غزل
غزل / گھر کی ہر ایک چیز گلی میں نہ بانٹنا / حارث بلال
غزل
گھر کی ہر ایک چیز گلی میں نہ بانٹنا
دیوار بانٹ لینا دراڑیں نہ بانٹنا
دریا کے راستے میں بسانا نہ بستیاں
بارش کے برتنوں میں شرابیں نہ بانٹنا
اپنی کمائی اور وراثت میں فرق ہے
لوگوں میں خواب بانٹنا، آنکھیں نہ بانٹنا
رستے میں اک رئیس پڑا مل گیا مجھے
کہتا تھا زندگی میں زمینیں نہ بانٹنا
کچھ خیر بانٹنے کو بھی تہذیب چاہیے
جوتوں کے شاپروں میں کتابیں نہ بانٹنا
سورج کی دھوپ جیسا نہیں ہے دیوں کا نور
ہرگز کسی سے اپنی منڈیریں نہ بانٹنا
کوئی ندی ہو، باغ ہو، صحرا ہو یا پہاڑ
حارث کسی سے بھی مری یادیں نہ بانٹنا




