اُردو ادببلاگ / کالمز

بدعنوانی کے خلاف جنگ میں نوجوانوں کا کردار/ زوبیہ حسیب

بدعنوانی ایک ایسا عمل ہے جس کی موجودگی میں عدل و انصاف، مساوات، سچائی اور ایمانداری کا کوئی وجود باقی نہیں رہتا۔
یہ ایسی سرگرمی ہے جس کے ذریعے کمزور عوام کے حقوق پامال کیے جاتے ہیں، اور غریب و مسکین لوگوں کی کمزوری کا فائدہ اٹھا کر لالچ و ہوس کے تحت بدعنوانی کو اپنایا جاتا ہے۔
بدعنوانی دراصل ذاتی خواہشات اور ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے اختیار کی جاتی ہے۔
یہ ایک ایسا رواج ہے جس کے نتیجے میں معاشرہ بدحالی، بے سکونی اور انتشار کا شکار ہو جاتا ہے۔
بدعنوانی ہی وہ عمل ہے جو معاشرے کی بنیادوں کو کھوکھلا اور کمزور کر دیتا ہے۔

بدعنوانی کی کئی صورتیں ہیں، جیسے رشوت خوری، غیر ضروری کٹوتی، اضافی رقم کا مطالبہ اور دھوکہ دہی وغیرہ۔
یہ عمل روزمرہ زندگی کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔ معاشرے کے کسی بھی شعبے پر نظر ڈال لی جائے، بدعنوانی کا عنصر وہاں عام نظر آتا ہے۔

کسی بھی قوم کے لیے ضروری ہے کہ اس کا معاشی، معاشرتی، تعلیمی اور سماجی نظام مضبوط اور منصفانہ ہو۔
جس طرح ایک بچے کی پرورش کے لیے سہولیات اور آسائشوں کا اہتمام کیا جاتا ہے، اسی طرح ملک کے تعلیمی نظام کو بھی بہتر بنانے کی کوشش کی جانی چاہیے۔
دنیا کی بہت سی قومیں اپنے تعلیمی ڈھانچے پر خصوصی توجہ دیتی ہیں، مگر پاکستان میں تعلیم کا شعبہ دیگر اداروں کی طرح پستی کا شکار ہے۔
اس زوال کی سب سے بڑی وجہ لالچ، خود غرضی اور بدعنوانی ہے۔

کئی اساتذہ اور افسران اپنی ذمہ داریوں سے غافل ہیں، جس کی وجہ سے تعلیمی نظام کمزور ہوتا جا رہا ہے۔
طلبہ سے غیر ضروری اخراجات کے نام پر رقم اینٹی جاتی ہے۔
اساتذہ اپنی مجبوریوں اور پریشانیوں کے باعث غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
یوں وقت کے ضیاع، ناقص کارکردگی اور بے روزگاری کے باعث یہی طلبہ مستقبل میں معیشت پر بوجھ بن جاتے ہیں۔

وسائل کی کمی، بجٹ میں غیر ضروری کٹوتی، تاخیر اور ناقص انتظامات تعلیمی عمل میں رکاوٹ بنتے ہیں۔
نتیجتاً طلبہ اکتاہٹ کا شکار ہوتے ہیں اور اساتذہ مشقت کے دباؤ میں آ جاتے ہیں۔
استاد جب تدریس کے شعبے میں داخل ہوتا ہے تو اپنی معاشرتی و معاشی محرومیوں کے ساتھ آتا ہے۔
ایک غیر مطمئن استاد اکثر انہی محرومیوں کا علاج غیر قانونی یا غیر اخلاقی راستوں سے ڈھونڈنے لگتا ہے، جو بدعنوانی کی بنیاد بنتا ہے۔

تعلیمی نظام کی پستی دراصل معاشرتی خرابیوں کی عکاسی کرتی ہے۔
معاشرتی ڈھانچے اپنی قوت برقرار رکھنے کے لیے بدعنوانی کا سہارا لیتے ہیں۔
سیاسی مداخلت اور اقتدار کی کشمکش بھی بدعنوانی کو ہوا دیتی ہے۔
بعض سیاسی و معاشرتی طبقات اپنے مفاد کے لیے تعلیمی اور انتظامی نظام کو جان بوجھ کر بدعنوان رکھتے ہیں۔

