اُردو ادبکہانی

نفس مطمئنہ / الماس شیریں ، بہاول پور

خواہشیں  انسان کو پاگل بنانے کی صلاحیت رکھتی ہیں ۔کبھی امید چھین کر اور کبھی اسکی روح بجھا دیتی ہے ۔
معصومہ ایک جھٹکے سے اٹھی اسکا جسم ہلکے ہلکے کانپ رہا تھا ۔شدید سردی میں اسے پسینہ آیا ہوا تھا۔ پھر آواز
آئ صرف اللہ کا حوصلہ ہی اصل ہے ۔باقی سب حوصلے فانی ہیں ۔معصومہ دوڑ کر ماں کی گود میں ہچکیاں لیکر
رونے لگی اماں جان نے اسے رونے دیا ۔معصومہ کی دھیمی سسکی ابھری میرے ساتھ ہی یہ سب کیوں ہوا۔
اماں نے تھپکی دی اور کہا دھیے جو تمھارے لیے بہتر نہی تھا۔اللہ کیسے دے دیتا اتنا شکوہ کس لیےمگر معصومہ
کا دل احد پر اٹکا ہوا تھا۔دونوں یونیورسٹی میں ساتھ پڑھتے تھے۔معصومہ حسین ہونے کے ساتھ ذہین بھی تھی۔
احد مائگریٹ ہو کر آیا تھا۔ انتہائ سلجھا ہوا ۔احد سب کا خیال رکھتا یہی خوبی معصومہ کو بھا گئ۔دونوں کی
دوستی ہوگئ ۔معصومہ کی سوچ بہت آگے نکل چکی تھی۔وہ ہر کام احد کی مرضی سے کرتی۔دن گزرتے گیے فائنل
ایگزام شروع ہو گیے۔یونیورسٹی کے بعد سب نے چلے جانا تھا۔وہ احد کے پاس آئ بولی ہم ایک دوسرے کے بغیر کیسے
رہیں گے ۔ احد بولا پگلی جانا تو ہے نا گھر ۔معصومہ اسکی شکل دیکھ رہی تھی۔اس نے فیصلہ کیا بولی میں تم سے
محبت کرتی ہوں شادی بھی تم سے کرونگی ۔چٹاخ تھپڑ پڑا اور حقارت بھری آواز میں بولا میری
ماں ٹھیک کہتی ہے کہ شہر کی لڑکیاں پڑھنے کے بہانے رشتے ڈھونڈنے آتی ہیں ۔میں تم جیسی لڑکی سے شادی کرونگا
ہمارے خاندان کی لڑکی کا بال بھی نامحرم نہی دیکھتا اور تم نامحرموں کے ساتھ ہنسی مذاق اور دوستیاں کرتی ہو۔
تم ہو اس قابل کہ شریف خاندان کا حصہ بنو وہ نفرت سے بولتا اس معصوم کی ذات کی دھجیاں بکھیر دی۔ معصومہ
بکھرے دل و دماغ کو سمیٹتی گھر پہنچی پھر برداشت ختم ہو گئ۔ ہوش آیا تو ہسپتال میں اپنے پیاروں کو پریشان دیکھ
کر خود سے اور نفرت ہونے لگی ۔اس نے اپنی ماں کو دکھ بتایا مگر اس میں کھونے کا دکھ نا تھا۔اپنی ذات کی بے وقعتی
کا دکھ تھا ۔اسکی پاک روح پر گھرا گھاو لگا تھا۔ اس گھاؤ نے اللہ کے قریب کر دیا۔اب نماز قران اور تفسیر اسکا مقصد تھا۔
آہست آہستہ روح میں سکون اترنے لگا۔وہ پڑھ رہی تھی۔جو کسی کے ساتھ غلط نہی کرتا اللہ اسکے ساتھ بھی زیادتی نہی
ہونے دیتا۔ اگر تمھاری ضد کی اصلیت اللہ ظاہر نہ کرتا تو تمھاری زندگی کیسے ہوتی ؟یہ سوچ کر ہی معصومہ کو جھرجھری آگئ۔ بے شک اللہ نے پاک روح کے لیے پاک روح ہی منتخب کی ہے ۔معصومہ کے چہرے پر اطمینان اور سکون تھا۔

Author

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x