اُردو ادبافسانہ

منحوس/ بنت قمر مفتی ، لاہور

"باجی مجھے گاؤں جانا ہے کل چھٹی کروں گی۔ پھر سوموار کو آؤں گی۔ آپ آج ہی کپڑے دھلوا میں نے کل نہیں آنا۔”

"تم پھر جمعہ کے دن کپڑے دھونے آگئی ہو، میں نے آج نہیں دھلوانے کپڑے” بھابھی کی ملازمہ کے ساتھ بحث جاری تھی۔ 

جمعہ کے دن کام والی کپڑے دھونے لگی تو بھابھی اسے اپنی ہمسائی کے گھر جانے کا مشورہ دے رہی تھیں۔

"جاؤ تم آج میرے گھر کپڑے نہیں دھلیں گے. ” "ارے بھابھی دھلوالیں نا۔” میں نے جاتی ہوئی ملازمہ کو روکتے ہوئے بھابھی سے کہا ۔ 

بھابھی نے مجھے گھورتے ہوئے نفی میں سر ہلا دیا اور میں بے بسی سے ملازمہ کو دیکھتا رہ گیا۔ 

ہم دو بھائی اور ایک بہن تھے۔ والدین حیات نہ تھے۔ بڑے بھائی اور بھابھی ہمارے لئے بہت محترم تھے۔ بھابھی ہمارے والد صاحب کے جگری دوست کی بیٹی تھیں۔ بھابھی کے گھرانے سے ہمارا بچپن کا میل جول تھا۔ پھر بھائی بھابھی کی شادی کے بعد ہمارے تعلقات مزید مضبوط ہوگئے تھے۔ بھابھی سے ہم دونوں بہن بھائی کی بہت دوستی تھی اور ہم بھی انہیں بہت عزیز تھے۔ بھابھی بھی اپنے بہن بھائیوں میں سب سے بڑی تھیں اور اپنے والدین کے دار فانی کوچ کر جانے کے بعد اپنے تینوں بہن بھائیوں کا بھی بہت خیال رکھتی تھیں۔ بھابھی کا سب سے چھوٹا بھائی شہزاد ، تھا تو مجھ سے دو سال بڑا لیکن ہماری بہت دوستی تھی۔ حال ہی میں میرا بی ایس ختم ہوا تھا۔ چار سال دوسرے شہر ہاسٹل میں رہا تھا۔ ساتھ ساتھ ٹیوشن اور کوئی نہ کوئی چھوٹی موٹی ملازمت کرتا رہا۔ اس لئے تعطیلات میں بھی گھر رہنے کا موقع بہت کم ملا تھا۔ بی ایس مکمل ہوا تو گھر آگیا آج کل ملازمت کی تلاش میں تھا۔ بھابھی کی جمعہ کو کپڑے نہ دھونے کی بات پر بہت تعجب ہوا تھا۔

"کیا فرق پڑتا ہے بھابھی جمعہ ہو یا ہفتہ آپ کیوں نہیں جمعہ کو کپڑے دھونے دیتیں”

 میرے اس سوال پر بھائی مسکراتے ہوئے بولے "بس وہمی ہے تمہاری بھابھی. جیسا سنتی آئی ویسا کرتی آئی۔ کوئی منطق نہیں ہے اس بات میں”  

” بس اچھا شگون نہیں ہوتا جمعہ کو کپڑے دھونا” 

اور یہ بد شگونی آپ اپنی ہمسائی کے گھر بھیج رہی تھیں، کتنی بری بات ہے۔” 

"ارے بھئی وہ نہیں مانتی ان باتوں کو, اسے فرق نہیں پڑتا” 

"آپ کو بھی نہیں پڑنا چاہئے کیونکہ یہ سب توہمات ہیں میں نہیں مانتا” 

 بھابھی نے میری بات کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے اپنے تیرہ اور پندرہ سالہ بیٹوں کوجمعہ نماز کی تیاری کے لئے غسل کی تلقین کی ۔

