غزل
غزل / کھولے گا دل کی گرہیں تو باندھے گا شعر سے / اجمل فرید
غزل
کھولے گا دل کی گرہیں تو باندھے گا شعر سے
قطرے لہو کے آنکھ تک آتے ہیں دیر سے
گہرائی سے نکلتا ہے نقطہ عروج کا
اونچائی کا بھی فلسفہ ملتا ہے زیر سے
سیدھا تلازمہ ہے چمک کا نظر کے ساتھ
آنکھوں کی پتلیوں کا تمھاری منڈیر سے
اس کے لبوں پہ میری برائی بھی سج گئی
میں نے گلاب چن لیے کانٹوں کے ڈھیر سے
سرکس چلا رہے ہیں صحافت کے نام پر
گیدڑ کو خون خار دکھاتے ہیں شیر سے
اس عمر میں چراغ اندھیرے کی زد میں ہے
اور تم بھی اس اجالے میں آئے ہو دیر سے
الجھے رہیں گے سب تری ہاں اور نہیں کے بیچ
لگ جائیں گے کنارے اسی ہیر پھیر سے




