غزل
غزل | گھر سے پوچھا نہ ہی دفتر سے کسی نے پوچھا | فیضان ہاشمی

غزل
گھر سے پوچھا نہ ہی دفتر سے کسی نے پوچھا
میں کہاں ہوں مرے اندر سے کسی نے پوچھا
دکھ تو یہ ہے کہ مجھے خود بھی نہیں تھا معلوم
جو مرے بارے میں اکثر سے کسی نے پوچھا
آخرکار مجھے ڈھونڈنے آیا کوئی
میں کہاں رہتا ہوں اس گھر سے کسی نے پوچھا
خود سے جو کر نہیں پایا میں وہی ایک سوال
رات بھر میرے برابر سے کسی نے پوچھا
اس خزانے کو کسی طرح چھپا لو خود میں
آخری بار سمندر سے کسی نے پوچھا
دل سے فوسل کی کسی نے بھی نہ فریاد سنی
تم ہو کس دور کے پتھر سے کسی نے پوچھا
آئینے سے تو کیا کرتے ہو ہر روز سوال
آنکھ کے بارے میں منظر سے کسی نے پوچھا ؟




