اُردو ادبافسانہ

بارھواں بھائی/ رانا سرفراز احمد

وہ ابتدائی سردیوں کی ایک ٹھنڈی رات تھی چاندنی ان کے خوبصورت محل نما گھر کی بلند و بالا چھت پر گرتی گویا یخ بستہ چاندی میں ڈھل رہی تھی۔ ہوا میں نمی خنکی میں مزید اضافہ کر رہی تھی چاند ایک خاص منظر سے دیکھنے پر دو مساوی شاخوں کے درمیان لٹکا ہوا بہت مشکل سے سانس لیتا ہوا محسوس ہو رہا تھا غالباً وہ دونوں میں سے ایک کو چننے کی اذیت میں مبتلا تھا۔ زر گل نے چیختی ہوئی خاموشی کا فسوں توڑا اور بولی "میرے ابا جان کہتے ہیں وہ بارہ بھائیوں میں سے گیارہویں تھے وہ بہت چھوٹے تھے جب وہ اپنے ماں باپ اور بین بھائیوں سے بچھڑ گئے اور پھر نہیں ملے” ہمارے بزرگ بہت بڑے بڑے لوگوں کی اولاد تھے ان کا خون خالص تھا وہ حکمرانی والا خون تھا۔ ہمیں زمین بیشک بھول گئی ہو لیکن آسمان نہیں بھولا نہ ہمیں تاریخ فراموش کر سکتی ہے۔ لیکن مجبوراً ہمیں یہاں رہنا پڑا ہمیں صدیاں بیت گئیں لیکن ہم ان میں گھل مل نہیں سکے کیونکہ۔یہ۔ہمارے لوگ نہیں ہیں۔
‎”تواب تم یہ چاہتی ہو کہ میں تمہیں الگ رکھوں ہم والدین سے الگ گھر لیں ؟” آفتاب نے بات کاٹ کر اصل بات کی طرف آتے ہوۓ کہا۔
‎” آفتاب، نہ وہ میرے والدین ہیں نہ مجھ پر ان کی خدمت فرض ہے اس لئے میرے ابا جان اور امی جان بھی چاہتے ہیں کہ تم الگ رہو.”
‎تو پھر وہ اپنا قبیلہ چھوڑ کر ہم پنجابیوں سے کیوں مل گئے ؟”
‎ہمارے قبیلے کے نوجوان پتہ نہیں کہاں جاتے ہیں کیا کرتے ہیں۔ لیکن جب واپس آتے ہیں تو لاکھوں لاکھوں روپے لے کر آتے ہیں اور بہت ہی نیک ہو کر آتے ہیں تم جیسے نہیں کہ نہ داڑھی رکھی نہ نماز بس انگریزوں والا لباس پہنا اور لاکھ ڈیڑھ لاکھ پر ہی زندگی گزار دی۔ پر پتہ نہیں کیوں ابا نہیں مانے لیکن وہ پنجابیوں کو پسند نہیں کرتے.” زرگل کے لہجے میں صدیوں پرانا تفاخر در آیا۔ اتنے میں چاۓ کی بھاپ بہت سی ان کہی باتوں کی طرح ہوا میں تحلیل ہو کر دم توڑ گئی، گرم چاۓ ٹھنڈی ہوتی ہوتی بالآخر مکمل سرد ہو گئی۔ آفتاب اس کی آخری باتیں نہ سن سکا وہ کہیں دور جا چکا تھا جہاں سماعتیں واہموں کے سمندر میں ڈوب جاتی ہیں اور سنا ان سنا لگنے لگتا ہے۔ "میں زرگل سے محبت کرتا ہوں یا غلامی ؟ ان کی نسل آگے بڑھا رہا ہوں یا ان کی نسل سے بغاوت کر رہا ہوں !!! کیا یہ میری محبوب بیوی ہے یا کسی گمشدہ سلطنت کی متکبر شہزادی۔۔۔۔” وہ کبھی فیصلہ نہ کر پایا۔ اسے جو آخری چیز یاد رہی وہ اس کی پیاری سی زرگل، کومل سی زرگل، سرخ و سفید پٹھانی، کونپلوں جیسے نرم تراشیدہ اور نفاست سے بنے ہوۓ یاقوتی لب، آبشاروں جیسی زلفوں والی زرگل خان جو اب اس کی نہیں رہی تھی۔۔۔ اسے یوں لگا جیسے اس نے سونے سے منقش سیاہ غلاف اوڑھ لیا ہو اور وہ خدا کی طرح تنہا ہو چکا ہو۔
‎———-
