غزل
غزل | ہر ستارے پہ کسی گھر سے کوئی جاگتا ہے | فیضان ہاشمی
غزل
ہر ستارے پہ کسی گھر سے کوئی جاگتا ہے
رات ہوتی ہے تو اندر سے کوئی جاگتا ہے
بھیج دیتا ہے کوئی خلد سے خوابوں کے پرند
یعنی اس شہرِ سخنور سے کوئی جاگتا ہے
آنکھ لگ جائے بھی تو سو نہیں پاتا ہے دماغ
ہر گھڑی سوچ کے محور سے کوئی جاگتا ہے
خواب لٹ جانے کا اس شہر میں ہے خوف کسے
لوگ سو جاتے ہیں اوپر سے کوئی جاگتا ہے
بے خطر جاگتے رہنا بھی کوئی جاگنا ہے
نیند آجائے گی اس ڈر سے کوئی جاگتا ہے




