غزل
غزل | زہے نصیب اگر وہ ہمارا ہو جائے | کرن منتہی

غزل
زہے نصیب اگر وہ ہمارا ہو جائے
تو کچے گھر میں خوشی سے گزارا ہو جائے
صدا لگاؤ ، ہنسو ، مستقل اداس رہو
بچانے والوں کو کوئی اشارہ ہو جائے
گلاب بن کے تری یاد مہکے آنگن میں
ہمارے دل کے لیے کچھ سہارا ہو جائے
ہمیں قبول ہے قدموں کی دھول ہوجانا
اسے روا ہے وہ آنکھوں کا تارا ہو جائے
اداس آنکھوں سے شیشہ گری نہیں ہوتی
ترا خیال اگر پارہ پارہ ہو جائے
کریں گے شوق سے آغاز اس کہانی کا
اگر وہ چاہے کہ ایسا دوبارا ہو جائے




