نظم

رات کا طلسمِ شر انگیز / قرۃالعین شعیب

رات کا طلسمِ شر انگیز

 

اندھیرے کی آنکھیں نہیں ہوتیں 

لیکن وہ سب کچھ دیکھ لیتا ہے 

اور چھپا لیتا ہے 

سارے شہر کے راز 

اور صبح ہوتے ہی 

سمیٹ کر لے جاتا ہے 

اپنے ساتھ 

جرائم کی ساری دستاویزات 

سستے ہوٹلوں میں پڑنے والے چھاپے 

جھوٹی کارروائیاں

اخبارات کی سنسر ہو جانے والی سرخیاں 

اور موبائل فونوں میں بجنے والی 

ناپختہ محبت!

Author

  • توحید زیب

    روحِ عصر کا شاعر ، جدید نظم نگار ، نظم و غزل میں بے ساختگی کے لیے مشہور

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x