قائداعظم محمد علی جناح نے جس ملک کے لیے جدوجہد کی تھی،
اور علامہ اقبال نے جس آزاد وطن کا خواب دیکھا تھا،
آج کی حقیقت اس سے یکسر مختلف ہے۔
دینِ اسلام نے جس عدل و انصاف پر مبنی نظامِ حکومت کا درس دیا،
ہمارا معاشرہ اُس سے بہت دور جا چکا ہے۔

ذوالفقار علی بھٹو نے جس صاف، شفاف اور مساوات پر مبنی جمہوری نظام کے لیے آواز بلند کی،
آج وہی ملک دھونس، دھاندلی اور بدعنوانی کی دلدل میں دھنسا ہوا ہے۔

دنیا کے کئی رہنماؤں نے بدعنوانی کے خلاف آواز بلند کی —
جن میں پاکستان کے معروف ماہرِ تعلیم ڈاکٹر عطا الرحمٰن بھی شامل ہیں۔
اسی طرح سنگاپور کے سابق وزیرِاعظم لی کوان یُو نے 1960ء میں انسدادِ بدعنوانی کے لیے سخت کمیٹی قائم کی۔
انہوں نے کہا تھا:

> “اگر تم اپنے ملک سے بدعنوانی کا خاتمہ چاہتے ہو تو اپنے رشتہ داروں اور دوستوں کو بھی سزا دینے کا حوصلہ رکھو۔”

 

ہمارے آبا و اجداد نے پاکستان کے لیے بے شمار قربانیاں دیں۔
بے قصور لوگ شہید ہوئے، نوجوانوں، بوڑھوں اور بچوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
اسی قربانی کے نتیجے میں اسلامی جمہوریہ پاکستان معرضِ وجود میں آیا۔
لیکن افسوس کہ آج یہ ملک بدعنوانی اور اخلاقی زوال کی نذر ہو چکا ہے۔

نوجوان نسل کسی بھی قوم کا قیمتی اثاثہ ہوتی ہے۔
جس طرح سورج اپنی روشنی سے آسمان کو جگمگاتا ہے اور چاند ستارے اس سے روشنی حاصل کرتے ہیں،
اسی طرح نوجوان اپنے بزرگوں سے ہمت، عزم اور اقدار کی روشنی لے کر معاشرے کو منور کرتے ہیں۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ نوجوان بدعنوانی کے خلاف آواز بلند کریں،
اور ہر غیر اخلاقی اور نقصان دہ سرگرمی سے گریز کریں۔
اقتدار کے تمام معاملات میں شفافیت، تصدیق اور انصاف کو لازمی قرار دیا جائے۔
حکومتی پالیسیوں پر سختی سے عملدرآمد کیا جائے،
اور نظامِ تعلیم کو بہتر و شفاف بنانے کے لیے نقل و بددیانتی کا خاتمہ کیا جائے۔

اساتذہ کے حقوق کا خیال رکھا جائے،
کرپٹ افسران کا احتساب کیا جائے،
اور ہر انتظامی عہدے پر تعلیم یافتہ، منصف اور تجربہ کار افراد تعینات کیے جائیں۔

بدعنوانی کے خاتمے کے لیے عدل، مساوات اور دیانت داری کو عملی طور پر نافذ کیا جائے۔
ذرائع ابلاغ کے ذریعے عوام میں شعور بیدار کیا جائے،
رشوت و سفارش کے خلاف مہم چلائی جائے،
اور بدعنوانی کے نقصانات کو نصاب کا حصہ بنایا جائے۔

> “بدعنوانی جیسے مرض کا واحد علاج دیانت داری ہے۔”

 

پاکستان ہمارا وطن ہے،
یہ ہمارے آبا و اجداد اور شہیدوں کی قربانیوں کی نشانی ہے۔
ہماری آزادی، خود مختاری اور کامیابی اسی وطن کی بقا سے وابستہ ہے۔
لہٰذا لازم ہے کہ ہم انفرادی اور اجتماعی طور پر
اس ملک کی ترقی، خوشحالی اور بہتری کے لیے کردار ادا کریں۔

اللہ تعالیٰ ہمارے وطن کی حفاظت فرمائے۔
آمین۔ پاکستان زندہ باد۔ 🇵🇰

Author

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x