
اختر حسین سے جب تک گفتگو نہ ہوتی تو کوئی اندازہ نہیں لگا سکتا تھا کہ وہ اتنا بھی خشک انسان نہیں جتنا وہ نظر آتا ہے۔ چلتا پھرتا بظاہر وہ ایسا محسوس ہوتا کہ جسے دنیا میں کسی سے کوئی غرض نہیں۔ وہ اپنی ذات میں گم رہنے والا انسان تھا بلکہ بعض اوقات وہ خود سے بھی الگ تھلگ محسوس ہوتا ۔
لیکن یہی اختر حسین جیسے ہی صبح اپنے دفتر کے لیے تیار ہوتا تو لگتا کہ اس میں کوئی اور ہی انسان بس گیا ہے۔ ڈھیلے ڈھالے کپڑوں کی جگہ ٹپ ٹاپ کپڑے لے لیتے۔ ٹائی ، پینٹ کوٹ اور ہر وہ چیز زیب تن ہوتی جو اس کی شخصیت کو جاذب نظر بنا دیتا۔ وہ الگ بات تھی کہ یہ سارے کپڑوں کا شوق شادی میں تحفے کے طور پر ملنے والے کپڑوں سے پورا ہو رہا تھا۔
ٹیکسٹائل کمپنی کا چیف اکاؤنٹنٹ ہونا کوئی معمولی بات نہ تھی۔ ان کے اکاؤنٹس کو بیس برس سے بخوبی دیکھ رہا تھا۔
اختر حسین کا رشتہ جب میرے لیے آیا اور میں نے اس کی تصویر دیکھی تو مجھے شکل و صورت سے مناسب محسوس ہوا لیکن جس دن وہ میرے گھر آیا تو اس کی چال ڈھال اور کپڑوں کے انتخاب نے میرے ارمانوں پر اوس ڈال دی۔ عجیب خالی خالی سا انسان محسوس ہوا۔
لیکن میرے بڑے بھائی جان شمشاد مرزا نے مجھے نہ صرف اس رشتے پر قائل کیا بلکہ میری ایک ہوٹل میں اپنے ساتھ لے جا کر ملاقات بھی کروائی۔ اس ملاقات میں گفتگو کر کے ہی مجھ پر عیاں ہوا کہ اختر حسین اتنا بھی خشک نہیں۔ اس دن لباس کے انتخاب نے بھی اس کی شخصیت کو پرکشش بنا دیا تھا۔
راستے بھر بھائی جان شمشاد مرزا مجھے مسلسل سمجھاتے رہے کہ اچھا کماتا ہے۔ اپنا ذاتی گھر ہے۔ کام سے کام رکھتا ہے۔ شہر میں اکیلا ہی رہتا ہے۔ کبھی دو چار ماہ میں اس کے والدین گاؤں سے آتے ہیں اور پھر چند دن رہ کر واپس چلے جاتے ہیں۔ سگریٹ ، بیڑی تو دور کبھی میٹھا پان بھی اس نے نہیں کھایا ہو گا۔
بھائی جان تھے ہی ایسے کہ عمر میں سب سے بڑے اور سمجھداری اور ملنساری میں بھی ان کا کوئی ثانی نہ تھا۔ سب بہن بھائیوں میں ان کی جان تھی۔ ان سے بڑی صرف ایک بہن ہی تھی اور پھر ان کو ملا کر پانچ بھائی ۔ اور پھر میں بڑھاپے کی اولاد ہوئی تو انہوں نے مجھے چھوٹی بہن سے زیادہ بچوں کی طرح محبت کی۔
مجھے کبھی کبھی ایسا لگتا کہ شاید قدرت نے انہیں صرف کام کرنے کے لیے بنایا ہے۔ ہر وقت کچھ نہ کچھ کرتے رہتے۔ خود سکریپ کا کاروبار کرتے تھے ۔ بیگم بچوں کے ساتھ ایک خوشحال زندگی بسر کر رہے تھے۔ باقی بھائیوں کے بہتر مستقبل کے لیے ان کا کردار بڑے بھائی کی جگہ باپ کا سا تھا جو اپنے بچوں کو سیٹل کروانے میں ہمہ وقت مستعد رہتا ہو۔ ہمارے ابا جان جس قدر سہل پسند اور لاپرواہ تھے ، شمشاد مرزا اتنے ہی برعکس۔
