انڈین عسکری قیادت کے ’اشتعال انگیز‘ بیانات خطے کے لیے خطرہ: پاکستانی فوج/ اردو ورثہ
پاکستان کی فوج نے بدھ کو انڈیا کی عسکری قیادت کے حالیہ بیانات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے بے بنیاد بیانات سے خطے کے امن و استحکام کو خطرہ ہے۔
انڈین سول اور فوجی قیادت کی جانب سے حال ہی میں متعدد بیانات سامنے آئے، جن میں رواں برس مئی میں دونوں ملکوں کے درمیان ہونے والی جھڑپوں کا ذکر کرتے ہوئے پاکستان سے متعلق جارحانہ اور اشتعال انگیز رویہ اختیار کیا گیا۔
حال ہی میں انڈیا کے وزیر دفاع دفاع راج ناتھ سنگھ نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان سرکریک کے قریب کے علاقوں میں فوجی انفراسٹرکچر تعمیر کر رہا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے دھمکی دی کہ کسی مہم جوئی کی صورت میں پاکستان کو سخت جواب دیا جائے گا۔
دوسری جانب انڈین آرمی چیف جنرل اپیندر دوایدی نے بھی گذشتہ دنوں پاکستان کو خبردار کیا تھا کہ اگر وہ ’ریاستی سپانسرڈ دہشت گردی‘ بند نہیں کرتا تو اسے نقشے سے مٹا دیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا تھا کہ اس بار انڈین افواج ’کوئی تحمل یا بردباری نہیں دکھائیں گی۔‘
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے بدھ کو ایک بیان میں انڈیا کی فوجی قیادت کی حالیہ بیانات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ’جھوٹ پر مبنی‘، ’اشتعال انگیز‘ اور ’انتخابی مقاصد کے تحت دیے گئے بیانات‘ قرار دے کر مسترد کر دیا۔
’ایسے بے بنیاد بیانات خطے میں امن و استحکام کے لیے خطرہ ہیں اور جوہری قوت رکھنے والے ملک کی فوجی قیادت کو سیاسی دباؤ میں غیر ذمہ دارانہ بیانات سے گریز کرنا چاہیے۔‘
آئی ایس پی آر کے بیان میں کہا گیا کہ ’یہ بات انتہائی تشویش کے ساتھ نوٹ کی گئی ہے کہ معرکہ حق کے پانچ ماہ بعد بہار اور مغربی بنگال میں انتخابات کے دوران، انڈین فوجی قیادت نے وہی فریب کاری، من گھڑت اور اشتعال انگیز پروپیگنڈہ کرنا شروع کر دیا ہے، جو وہ انڈیا میں ہر ریاستی انتخابات سے پہلے کرتے ہیں۔‘
پاکستانی فوج نے کہا کہ ’جوہری ہتھیاروں سے لیس ملک (انڈیا) کی عسکری قیادت کے انتہائی سیاسی دباؤ میں غیر ذمہ دارانہ بیانات جاری کرنا افسوس ناک ہے۔
’ایسا لگتا ہے کہ انڈین فوج اور سیاسی قیادت اس بات کو تسلیم نہیں کر پا رہی ہے کہ انہیں معرکہ حق میں فیصلہ کن شکست ہوئی ہے اور ان کا جھوٹ پوری طرح بے نقاب ہو چکا ہے۔ دنیا اب انڈیا کو سرحد پار دہشت گردی کے حقیقی چہرے اور علاقائی عدم استحکام کے مرکز کے طور پر تسلیم کرتی ہے، جو اپنے عوام اور اس کے پڑوسیوں کو نقصان پہنچانے کے لیے مہم جوئی اور تسلط پسندی پر تلا ہوا ہے۔‘
پاکستانی فوج نے انڈیا کی سیاسی و عسکری قیادت کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ ’جارحیت کے ہر عمل سے فوری، پرعزم اور شدید ردعمل سے نمٹا جائے گا، جسے آنے والی نسلیں یاد رکھیں گی۔‘
انڈیا نے اپریل میں ہونے والے پہلگام حملے کو جواز بنا کر چھ اور سات مئی کو پاکستان کے مختلف مقامات پر حملے کیے تھے، جس پر اسلام آباد نے بھرپور جوابی کارروائی کی اور پاکستانی فضائیہ نے انڈیا کے چھ طیارے مار گرائے تھے۔ بعدازاں 10 مئی کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی میں دونوں ملک جنگ بندی پر متفق ہوئے۔
پاکستان پہلگام حملے میں ملوث ہونے کے الزام کی تردید کرتے ہوئے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کرتا آیا ہے۔




