
میں بچپن سے ہی کمزور، دبلا پتلا سا بچہ تھا۔ اتنا ناتواں کہ امی جب مجھے ساتھ باہر لے جاتیں تو دوپٹے کے پلو سے باندھ لیتیں — کہ کہیں تیز ہوا آئی تو اُڑا ہی نہ لے جائے۔
تھوڑا بڑا ہوا تو اسکول میں داخل کرا دیا گیا۔ وہاں سب مجھے عجیب نظروں سے دیکھتے۔ کبھی استاد امی سے سوال کرتے، کبھی بچے۔
کچھ دنوں بعد تو کمرۂ جماعت کے بچے بھی بول پڑے۔
"یہ تو ہر وقت بیمار لگتا ہے،”
"اس کے پاس نہ کھڑے ہو، کہیں چھینک ماری تو اُڑ جائے گا!”
کچھ نے تو مجھے "سوکھا تیلا” کہنا شروع کر دیا۔
وقت گزرا۔ پانچویں جماعت میں ایک نیا لڑکا آیا — جمال۔ وہ لنگڑا کر چلتا تھا۔ پیروں میں پیدائشی نقص تھا۔ بچوں نے اسے فوراً "لنگڑ دین” کا لقب دے دیا۔
پتہ نہیں کیوں، مجھے اس سے انسیت محسوس ہوئی۔ شاید اس لیے کہ ہم دونوں کسی نہ کسی وجہ سے سب کے مذاق کا نشانہ بنتے تھے۔ ہم دوست بن گئے۔ ہم ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھاتے، دل دکھتا تو چپ چاپ ساتھ بیٹھ جاتے۔ میں ریاضی میں اچھا تھا، اسے انگریزی پسند تھی۔ یوں ہم ایک دوسرے کی مدد بھی کرتے۔
پھر ساتویں میں ایک اور بچہ آیا — منظور۔ نظر کمزور تھی، چشمہ لگاتا تھا۔ بچوں نے فوراً اسے "چشمش” کہنا شروع کر دیا۔
لیکن منظور الگ نکلا۔ کسی کی بات کا برا نہ مناتا۔ بس مسکراتا رہتا۔
آہستہ آہستہ وہ بھی ہمارا دوست بن گیا۔
منظور کی آواز بہت اچھی تھی۔ تقریر ہو یا نعت، وہ ہر پروگرام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا اور اکثر انعام لے جاتا۔
ہم تینوں نے مل کر میٹرک کی تیاری کی۔ خوب محنت کی، دل لگا کر پڑھا۔ اور نتیجہ بھی ویسا ہی آیا — تینوں نے اچھے نمبر حاصل کیے۔ آگے کمپیوٹر میں داخلہ ملا، گورنمنٹ کی طرف سے وظیفہ بھی شروع ہو گیا۔
ہم سب کا خواب ایک تھا: آئی ٹی میں آگے بڑھنا۔ ہمارے گھروں کی حالت کچھ خاص نہیں تھی، آمدنی اوسط سے بھی کم، لیکن ہم چاہتے تھے کہ اپنے خواب خود پورے کریں — اور اپنے والدین کے خواب بھی۔
کالج کے دن اچھے گزر رہے تھے، لیکن جیسے ہی یونیورسٹی میں قدم رکھا، دنیا تھوڑی الگ نکلی۔
سب سے پہلے صدمہ منظور کو ملا۔ گائیکی کے مقابلے میں اس نے دل سے شرکت کی۔ آواز، سر، سب کچھ بہترین تھا۔ لیکن جیتا وہ لڑکا جس کے رشتے دار اساتذہ میں تھے۔ منظور کا مائک جان بوجھ کر خراب کر دیا گیا۔ سب کچھ ساز باز سے ہوا۔
منظور ہار گیا، اپنی غلطی سے نہیں — دوسروں کی چالاکی سے۔
پھر جمال کے ساتھ ہوا۔ مضمون نویسی کے مقابلے میں اس کا لکھا مضمون کسی اور کے نام سے بھیج دیا گیا۔ پیسے، سیاست، سفارش — سب کچھ کھیل میں تھا، بس حق نہیں۔
