نظم
گورنمنٹ کالج ساہیوال کے نام ایک نظم | مہرعلی

گورنمنٹ کالج ساہیوال کے نام ایک نظم
میں ترے فرشِ خوابیدہ پر رقص کرتی بہاروں کا ہم راز ہوں
اور تو میری آنکھوں میں بہتی ہوئی اُس تھکن کا
کبھی جو کسی پر نہیں کُھل سکی
اے چمکتے گلابوں سے روشن چمن
اب ترے در پہ میں اس تھکن کا اندھیرا نہیں لاؤں گا
میں دوبارہ نہیں آؤں گا !!
یہ گزر گاہ،
جو چھ برس تک مرے دل کے خاموش بَن میں ہرے پنچھیوں کی طرح چہچہاتی رہی
میرے قدموں کی آواز سے خالی ہو جائے گی
چھوڑ جائے گی سینے میں ایسا خلا
جو کبھی بھر نہیں پائے گا
اے ہمیشہ خزاؤں کی برسات میں بھیگتے گوشہء پر سکوں!!
میں تری
زرد پتوں بھری یہ پر اَسرار سی سرسراہٹ کبھی سن نہیں پاؤں گا
میں دوبارہ نہیں آؤں گا




