غزل
غزل | بِیچ سڑک پر اُلجھن میں ہیں جیسے بھٹکے ہوتے ہیں | فیصل محمود
غزل
بِیچ سڑک پر اُلجھن میں ہیں جیسے بھٹکے ہوتے ہیں
ہم نے ایسا کیوں نہیں سوچا ،رستے رستے ہوتے ہیں
میں ہُوں ,میری تنہائی ہے ,اور اِک میرا سایہ ہے
کوئی اپنا ساتھ نہیں ہے ,جیسے اپنے ہوتے ہیں
مُجھ کو اچھا کہنے والے شاید تُجھ کو علم نہیں
پہلے پہلے ملنے والے سارے اچھے ہوتے ہیں
جتنا مُمکن ہو سکتا تھا خُود کو رستہ دِکھلایا
آخر ہم پر بھید کُھلا کچھ لوگ ہی اندھے ہوتے ہیں
گلیوں گلیوں پھرنے سے کب عشق مکمل ہوتا ہے
منزل اُن کو ملتی ہے جو ایک ہی در کے ہوتے ہیں




