اُردو ادبافسانہ

خوراک/ شبیر علوی

ٹیلی ویژن کی اسکرین پر دکھائے جارہے مناظر سے دماغ میں اس قدر تیزی سے سوال پیدا ہونے لگے کہ دلچسپی اگلے منتظر کے بجائے سوالات کے جواب سے منسلک ہوگئی ۔
رات کے دو بج رہے تھے , میز پر موجود تھرماس میں سے نصف کپ چائے انڈیل کر چائے کی چسکی لگاتے ہوئے اپنی محدود سی لائبریری میں موجود کتابوں متعلق سوچا اٹھنے والے سوالوں کے جواب موجود کتابوں میں نہیں تھے ۔ یہ کتابیں کچھ کام کی نہیں یا پھر شاید میرے کام کی نہیں , افسانوں داستانوں اور جمالیات پر شاعروں کے خیالات والی کتابیں ہیں ۔ کسی کو دے دینا چاہیے ۔ مجھے یہ کتابیں نہیں بلکہ تعمیری تخلیقی, تحقیقی, علم والی کتابیں پڑھنا چاہیے۔ چائے پیتے ہوئے مجھے یہ خیال آیا۔ باہر گلی میں کتے کی بھونک پر توجہ دوبارہ ٹی وی اسکرین کی طرف ہوئی جہاں جنگل میں ہرنی اپنی جان بچانے جبکہ ایک شیر اپنی بھوک مٹانے کےلیے بھاگ دوڑ کرتے دکھائے جا رہے ہیں ۔۔۔۔
اس ٹی وی چینل پر مختلف جانوروں کو ایک دوسرے کو مارتے کھاتے دکھایا جا رہا تھا ۔
میرے لیے یہ بات بڑی تعجب خیز تھی کہ شیر جسے بہادری و طاقت کی علامت سمجھا جاتا ہے ۔ بھوک کے تقاضے سے مجبور ہوکر خود سے کئی گنا کمزور , خوبصورت نازک و کومل ہرنی کے پیچھے اپنی بقا کے لیے بھاگ رہا ہے ۔ اور یہ ظلم بھی نہیں کہلائے گا ۔۔ مجھے جانوروں کے حقوق پر بولنے والوں پر ایک ہنسی سی آئی کہ ہرنی کے حق میں یہاں شیر کے خلاف وہ کچھ نہیں کہیں گے ۔۔
میرا دھیان اپنے کمرے میں چل رہے مچھر مار میٹ کی طرف بھی گیا ۔۔ گلی میں کتا مسلسل بھونکے جا رہا تھا ۔ رات کے اس پہر کتے کا یوں بھونکنا کسی خطرے سے خبردار کرنا ہے ۔ مگر خطرہ ہے کیا, اور یہ خطرہ کتے کو ہے یا پھر گلی میں بسنے والے انسانوں کو ۔
مجھے کتے کی انسانوں سے تعلق داری کا بھی خیال آیا,
اسکرین پر پانی میں سے مچھلی کو اپنی چونچ سے قابو کرکے نگلتے ہوئے پرندہ دکھایا جا رہا تھا ۔
باہر گلی میں کتے کا مسلسل بھونکنا ایک الگ تشویش پیدا کر رہا تھا ۔
اسکرین پر بدلتے مناظر مگر کہانی ایک ہی تھی کہ جنگل کے باسی ایک دوسرے کی خوراک ہونے کے ساتھ ساتھ ایک دوجے کے وجود کا سبب بھی ہیں ۔
گوشت خور تو انسان بھی ہیں لیکن ہم انسان اس لیے ان سب سے بہتر ہیں کہ انسان ایک دوسرے کو نہیں کھاتے بلکہ جانوروں کو کھاتے ہیں۔۔۔
