غزل
غزل | نظر نظر سے ملائے میں شعر کہتا ہوں | محمد عامر اعوان

غزل
نظر نظر سے ملائے میں شعر کہتا ہوں
وہ صرف دیکھتا جائے میں شعر کہتا ہوں
اسے ہے ناز اگر اپنی نازکی پہ بہت
تو میرے سامنے آئے میں شعر کہتا ہوں
وہ آرہا ہے تو آئے خوش آمدید اس کو
وہ جارہا ہے تو جائے میں شعر کہتا ہوں
گھنی اداسی کے تاریک پہلو ؤں پہ کبھی
مجھے وہ دیتا ہے رائے میں شعر کہتا ہوں
کبھی تو سامنے ہوتی ہیں وہ غزال آنکھیں
کبھی تو شعر برائے میں شعر کہتا ہوں
تمہارے ہجر کے ردّ ِعمل کی صورت میں
کسی نے اشک بہائے،میں شعر کہتا ہوں




