غزل
غزل | میں بھیڑیے کی صدا جاگنے پہ سنتا ہوں | زاہد خان
غزل
میں بھیڑیے کی صدا جاگنے پہ سنتا ہوں
گڈریا خواب میں سچی صدا لگاتا ہے
وہ جست بھرتی ہے حیرانیوں کے جنگل میں
عقب میں کوئی وہاں قہقہہ لگاتا ہے
ٹھہر کے پوچھیں گے اجڑے ہوؤں کا قصّہ بھی
یہ کاروبارِ جہاں گر خدا لگاتا ہے
سنورنے لگتی ہے دنیا خراب حالوں کی
وہ آسمان میں جب آئینہ لگاتا ہے
یہ دیکھنا ہے وہ آنکھوں سے روشنی چُن کر
نظارۂ شبِ امکاں میں کیا لگاتا ہے
بدن میں موجِ خجستہ جو سر اٹھاتی ہے
تو شور و شر میں سمندر صدا لگاتا ہے