والدین کی وفات کے بعد ان کا کام ہم سب کو ایک لڑی میں پرو کر رکھنا ہوتا۔ بھائیوں کی پڑھائی لکھائی سے نوکری ، اور شادی سے لے کر ان کے بچوں کی تعلیم تک ، سب معاملات میں ان کی کاوشوں کا رنگ نظر آتا ۔ ہفتے بھر میں سب سے ملنا خود پر فرض کر لیا تھا۔ ان کی بیگم بھی خدا کا تحفہ تھی ۔ ان کے کاندھے کے ساتھ کاندھا ملا کر ان کے ساتھ کھڑی ہوتیں ۔ میں نے تو ماں باپ سے زیادہ شفقت اور محبت ان میں پائی۔ مجھے یہی اپنے ماں باپ محسوس ہوتے۔
اختر حسین سے رشتہ طے ہونے سے نکاح اور رخصتی تک بڑے بھائی جان اور بھابھی نے مجھے ماں باپ کی کمی کا کوئی احساس نہ ہونے دیا۔ اس دوران اختر حسین کی شخصیت میں بھی تبدیلیاں محسوس کی۔ اب وہ جب بھی آتا تو اچھے کپڑوں میں ملبوس ہوتا۔ شادی تک مجھے اختر حسین سے لگاؤ اور انسیت پیدا ہو گئی تھی۔
شادی کے بعد اختر حسین کی شخصیت کی وہ پرتیں مجھ پر آشکار ہوئی جو زندگی ساتھ گزارنے پر ہی ممکن تھا۔ گھر میں وہ ہمیشہ ایسے حلیے میں رہتا کہ جیسے اس کا گزر بسر تنگ دستی کا شکار ہے۔ بس دفتر کی تیاری کے وقت وہ اچھے اور صاف ستھرے کپڑے پہنتا۔ اگر شادی میں ملنے والے کپڑے نکال دئیے جائیں تو اس کے پاس اپنے ذاتی چند ہی اچھے کپڑے ہوں گے۔ کمپنی سے دی ہوئی گاڑی اسے مجھ سے بھی زیادہ عزیز تھی۔ اس پر ذرا سا نشان لگ جاتا تو گویا اس کے دل پر لگتا ۔
پیسے خرچ کرنے سے زیادہ مشکل کام اس کی زندگی میں شاید ہی کوئی دوسرا ہوتا۔ کمپنی سے ملنے والی مراعات ہمیں حاصل نہ ہوتی تو شاید وہ مجھے اس جدید دور میں سائیکل یا پیدل سفر کرواتا۔ جب میں گلہ کرتی تو مجھے کسی درمیانے سے ہوٹل میں لے جاتا اور کھانا کھلا کر ہمیشہ کہتا کہ دیکھو جتنے پیسے یہاں لگے اتنے پیسوں میں ہم اس سے بہتر کھانا گھر میں کھا سکتے تھے۔
لیکن جہاں یہ خامی تھی تو وہاں مجھ سے محبت میں کوئی کمی نہ رکھی۔ دفتر سے آ کر سارا وقت میرے ساتھ گزارتا۔ ان کا کوئی ایسا دوست بھی نہ تھا جو ہمارے درمیان مخل ہوتا۔ میں بھی اس کی عادی ہو گئی تھی۔
بڑے بھائی جان شمشاد مرزا سے جب میں اس کی کنجوسی کا ذکر کرتی اور شکوہ کناں ہوتی کہ بھائی جان باتوں کی حد تک تو ان کی محبت بہت بڑھ کر ہے۔ لیکن خرچ کرنے کے حوالے سے ان کا دل بہت تنگ ہے۔ کبھی کوئی تحفہ لا کر نہیں دیا۔ نہ اپنے لیے نئے کپڑے بناتے ہیں اور نہ مجھے لے کر دیتے ہیں۔ اس پر وہ مجھے سمجھاتے کہ گڑیا سمجھدار آدمی ہے۔ پیسے کی قدر کرتا یے۔ باقی میں اسے سمجھاؤں گا۔