  "ارے بیگم آج تو دھلائی پر پابندی ہے تو ہمارے نہانے دھونے سے کوئی بدشگونی نہ ہو جائے۔ کیا خیال ہے ؟ بھائی نے آخری جملہ لہکتے ہوئے کہا۔ 

"بچوں کو کیا سکھا رہے ہیں آپ ، ایسا کچھ نہیں ہے۔ جمعہ کو غسل کرنا تو سنت ہے۔ اب میری بات کا مذاق مت بنائیں”۔ 

"دیکھو جب نہانا دھونا صفائی رکھنا سنت ہے تو کپڑے دھونے سے کیوں منع کرتی ہو۔ چھوڑ دو یہ وہم ڈئیر بیگم کوئی دن یا وقت منحوس نہیں ہوتا۔ نحوست صرف حرام کمائی کی ہوتی ہے۔ ہمارے برے اعمال کی وجہ سے یو سکتی ہے”

"اچھا اچھا ٹھیک ہے۔” بھابھی اس بارے کچھ نہیں سننا چاہتی تھیں اور انہوں نے بھائی کی بات کاٹ دی۔ 

اگلی شام اپنی کتابوں کی چھانٹی کی غرض سے میں نے بک شیلف اور الماری کی صفائی شروع کردی ۔ بھابھی کمرے میں آکر پریشان ہوگئیں کہ کیوں کچرا پھیلا رکھا ہے۔ صبح اتوار ہے صفائی والی بھی نہیں آئے گی۔ 

"کیا ہوگیا بھابھی میں خود ہی اپنا کمرہ صاف کرسکتا ہوں بس ابھی جھاڑو لگا دوں گا”

کوئی ضرورت نہیں اس وقت جھاڑو لگانے کی مغرب ہونے لگی ہے۔ بھابھی نے قدرے سختی سے مذید کہا "نحوست ہوتی ہے”

"کمال ہے ہم لڑکے تو ہاسٹل میں رات کو ہی اپنے کمرے صاف کرتے تھے۔ کبھی کچھ برا نہیں ہوا”

لیکن بھابھی ہاتھ کے اشارے سے نہ کرتی ہوئی چل دیں۔ 

 دو ماہ بعد مجھے ملازمت مل گئی اور میں مصروف ہوگیا۔ سال گزر گیا ملازمت اچھی جا رہی تھی۔ ان دنوں بھابھی کے بھائی شہزاد کا رشتہ طے ہوا تھا اور اس کی شادی کی تاریخ مقرر ہونے کے حوالے سے گفت و شنید جاری رہتی تھی۔ آج بھی شہزاد گھر آیا ہوا تھا تاریخ مقرر ہو چکی تھی۔ اب شادی کی تقریبات زیر بحث تھیں۔ مہندی نکاح ایک ہی دن رکھنے کی خواہش تھی کہ لڑکا اور لڑکی دونوں مہندی کی تقریب میں شامل رہیں۔ دلہن کی چھوٹی بہن کا رشتہ بھی طے ہوگیا تھا اور اب ان دونوں کی رخصتی ایک ہی تقریب میں تھی۔ دونوں کے نکاح مہندی والے دن ہی طے پا رہے تھے۔ اب بھابھی متفق نہ تھیں۔ دو بہنوں کے نکاح ایک ساتھ نہیں ہونے چاہئے ورنہ کسی ایک کا گھر ٹوٹ جاتا ہے۔ بھابھی اس بات پراڑ گئی تھیں۔ آخر شہزاد نے اپنا نکاح مہندی سے ایک دن قبل کرنے پر سب کو آمادہ کر لیا۔ ابھی حتمی طور پر کچھ طے نہ ہوا تھا۔ بس مشورے اور تجاویز شامل بحث تھے۔ بھابھی کی خواہش تھی کہ ہماری برادری اتنی بڑی تو ہے نہیں۔ تو کیوں نہ آج کل کے رواج کے مطابق بارات اور ولیمہ کی تقریب اکٹھی کردی جائے۔ یوں وقت اور اخراجات کی بچت بھی ہوگی۔ ایک ہی تقریب میں دو فنکشن کردئیے جائیں اور اخراجات دونوں خاندان مل بانٹ کر کرلیں گے۔ شہزاد اس ٹرینڈ کے بالکل خلاف تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ ولیمہ کی تقریب رخصتی کے بعد الگ سے ہونی چاہئے۔ 