جانور انسانوں کےلیے بڑے فائدہ مند ہیں ۔ اور انسان کے سہولت کار بھی ہیں ۔ مجھے دادی اماں اچانک یاد آ گئیں جو گھوڑے پر سوار شہزادے والی داستان اکثر سنایا کرتی تھیں ۔۔ گھوڑے کی بھی ایک زمانے میں اپنی ہی شان تھی جب اس پر سوار بھلے کوئی الو ہی کیوں نہ ہوتا شہزادہ کہلاتا تھا ۔۔ گھوڑے اور ہاتھی کا بھی انسانوں سے گٹھ جوڑ بہت پہلے کا ہے ۔
جب انسان ایک دوسرے پر سبقت لیجانے کےلیے رن سجاتے تھے ہاتھی گھوڑے بطورِ ہتھیار ان کےساتھی ہوتے تھے ۔
میرے لیے یہ خیالات مختلف سوالات بہت دلچسپ تھے , کتے کا بھونکنا اب اس میں خلل ڈال رہا تھا , مجھے گلی میں جا کر کتے کو بھگانا یا چپ کرانا چاہیے , لیکن رات کے اس پہر یوں محض قلم کان میں اڑیس کر باہر نکلنا مناسب نہیں , کیوں مناسب نہیں یہ ایک نیا خیال سوال یا پھر خوف تھا ۔ جس نے مجھے باہر جانے سے روک دیا ۔ میں نے پلنگ پر آرام سے سو رہی اپنی بیوی کو دیکھا, بڑا سکون تھا اس کے چہرے پر, میں جاگ رہا ہوں اس بات کا میرے پاس کوئی جواب نہیں کہ میں ابھی تک کیوں جاگ رہا ہوں کیا کر رہا ہوں اور جو کچھ کر رہا ہوں وہ ضروری ہے بھی کہ نہیں, دیوار میں نصب آئینے میں مجھے اپنےچہرے پر اضطراب نظر آیا ۔
ٹی وی اسکرین پر عقاب کو اپنی خوراک حاصل کرتے ہوئے دیکھ کر میرے ذہن میں پوشیدہ ایک سوال کہ سب سے بڑی طاقت کیا ہے کا جواب آگیا کہ دوسرے کی کمزوری تمہاری سب سے بڑی طاقت ہے۔
کپ میں رہ گئی چائے جو اب قدرے ٹھنڈی ہوچکی تھی کا آخری گھونٹ بھرا اور کاغذ پر قلم کی نوک کو چلانا شروع کردیا ۔ خوراک ضرورت ہے یا خواہش ؟ جانور دوسرے جانور کو کھا جاتے ہیں کیونکہ یہ ان کی جبلت فطرت ضرورت ہے ۔ زندہ رہنے کےلیے انسان کی خوراک تو انسان نہیں بلکہ دیگر اشیاء ہیں پھر انسان کا انسان پر ظلم کیوں ۔؟
کیوں یہ لسانی مذہبی علاقائی بنیاد پر انسان دوسرے انسان پر فوقیت حاصل کرکے اپنا تسلط قائم کرنا چاہتا ہے ۔ یہ فطرت ہے یا خودساختہ ۔۔
قلم دماغ کی رفتار سے چل رہا تھا گلی میں کتے کے بھونکنے کا تسلسل ٹوٹ چکا تھا ۔
میں نے اپنے کندھے پر کچھ محسوس کیا سر گھما کر دیکھا تو میری بیوی اپنا سر میرے کندھے پر رکھ کر کچھ کہہ رہی تھی ۔
ان کتابوں کی لت نے آپ کو کتنا بے حس کر دیا ہے ۔ سکون کی خاطر بنی رات تک بھی کتابوں میں گزر گئی ۔ ان کتابوں نے آپ کو یہ علم نہیں سکھایا کہ اپنے ساتھ رہنے بلکہ جینے والے انسان کا بھی کوئی حق ہے ۔
میرا چل رہا قلم رک گیا خیالات کا تسلسل ٹوٹ گیا گلی میں بھونک رہے کتے کو بھی چپ لگ چکی تھی گھڑی پر وقت دیکھا تو نئی صبح ہونے ہی والی تھی۔

Author

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x