غزل
غزل / تو ہنس رہا تھا اور میں حیرت کدے میں تھا / وسیم نادر
غزل
تو ہنس رہا تھا اور میں حیرت کدے میں تھا
شامل لہو کا رنگ ترے قہقہے میں تھا
میں خوشبوؤں کے ذکر پہ خاموش ہی رہا
حالانکہ ایک پھول مرے حافظے میں تھا
وہ چل رہا تھا غیر کے شانے پہ سر رکھے
میں بھی کسی کے ساتھ اُسی قافلے میں تھا
آنکھیں تمام اشکِ ندامت سے بھر گئیں
چہرا کوئی اداس مرے آئینے میں تھا
جس وقت لگ رہے تھے مرے دل پہ خوب زخم
اس وقت میں یقین کے اندھے نشے میں تھا




