غزل

غزل / جھوٹ کہتے ہیں کہ آواز لگا سکتا ہے / ساجد رحیم

غزل

 

جھوٹ کہتے ہیں کہ آواز لگا سکتا ہے 

ڈوبنے والا فقط ہاتھ ہلا سکتا ہے 

 

اور پھر چھوڑ گیا وہ جو کہا کرتا تھا 

کون بدبخت تجھے چھوڑ کے جا سکتا ہے 

 

راستہ بھولنا عادت ہے پرانی اس کی 

یعنی اک روز وہ گھر بھول کے آ سکتا ہے 

 

شرط اتنی ہے کہ تو اس میں فقط میرا ہو 

پھر تو اک خواب کئی بار دکھا سکتا ہے 

 

آنکھ بنتی ہے کسی خواب کا تانا بانا 

خواب بھی وہ جو مری نیند اڑا سکتا ہے

 

اس نے کیا سوچ کے سونپا ہے کہانی میں مجھے 

ایسا کردار جو پرده بھی گرا سکتا ہے 

 

میرے رزاق سے کرتی ہے مری بھوک سوال 

کیا یہیں رزق کے وعدے کو نبھا سکتا ہے 

 

تم نہ مانو گے مگر میرے چلے جانے پر 

اک نہ اک روز تمہیں صبر بھی آ سکتا ہے

Author

  • توحید زیب

    روحِ عصر کا شاعر ، جدید نظم نگار ، نظم و غزل میں بے ساختگی کے لیے مشہور

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x