غزل
غزل / محتاج ترا کر دے اگر یار سہارا / احمد وصال

غزل
محتاج ترا کر دے اگر یار سہارا
کب چاہیے مجھ کو ترا بیکار سہارا
غصے میں بہا لے گیا مٹی بھی شجر سے
مانگا تھا فقط دریا سے اک بار سہارا
حیرت کا ہے معراج کہ تصویر بنا ہوں
اعجاز محبت کا ہے دیوار سہارا
دریا کو ڈبونے دے کہ لوگوں سے کرے دور
ڈھونڈا کبھی اِس پار کبھی اُس پار سہارا
دشمن کو خبر ہو مجھے کمزور نہ سمجھے
بازو ہیں سلامت مرے، تلوار سہارا
اشجار سجے ہیں تو پرندوں کی وجہ سے
دیتے ہیں پرندوں کو جو اشجار سہارا
دیمک کی طرح تن مرا کھانے میں لگے ہیں
دیتے نہیں احمد یہاں اغیار سہارا