میں مقابلوں میں ویسے ہی تھوڑا گھبراتا تھا، لیکن ایک دن ایک استاد نے لالچ دیا:
"دس ہزار روپے لے لو، کسی اور کے بدلے امتحان دے دو۔”
میں نے ہاں کر دی۔
پیسے ملے، نمبر کسی اور کو۔
یہ پہلا قدم تھا ایک ایسی راہ پر، جہاں سے واپس مڑنے کا دل ہی نہیں کیا۔
یونیورسٹی کے چار سالوں میں ہم نے سیکھا — یہاں اصل قابلیت نہیں چلتی، چلتے ہیں تعلقات یا نوٹ۔
ہم تینوں ذہین تھے، اس لیے سب کو ہماری ضرورت تھی۔ کوئی پیپر بنوانا چاہتا، کوئی اسائنمنٹ۔
ہم پیسے لیتے، کام کرتے۔
پھر منظور اور میں نے ایک نیا ہنر سیکھ لیا — ہیکنگ۔
ٹیچرز کے سسٹمز تک رسائی مل گئی۔ امتحان، نتائج، سب ہاتھ میں۔
ہم نے بہت محدود لوگوں سے رابطہ رکھا — وہی جو بول نہ سکیں، اور پیسے دے سکیں۔
جمال لکھنے میں ماہر تھا۔ وہ تھیسس تیار کرتا، پراجیکٹس بیچتا۔
رفتہ رفتہ لڑکیاں بھی قریب آئیں۔ پہلے صرف مدد کے لیے، پھر دوستی کے لیے۔
ہم بدل چکے تھے۔
جو کبھی سادہ، صابر، شکرگزار تھے، اب روپیہ، طاقت اور تعلقات کے دیوانے بن چکے تھے۔
گھر والوں نے کبھی پوچھا تو جھوٹ بول دیا۔
انہیں بس اتنا معلوم تھا کہ ہم "اچھا کما رہے ہیں”۔
پانچواں سال شروع ہوا — ہم سینئرز بن چکے تھے، اور اب یونیورسٹی میں ہماری چلتی تھی۔
تب ایک دن ایک عجیب ای میل آئی — ایک بیرون ملک کمپنی کی طرف سے۔
"ہم آئی ٹی گریجویٹس کو امریکہ میں ملازمت کا موقع دے رہے ہیں، کامیاب امیدواروں کو اسکالرشپ اور ویزا دیا جائے گا۔”
ہم تینوں نے فوراً اپلائی کیا۔ فیس دی، ٹیسٹ دیا — اور "کامیاب” ہو گئے۔
لیکن حقیقت کچھ اور نکلی۔
ایک دن یونیورسٹی میں پہنچے تو سیکیورٹی نے روک لیا۔
ہم سمجھے شاید کوئی سیکیورٹی چیک ہے، لیکن سیدھا ہمیں دفتر لے جایا گیا۔
پولیس اور سائبر کرائم کا عملہ وہاں موجود تھا۔
پتہ چلا وہ کمپنی جعلی تھی — اور اس کا مقصد تھا ایسے طلبہ کو بے نقاب کرنا جو ہیکنگ یا دھوکہ دہی میں ملوث تھے۔
ہمارے میسیجز، پیمنٹ کی تفصیل، سب کچھ ان کے پاس تھا۔
ہمیں یونیورسٹی سے نکال دیا گیا۔ ڈگریاں منسوخ ہو گئیں۔ ملازمتیں ہاتھ سے گئیں۔ کیس چلا، سزائیں ہوئیں۔
ہم وہ بن چکے تھے، جو ہم نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔
ہمیں جس دنیا نے لبھایا تھا، وہی ہماری بربادی کا سبب بنی۔
انجام؟
میں جیل گیا۔
جمال کا ذہنی توازن خراب ہو گیا۔
منظور، اپنی تمام صلاحیت کے باوجود، کہیں بھی عزت سے قدم نہ جما سکا — جہاں جاتا، اس کی شہرت پہلے پہنچتی۔
اور سب سے بڑا دھوکہ؟
ہم نے ایک دوسرے کو نہیں دیا، خود اپنے آپ کو دیا ۔