” آپی آپ تو بد شگونیاں گنتی رہتی ہیں۔ آپ کو نہیں لگتا کہ ہم بتائے گئے طریقے کو چھوڑ کر روایات اور رسوم پر چلیں تو اس کی نحوست ہماری زندگیوں پرکہیں نہ کہیں رہتی ہے” 

آخر بہن بھائی کی اس بحث میں بھابھی جیت گئیں۔ اب طے یہ پایا کہ شہزاد کا نکاح سادگی کے ساتھ مہندی سے ایک دن پہلے ہوگا اور پھر اس کی سالی کا نکاح مہندی والے دن ہوگا۔ اگلے روز رخصتی اور ولیمہ کی مشترکہ تقریب، جسے شلیمہ کا نام دیا گیا تھا، منعقد ہوگی۔ سب کچھ خیرو عافیت سے ہوگیا۔ شلیمہ سے اگلے روز شہزاد نے مجھے کال کرکے کہا کہ دو دیگیں غرباء و مساکین میں بانٹ دوں کہ اس کی رسم ولیمہ ادا ہوجائے۔ 

مجھے کمپنی کی طرف سے دو سال کے لئے باہر بھیجا جا رہا تھا اور بھابھی میری شادی کے لئے بے تاب ہورہی تھیں۔ وہ چاہتی تھیں میں شادی کرکے باہر جاؤں۔ جبکہ میں کسی کو انتظار کی سولی پرلٹکا کر نہیں جانا چاہتا تھا۔ واپس آکر شادی کرنے کا وعدہ لے کر میں دبئی چلا گیا۔ دو سال پر لگا کر اڑ گئے۔ میرے واپس آتے ہی بھابھی نے رشتوں کی لائن لگا رکھی تھی۔ ابھی کچھ اطمینان تو کرنے دیں۔ میں خود بھی اب شادی کے لئے تیار تھا۔  

شہزاد مجھ سے ملنے آیا اور جاتے جاتے شہزاد نے بھابھی سے کہا کہ اسکی سالی کے لئے بھی کوئی رشتہ تلاش کریں۔ 

” وہ تو منحوس ہے۔ جب پیدا ہوئی تھی تو اس کی والدہ انتقال کر گئیں۔ اسکا رشتہ دیکھنے جا رہے تھےوالد کا ایکسیڈنٹ ہوگیا ۔ اب شادی ہوئی تو ڈیڑھ سال گزرا ہے تو خاوند فوت ہوگیا۔ اس منحوس کا کیا رشتہ دیکھنا” بھابھی ایک ہی سانس میں اتنا زیر اگل گئیں۔ 

"آپی پلیز، کیسی فرسودہ باتیں کرتی ہیں آپ۔ اتنی اچھی لڑکی ہے ۔ یہ تو شکر ہے کہ دونوں بہنوں کا نکاح ایک ساتھ نہیں ہوا تھا ورنہ آپ نے اسے بھی اس کی بد شگونی کے کھاتے میں ڈال دینا تھا۔” 

شہزاد منہ بسورتے نکل گیا۔ اگلے دن شہزاد کے گھر گیا ۔ بھابھی سے ان کے بہنوئی کی وفات کا افسوس کیا۔ شہزاد نے اپنی سالی کے بارے جب بتایا تو میں اتنا متاثر ہوا کہ میں نے فیصلہ کرلیا کہ میں اس لڑکی سے نکاح کروں گا۔ 