اس دوران ہمارے دو بچے ہو گئے۔ پہلے بچے پر تو میں دستور کے مطابق اپنے میکے چلی گئی۔ میکہ بھی کیا شمشاد مرزا کا گھر ہی تھا جہاں میں رہی۔ بھابھی نے مجھے ماؤں کی طرح پیار کیا۔ زچگی کی احتیاطیں روا رکھی۔ کھانے پینے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی۔ جب میں اپنے بیٹے کے ساتھ چھلا پورا کر کے اختر حسین کے ساتھ اپنے گھر روانہ ہوئی تو بچے کے سال بھر کے کپڑوں کے علاوہ اختر حسین اور میرے کوئی درجن بھر چوڑے تیار کر کے ساتھ بھیجے۔
اختر حسین تو شمشاد مرزا پر صدقے واری جا رہا تھا۔ میرے چہرے پر ایک اطمینان تھا کہ خدا کا شکر ہے کہ مجھے ان جیسا بھائی ملا۔ اختر حسین تو اس کے بعد جیسے بھائی جان کا معتقد ہو گیا ۔ میں اس روپے کو بیٹے کی خوشی پر محمول کر بیٹھی۔ میرا یہی خیال تھا کہ پہلی ہی اولاد نرینہ ہونا اختر حسین کی خوشی کی اصل وجہ ہے۔
اس دوران بھائی جان کی نوازشات کا سلسلہ جاری رہا ۔ وہ اور بھابھی ہفتے بھر میں ہمارے گھر کا چکر ضرور لگاتے ۔ ساتھ ہی کچھ نہ کچھ کھانے کا سامان لانا نہ بھولتے ۔ مجھے تو بس زیادہ سے زیادہ چائے بنانی پڑتی۔ جاتے ہوئے بھابھی میرے ہاتھ میں باجود خوشحالی کے کچھ نہ کچھ رکھ جاتی ۔ یہ باہر کھانے پر بچوں کے ساتھ جاتے تو اکثر مجھے اور اختر حسین کو بلوا لیتے۔
اختر حسین کے ماں باپ سال میں دو سے تین مرتبہ آتے ۔ وہ اچھے اور ملنسار لوگ تھے۔ لیے دئیے میں رہتے۔ شہری بہو ہونے کی وجہ سے مجھ سے بےتکلف نہ تھے۔ ایک جھجھک سے ان دونوں میں مجھے نظر آتی ۔ مجھ سے جو بن پڑتا میں کرتی ۔ وہ گاؤں کی سوغاتیں بھی اپنے ہمراہ لے آتے ۔ دیسی مرغ ، اچار لہسن ، ساگ اور حسب موسم سامان لاتے۔
ان کی والدہ نے تو گاؤں میں ہی دم دے دیا تھا۔ کچھ عرصے بیمار رہیں۔ گاؤں سے متصل ہسپتال میں ان کا چند روز علاج رہا اور پھر ایک دن خبر آئی کہ ہائی بلڈ پریشر کی وجہ سے دماغ کی شریان پھٹ گئی۔ میرا اگر چہ ان سے واجبی سا تعلق تھا لیکن پھر بھی مجھے ان کی موت کا صدمہ پہنچا۔ شمشاد مرزا اس معاملے میں آگے آگے رہے۔ ان کی میت کا کھانا اور سوئم سمیت سب کھانے کے اخرجات بھائی جان نے اپنی جیب سے ادا کیے۔
لیکن سامنے اختر حسین کو رکھا۔ ہورے گاؤں میں اختر حسین کی خوب واہ واہ ہوئی۔ ماں کی وفات کا بہت زیادہ دکھ میں نے اپنے شوہر کی آنکھوں میں محسوس نہ کیا۔ شہر واپس آ کر بھی انہوں نے اپنی ماں کو کبھی یاد نہ کیا۔ مجھے ان کے اس رویے پر حیرت ہوئی۔ ایک دن میں نے موقع دیکھ کر کہ ہی دیا کہ آپ کو اپنی ماں سے لگتا ہے کوئی لگاؤ نہیں تھا۔ وفات سے اب تک کبھی بھی آپ کے چہرے پر میں نے دکھ کی پرچھائی تک نہیں دیکھی۔
