زمین زادوں کے دکھ | لیلیٰ ہاشمی

زمین زادوں کے دکھ
تمھیں لگتا ہے ستاروں کے اس پار
قیام کرنے والے درد کے عنوان جانتے ہیں
تو بتاو کیا حقیقت ہے
کہ وہ زمیں واسیوں کو کوئی دلاسہ دیے رہتے ہیں
مگر ہمارے دکھوں کی عمریں ہم سے لمبی ہو گئ ہیں
ہم زمین زاد ہیں تو یہ کیسے انہیں بتا پائیں گے
کہ درد کے عنوان کتنے وحشت طلب ہوتے ہیں
وہ بیچارے کہاں سنتے ہوں گے
دکھوں کے گہرے عذابوں کی بے ترتیب دھنوں کو
وہ تو پہلے لمحے سے کن کی صدائیں سن رہے ہیں
وہ کیا جانیں کسی بیوہ کی سرد مہر راتوں کی اندھی کہانیاں
وہ کیا جانیں کسی ماں کی گود میں یتیم کا لہو اور اس پر بین کرتی جوانیاں
وہ کیسے یہ جان پائیں گے
کہ کیا گزرتی ہے
جب کوئی پردیسی دور کہیں وطن سے
ائیرپورٹ کی لمبی لائین میں لگا
گھر جانے کے انتظار میں آنکھیں ہاتھوں میں لیے کھڑا ہو
جب کہ اسے معلوم ہو گھر میں کوئی جنازہ اس کا منتظر ہے
وہ نہیں جانتے کہ کیسے
درد کے عنوان ہمارے چہرے پر ثبت ہو چکے ہیں
ہم کیسے اشرف کے عروج کو نبھا رہے ہیں
وہ نہیں جانتے
وہ کچھ بھی نہیں جانتے




