نظم
دسمبر کا مہینہ ہے / نسیم عباسی
دسمبر کا مہینہ ہے
دسمبر کا مہینہ ہے
درختوں کی ہری شاخوں سے
پتے یوں جھڑے ہیں
شجر ننگے کھڑے ہیں
مسلسل برف باری ہو رہی ہے
کوئی بوڑھا
ٹھٹھرتا کانپتا
کھڑکی سے باہر سارا منظر دیکھتا ہے
جواں لڑکی
برابر برف کے گولے بنا کر
ہم سِنوں پر پھینک دیتی ہے
اسے سردی نہیں لگتی
کہ اس کا خون تازہ ہے
درختوں پر پرانے گھونسلے خالی پڑے ہیں
ضعیف آنکھوں کی بے مقدور بینائی تاسف سے فضا میں رینگتی ہے
نیا موسم پرانی یاد تازہ کر رہا ہے



