹکس، رنگ برنگی نیل پالشوں کی بوتلیں، مسکارہ اور دیگر متعلقہ چیزوں کے ساتھ مختلف طرح کے پرفیومز کی مہکتی بوتلیں رکھی ہوئی ہیں۔

اس چھب دکھاتی قطار کے بالکل سامنے فرنیچر رکھا گیا ہے جس سے تازہ پالش کی تیز بُو آنے والوں کا استقبال کر رہی ہے۔ آبنوسی مسہری، صوفہ سیٹ، سنگار میز، کھانا کھانے کی میز، دو عدد بھاری بھرکم الماریاں اور چند چمچماتی کرسیاں بڑے تفاخر سے مہانوں سے داد وصول کر رہی ہیں۔دوسری جانب ملبوسات اور جوتوں کی قطار ختم ہوتے ہی خود کار برقی آلات اور الیکٹرونکس اشیاء کو اُن کی پیکنگ سے نکال کر انہی کے ڈبوں پر رکھ دیا گیا ہے۔نازک اندام استری، مختلف النوع پھلوں کا رس نکالنے والی جوسر مشین، پیڈل والی جدید سلائی مشین، کپڑے دھونے والی مکمل خود کار مشین، کم توانائی سے چلنے والا روم کولر، شفاف آئینے جیسی سطح والا قدِ آدم ریفریجریٹر اورتمام فیچرز سے لیس بیالیس انچ کی ایل سی ڈی یوں رکھے گئے ہیں جیسے کسی شوروم میں سجے ہوں۔ ان اشیاء کے بالمقابل باورچی خانہ کے لوازمات کی ایک ترتیب لگی ہوئی ہے جس میں سٹین لیس سٹیل کے چھری کانٹوں چمچوں اور پلیٹوں سے لے کر بیش قیمت ڈنر سیٹس اور مائیکرو ویو اوون تک موجود ہیں۔کمرے کے اختتام سے تھوڑا سا پہلے ایک کونے میں پلاسٹک چڑھی زیرو میٹر موٹر سائیکل نوبیاہتا دلہن کی طرح سر جھکائے کھڑی ہے۔

اس چکاچوند کے بیچوں بیچ راستہ بنا کر گذ رنے والے مردوزن کی چہ میگوئیاں مکھیوں کی بھنبھناہٹ کی طرح ادھوری کانوں میں پڑ رہی ہیں۔۔۔ رخصتی۔۔۔۔۔۔ باپ قرض۔۔۔۔ ماں کے گہنے۔۔۔۔اکلوتی بچی۔۔۔۔دبی دبی آوازیں ایک دوسرے کے اوپر چڑھ رہی ہیں۔ آنے والے کمرے سے باہر نکل کر ایک کشادہ صحن میں جا رہے ہیں جہاں ایک ہجوم اکٹھا ہو گیا ہے۔ خواتین کی ایک بڑی تعداد چھتوں کی فصیلوں کے چاروں طرف کھڑی اس انہماک سے نیچے کا نظارہ کر رہی ہے کہ ان کو دھکم پیل کی بھی پرواہ نہیں ہے۔اچانک ہی ملک رئیس کی گلوگیر آواز بلند ہوئی ” اب اجازت دو، وقت ہو گیا ہے”۔

جواب میں ملک رئیس کی سماعت سے اپنی اہلیہ کا جگر پھاڑ دینے والا بین ٹکرایا، "اِس گھر سے فائزہ کی ڈولی اٹھنی ہے جنازہ کیوں اٹھا رہے ہو؟”

Author

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x