اب بھابھی کو منانا ایک مشکل ترین مرحلہ تھا۔ اور یہ مشکل کسی طورسہل نہ ہورہی تھی۔ میں نے کرایے پر ایک چھوٹاسا گھر لے لیا۔ میں جانتا تھا بھابھی توہمات کی دنیا میں رہتی ہیں جہاں ہما کی کوئی گنجائش نہ تھی۔ ہما کی عدت ختم ہوتے ہی میں نے اس کے ساتھ سادگی سے نکاح کرلیا اور دعوت ولیمہ پر بھابھی کا منتظر تھا لیکن وہ نہ آئیں۔ میں کبھی کبھار ملنے چلا جاتا تھا لیکن بھابھی کی خفگی کم نہ یوئی۔ ڈیڑھ سال بعد اللہ نے مجھے پیاری سی بیٹی دی۔ آج میری بیٹی نے ہسپتال سے گھر آنا تھا۔شہزاد اور اس کی بیوی نے میرے گھر کو سجایا۔ 

مجھے اپنا گھر جنت سے کم نہیں لگ رہا تھا بس بھابھی جو ماں کا درجہ رکھتی تھیں ان کی کمی بہت محسوس ہوئی۔ 

اگلے روز دفتر جاتے ہوئے میرا بہت برا ایکسیڈنٹ ہوگیا۔ میری ٹانگ کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ مجھے تین ہفتے کے لئے بیڈ ریسٹ تجویز کردیا گیا۔ ابھی ہما خود چھلے میں تھی اور میں بھی بستر سے جا لگا۔ زندگی میں کچھ مشکلات آگئیں لیکن یہ آزمائش کاوقت تھا۔ شہزاد کی بیوی روز کچھ گھنٹوں کے لئے آتی ہما اور بھانجی کا خیال کرتی ۔ ملازمہ آکر اپنے کام کر جاتی۔ بھائی چکر لگاتے تھے لیکن میں نے انہیں بھابھی کو اس حادثہ کی اطلاع دینے سے منع کردیا تھا۔ مجھے ڈر تھا کہ وہ میری بیٹی کو اس حادثے کا ذمہ دار ٹھہرا کر منحوس قرار دے دیں گی۔ اپنی بیٹی کے لئے ایسے الفاظ میں کیسے برداشت کرسکتا تھا۔ بھائی کے دونوں بیٹے میٹرک کے بعد تعلیم کی غرض سے لاہورجا چکے تھے۔ وہ بھی فون پر رابطہ کر لیتے تھے۔ فیصل آباد جب بھی آتے میرے گھر ضرور آتے تھے۔ اس دوران بھابھی سے نہ مل سکا تھا۔ بس فاطمہ کی پیدائش پر مٹھائی دینے گیا تھا۔ پھر حادثے کی وجہ سے عقیقے کا گوشت بھی شہزاد کے ہاتھ بھیج دیا تھا۔ بھابھی نے میرے نہ آنے کا بہت شکوہ کیا تھا۔ اس دوران میں نے بھابھی سے ارادتاً رابطہ نہیں کیا تھا۔ فاطمہ ڈھائی ہفتے کی ہوگئی تھی آج میں اسے گود میں لئے وہیل چئیر پر گھر میں گھوم رہا تھا۔ ماشاءاللہ بہت چست تھی۔ جب بھی اس کے سامنے بات کرو تو ایسے ردعمل کرتی جیسے سب سمجھ رہی ہو۔اس کی کلکاریوں سے گھر میں رونق تھی۔ اسی دوران بھابھی کی کال اگئئ۔ مجھ سے نہ آنے کا شکوہ کرتے ہوئے مجھے پرایا ہونے کا طعنہ دے دیا۔ بھابھی سے اس بار میں نے بھی شکوہ کردیا کہ پرایا تو آپ نے ہمیں کردیا ہے۔ بھتیجی کو دیکھنے بھی نہیں آئیں۔ 

 فاطمہ اس دوران میری باتوں کے جواب میں آوازیں نکالنے لگی۔ بھابھی نے اس کی کلکاریاں سنیں تو کہنے لگیں تمہارے گھر تو بہت رونق لگی ہوئی ہے۔ پھر اپنے بیٹوں کی مصروفیات اور اپنے اکیلے پن کی بات کرنے لگیں۔ میں نے انہیں اپنے گھر آنے کی دعوت دی جسے وہ ہمیشہ کی طرح نظر اندازکر گئیں۔ میں نے کچھ دنوں میں چکر لگانے کی ہامی بھری کیونکہ کچھ دنوں میں پلستراتر جانا تھا۔ 