‎زر ولی خان اپنی بیوی کے ساتھ خیمہ بستی کے ایک خیمے میں پناہ گزین تھا اس کے سفید خیمے کے باہر باقی سب خیمے کسی کھوئی ہوئی سلطنت کا نوحہ پڑھتے نظر آتے تھے گویا وہ یومِ سبت کے بعد اپنے گیارہ گمشدہ بھائیوں کی طرح اپنے اندر انسان نہیں یادیں قید کئے بیٹھے تھے۔ ان سب کے باہر بھی ننھا سا سبز ہلالی پرچم لگا ہوا تھا جبکہ اندر سارا خیمہ روایتی افغانی سرخ سیاہ اور پیلے رنگوں کے پردوں سے ڈھکا ہوا بوجھل، مایوس کن اور لہو رنگ لگ رہا تھا۔ "ابا جان، ہمارا خیمہ اندر سے کتنا خوبصورت ہے لیکن باہر جو بے ایمانی کا کپڑا لگا ہوا ہے وہ ہمارے سارے خیمے کو بد نما کر رہا ہے۔ اوپر سے انہوں نے ہمیں ایک ہی جیسے سفید خیمے دے رکھے ہیں۔ ہمارا کتنا خوبصورت گھر تھا جو انہوں نے چھین لیا۔ اللّٰہ ان سے ان کا گھر بھی چھین لے” زر گل نے زر ولی خان کی طرف دیکھ کر غصہ بھرے لہجے میں کہا۔ اتنے میں زر ولی خان کے تینوں بیٹے اندر داخل ہوۓ۔ سب سے بڑے بیٹے نے کہا، "ابا جان جنت کی حوروں کی خوبصورتی کی قسمیں اللّٰہ نے کھائی ہیں، وہ ان کی طرح بے پردہ اور بے حیا بے شرم نہیں ہوں گی”. ” ہاں اور ابا جان، شہیدوں کے والدین کو انتہائی چمکدار تاج بھی پہنایا جاۓ گا” منجھلے بیٹے نے کہا۔ "مجھے لگتا ہے کہ ہم واقعی اللّٰہ کے چنے ہوۓ لوگ ہیں، خوش قسمت لوگ۔ کاش ہمارے بچھڑے ہوۓ باقی گیارہ چچا اور تایا بھی ہمارے ساتھ ہوتے.” سب سے چھوٹے بیٹے نے کہا۔
‎” بھائی آپ کس عالم کے پاس دین سیکھتے ہو ؟ مجھے بھی لے چلو” زر گل نے کہا۔
‎خاموش ہو جا بے وقوف لڑکی، ” مردوں کے کام عورتیں نہیں کر سکتیں، یہ تمہارا کام نہیں ہے تمہارا کام بس اب اب عدت پوری کرنا ہے گھر بیٹھ کر. ”
‎زر ولی خان نے زر گل کو جھڑکتے ہوۓ کہا۔
‎————-
‎”او بی بی اٹھ یہاں سے، منحوس عورت تو ہمارے قبیلے کیلئے اللّٰہ کے عذاب کی علامت ہے۔” ایک بچے نے ایک بد حال بڑھیا کو جھڑکتے ہوۓ دھکا دیا۔ ” او خناس کے بچے، کیوں اس کو دھکے دیتا ہے ؟ بیچاری نجانے کن کن عذابوں سے گزری ہو گی۔” ” ہاں چچا یہ بہت عذابوں سے گزری ہے اس کے شوہر نے اسے دوسرے ملک کی عورت کہہ کر طلاق دے ڈالی اس کے تین بھائی اللہ کی راہ میں گمراہوں کو مار کر شہید ہو گئے اور باپ کو ان ناپاک لوگوں نے پکڑ کر مار ڈالا۔ یہ بیچاری دکھ جھیلنے کو اکیلی رہ گئی۔۔۔ "چچا تم کس قبیلے سے ہو ؟ یہاں نئے لگتے ہو ہم اپنے قبیلے میں کسی غیر کو نہیں آنے دیتے یہ ہماری غیرت کے خلاف ہے۔” بیٹا میں اسی خدا کے قبیلے سے ہوں جس سے تم بھی ہو۔۔۔ مجھے یہاں بائیس سال ہو گئے کچھ تلاش کرتے ہوۓ لیکن وہ یہاں شاید نہیں مل سکتی۔۔۔” وہ گاڑی میں بیٹھا اور لرزتے ہاتھوں سے گئیر آگے بڑھایا گاڑی ابھی بلی ہی تھی کہ ایک بد ہیئت پٹھان نے اس کو آواز دی، "اٹھ زر گل گھر چل یہ ڈرامہ بند کر اور چل کے کھانا بنا” آفتاب نے بس اتنا
ہی سنا اور پھر۔۔۔

Author

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x