اس پر وہ کہنے لگا کہ نیک بخت وہ اپنی عمر گزار کر اس دنیا سے گئی ہیں۔ اپنے سب بچوں کی خوشیاں دیکھ لی تھی۔ ایک دن تو سب نے ہی اس دنیا سے جانا ہے۔ اس پر میں نے کہا کہ آپ دنیا داری میں بہت محو ہیں۔ شاید آپ کو میرے بھی مرنے کا کوئی دکھ نہیں ہوگا۔ اس پر اس نے بے اختیار میرے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ دیا اور کہنے لگا کہ خدا تمھیں میری بھی عمر عطا کر دے۔ اب کی بار میں نے اس کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ کر اسے روکا اور نہایت جذباتی انداز میں کہا کہ خدا تمھارا سایہ ہمیشہ میرے سر پر سلامت رکھے۔
زندگی معمول کے مطابق چل رہی تھی۔ اختر حسین کی عادتیں میں کیا ٹھیک کرتی ، بلکہ میں نے ہی ان کے ساتھ سمجھوتہ کر لیا تھا۔ کبھی بہت دل گھبراتا تو بھائی جان اور بھابھی آ جاتے اور میری دلجوئی میں کوئی کسر نہ چھوڑتے۔ البتہ اختر حسین کے چہرے پر بھائی جان کو دیکھ کر جو رونق آتی میں اسے دیکھ کر سرشار ہو جاتی۔ وہ تو شمشاد مرزا کو اپنا پیر بنا بیٹھے تھے۔
اس دوران میں دوبارہ امید سے ہو گئی۔ ان کے والد بھی شدید علیل ہو گئے۔ ان کا علاج شہر کے بڑے ہسپتال میں تجویز کیا گیا۔ اور اس طرح وہ ہمارے گھر رہنے کے لیے آ گئے ۔ ان کے مختلف ٹیسٹ ہوئے جن پر کچھ خرچہ ہوا۔ اس کے بل اختر حسین نے کمپنی سے پاس کروانے کی کوشش کی۔ لیکن وہ کامیاب نہ ہو سکا۔ اس بات پر اس کا موڈ شدید خراب رہا۔ اس خفگی کا اظہار اس کے چہرے کے ساتھ ساتھ اس کے رویے میں بھی چھلکنے لگا۔
وہ اپنے والد سے بعض اوقات تلخ ہو جاتا۔ وہ بیمار آدمی اپنا سا منہ لے کر رہ جاتے۔ ایک دن میں نے اختر حسین کو کہا کہ کچھ خدا کا خوف کرو۔ نجانے ان کی کتنی زندگی باقی ہے۔ خدمت کر کے دعائیں لے لو۔ تو اس پر وہ سیخ پا ہو گیا اور کہنے لگا کہ دعائیں جو انہوں نے دینی تھی وہ دے دی۔ مہنگائی اتنی ہو گئی ہے کہ ایک ماہ میں ان پر ہزاروں روپے خرچ کر چکا ہوں۔ کمپنی بھی اتنی بے وفا نکلی کہ میری وفاداری کا یہ صلہ دیا کہ ان کا میڈیکل رد کر دیا۔