تین ہفتے بعد پلستر اتار دیا گیا لیکن میری ٹانگ میں ابھی کمزوری تھی۔ چلنے میں کچھ دقت تھی۔ میں نے آفس سے مذید چھٹی کی درخواست کی تو مجھے ملازمت سے ہی فارغ کردیا گیا۔ اور ستم یہ کہ اگلے روزمالک مکان نے بھی کرایے میں اضافے کا عندیہ بھیج دیا ، بصورت دیگر گھر خالی کرنے کا مطالبہ کردیا گیا۔ ایک نئی پارٹی زیادہ کرایے پر گھر لینا چاہتی تھی۔   

اس پے درپے پریشانی نے مجھے توڑ دیا۔ بیڈ پر لیٹی فاطمہ مجھے دیکھ کر مسکرا رہی تھی۔ جانے کیوں آج اسکی مسکراہٹ ایک آنکھ نہ بھائی، ایسا محسوس ہوا جیسے وہ مجھ پر ہنس رہی ہے۔ کیا واقعی یہ سب ہما اور فاطمہ کی نحوست ہے۔ بھابھی شاید ٹھیک ہی کہتی تھیں۔ جانے کیوں یہ خرافات میرے ذہن میں ڈیرہ ڈال رہی تھیں میں ان خرافات میں شاید مذید الجھ جاتا کہ دروازے کی گھنٹی نے مجھے سوچ کی وادی سے نکال دیا۔  

دروازے کی گھنٹی سن کر ملازمہ نے دروازہ کھولا، میں وہیل چئیر گھما کرکمرے سے نکلنے لگا تو سامنے بھابھی کھڑی تھیں۔ خوشی اور حیرت کی ملی جلی کیفیت میں مبتلا تھا۔ 

"میں اتنی پرائی ہوگئی ہوں۔ مجھے دوسروں سے پتا چل رہا ہے تمہارے حادثے کا۔ مجھے بتانا بھی مناسب نہ سمجھا” بھابھی نے فاطمہ پر نظر ڈالتے ہوئے مزید کہا۔ 

سنا ہے جب سے یہ پیدا ہوئی ہے تب سے تم ۔۔۔۔ ” 

"بھابھی پلیز” میں نے ان کی بات کاٹتے ہوئے التجا کی۔ 

"ٹھیک ہے میں تمہیں لینے آئی ہوں۔ ہما تو ویسے بھی بچی کو دیکھے گی یا تمہارا خیال کرے گی”۔ بھابھی نے فیصلہ کن انداز میں کہا 

"بھابھی ہماری نحوست سے آپ دور ہی رہیں تو اچھا ہے۔ ہم یہاں بہت خوش ہیں۔” ہما نے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے کہا

اس دوران فاطمہ خوب آوازیں نکال کر مسکرا رہی تھی جیسے ہماری گفتگو میں شامل ہو۔ 

 "نحوست تو میری سوچ میں تھی جس نے آج میرا گھرویران کردیا ہے۔ مجھے اکیلا کردیا ہے” 

بھابھی نے فاطمہ کو گود میں لیا اور مذید کہنے لگیں "دیکھتی ہوں کیسے نہیں چلتے میرے ساتھ 

 تمہارے گھر کی رونق ہی جب میں لے جاؤں گی تو اس کے بغیر یہاں کیسے رہو گے” 

میں نے حیرت سے بھابھی کو دیکھا تو وہ فاطمہ کو سینے سے لگائے مسکرا رہی تھیں اور میں اپنی کچھ دیر پہلے کی سوچ پرشرمندہ ہورہا تھا۔ 

فاطمہ بھابھی کی آواز پر ردعمل میں غوں غاں کرکے مسکرا رہی تھی۔ 

۔ بے اختیار بھابھی نے اسے مسکراتے ہوئے 

۔ فاطمہ کو بیڈ پر لٹا کرمجھے گھر چلنے کی تلقین کرنے لگیں۔ 

 

 

Author

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x