میں اس کی بات سن کر ہکا بکا رہ گئی۔ میں نے دل میں سوچا کہ گھر میں اللہ کی خیر ہے۔ بینک اکاؤنٹ پیسوں سے بھرے ہوئے ہیں اور اس آدمی کو اپنے باپ پر چند ہزار روپے خرچ کرنے پر موت آ رہی ہے۔ اس بات کا اظہار میں نے بھائی جان سے کیا تو انہوں نے مجھے سمجھایا کہ دیکھو گڑیا ہر ایک کی اپنی اپنی عادت ہوتی یے۔ شکر ہے کہ پیسے اجاڑنے والا نہیں ہے۔ یہ روپے پیسے آگے تمھارے بچوں کے ہی کام آئے گے۔
اس کے بعد شمشاد بھائی نے اختر حسین کو اس فکر سے بھی آزاد کر دیا۔ وہ اس کے والد کو بڑے ہسپتال میں لے گئے اور انہیں داخل کر وا دیا۔ اختر حسین تو ایسا مطمئن ہوا کہ اس کی ساری کدورت جاتی رہی۔ اس کا موڈ ایک دم اچھا ہو گیا ۔ پندرہ دن کے بعد ہسپتال والوں نے اس کے والد کو ڈسچارج کر دیا۔ ان کو تکلیف سے قدرے افاقہ تھا تاہم ڈاکٹروں نے صاف کہہ دیا تھا کہ وہ اب چند دن کے مہمان ہیں۔
ہسپتال کا بھاری خرچہ بھائی جان نے ادا کیا۔ اختر حسین نے جھوٹے منہ بھی بل ادا کرنے کی کوشش نہ کی۔ اختر حسین نے اپنے بھائیوں کو بلوا کر انہیں سمجھا دیا تھا کہ ابا جان کی خدمت کریں ۔ اب علاج کا وقت گزر چکا۔ اس کے بھائی اختر حسین کے ممنون نظر آ رہے تھے کہ اس نے ابا جان کی بہت خدمت کی اور شہر کے مہنگے اور بڑے ہسپتال میں علاج کروایا۔ ایک مرتبہ تو میرا دل ہوا کہ میں اصل حقیقت سے انہیں آگاہ کر دوں لیکن پھر یہ سوچ کر خاموش ہو گئی کہ اس کا بھرم قائم ہی رہے۔
چند دن کے بعد میں اور اختر حسین گاؤں میں اپنے سسر کی وفات پر موجود تھے۔ بھائی جان ضروری کام سے دوسرے شہر گئے ہوئے تھے تو اس وجہ سے وہ جنازے پر نہ آ سکے۔ میت کی تدفین کے بعد کھانے کا انتظام اختر حسین کے ذمے لگا تو اس کے مزاج میں وہی روکھا پن عود آیا اور تلخی سے اس نے یہ سارا انتظام کروایا ۔ وہ بات بے بات شمشاد مرزا کو یاد کر رہے تھے اور کہ رہے تھے کہ اماں جان کے انتقال پر ان کا کاندھا میسر رہا تو میں اس دکھ کو جھیل گیا۔ ان کا سایہ عاطفت میرے لیے غنیمت ہے۔
یہ باتیں سن کر مجھے پہلی مرتبہ اختر حسین سے نفرت سی محسوس ہوئی ۔ سوئم پر بھائی جان موجود تھے۔ انہوں نے آگے بڑھ کر تمام انتظامات سنبھال لیے ۔ سارے اخراجات اپنی جیب سے ادا کیے ۔ اختر حسین ان کے سامنے اس قدر عاجزی دکھا رہا تھا کہ مجھے لگ رہا تھا کہ شاید انہوں نے ہی پال پوس کر اسے جوان کیا ہے۔
میرے بچے کی ولادت کے دن قریب آرہے تھے تو اختر حسین کی بے چینی بڑھتی جا رہی تھی۔ وہ بہانے بہانے سے مجھے کہتا کہ یہاں گھر میں تمھارا کون خیال رکھے گا۔ مجھے دفتر میں ہر وقت تمھاری فکر رہتی ہے۔ ایسا کیوں نہ کرو کہ تم شمشاد بھائی کے گھر چلی جاؤ ۔ وہاں بھابھی تمھارا اچھے سے خیال رکھے گی ۔ مجھے اس پر اب غصہ آنے لگا تھا ۔ مجھے دکھ ہوتا کہ میں کس انسان کے ساتھ زندگی گزار رہی ہوں۔
جس دن بھابھی اور بھائی جان مجھے لینے آئے اس دن میں نے اختر حسین کو کھری کھری سنائی۔ میں نے اسے کہا کہ تم بہت عجیب انسان ہو۔ تمھارے والدین کے انتقال پر میں نے تمھاری اںکھ میں آنسو تو درکنار بلکہ چہرے پر ایک عجیب سا اطمینان دیکھا۔ اس پر پہلی مرتبہ اس کی آنکھیں جھک گئیں۔ وہ کہنے لگا کہ بیماریوں میں تڑپ تڑپ کر زندہ رہنے اور لاکھوں روپے خرچ کرنے سے بہتر ہے کہ انسان مر جائے۔
اس نے مجھے کہا کہ اگر کبھی میں بیمار ہو جاؤں اور مجھے موذی مرض لاحق ہو جائے تو تم مجھ پر پیسے ضائع نہ کرنا۔ اسے میری وصیت سمجھو ۔ کیونکہ آدمی بچتا ہے اور نہ مال ۔ اور میں نہیں چاہوں گا کہ میرے بعد میرے بچے کسمپرسی کی زندگی گزارے۔ اختر حسین واقعی عجیب شخصیت کا مالک تھا۔
دوسرے بیٹے کی پیدائش پر بھی سارا خرچہ بھائی جان نے اٹھایا۔ اس مرتبہ بھی انہوں نے مجھے رخصت کرتے وقت بچوں کے ساتھ میرے اور اختر حسین کے کپڑے بھی ساتھ دئیے ۔ گھر جاتے وقت اختر حسین کا موڈ نہایت خوشگوار تھا۔ وہ پورے راستے بھائی جان کی تعریفوں کے پل باندھتا رہا ۔ فرط جذبات سے اس کے گال تمتما رہے تھے۔
زندگی میں اختر حسین کی کمیوں کو بھائی جان پورا کرتے رہتے۔ میں بھی اس کی عادی ہو چکی تھی۔ زندگی یونہی رواں دواں تھی لیکن پھر ایک رات ڈیڑھ بجے بھابھی کے نمبر سے میرے موبائل پر فون آیا ۔ پیچھے بچوں کے رونے کی آوازیں آ رہی تھیں ۔ اختر حسین نے سرعت سے کار نکالی اور ہم بچوں کو گھر میں سوتا چھوڑ کر ہسپتال کی طرف روانہ ہو گئے۔ پہلی مرتبہ اختر حسین گاڑی کی جانب سے بےفکر ہوا تھا۔ اس کی کار کی اسپیڈ اس قدر زیادہ تھی کہ میں خوفزدہ ہو گئی تھی۔
لیکن تمام کوششیں رائیگاں گئیں۔ شمشاد مرزا ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ چکے تھے۔ ان کو سینے میں اٹھنے والا درد دل کا شدید دورہ تھا۔ ہسپتال میں اس وقت تک میرے سارے بہن بھائی پہنچ چکے تھے۔ سب کی آنکھیں اشکبار تھیں لیکن اختر حسین کی حالت غیر ہو رہی تھی۔ اس کی چیخیں ہسپتال میں گونج رہی تھیں ۔ سب اسے چپ کروا رہے تھے۔ کہی سے آواز آئی کہ اختر حسین تم تو حوصلے والے آدمی ہو۔ تم نے تو اپنے ماں باپ کی موت کا صدمہ بھی صبر سے برداشت کیا۔ لیکن اس کا رونا بڑھتا ہی جا رہا تھا۔ میں نے اختر حسین کو نم بھری آنکھوں سے دیکھا۔ باجود کوشش کہ میری روتی دھوتی آنکھوں میں آنسوؤں کے ساتھ اس کے لیے نفرت بھی ابل رہی تھی۔




