تراجمترجمہ شاعری

جل پری اور شرابیوں کی کہانی / شاعری : پابلو نیرودا | ترجمہ : افتخار بخاری

جل پری اور شرابیوں کی کہانی

 

وہ سب اندر موجود تھے

جب وہ داخل ہوئی، مکمل برہنہ

وہ پینے میں مشغول تھے، سو اس پر تھوکنے لگے

دریا سے نئی نئی آئی ہوئی، وہ کچھ سمجھ نہ پائی

وہ ایک جل پری تھی، راستہ بھولی ہوئی

گالیاں اور طعنے اس کے چمکیلے بدن پر بہہ رہے تھے

غلیظ جملوں سے اس کی چھاتیاں شرابور ہوگئیں

آنسوؤں سے اجنبی، وہ رو نہ پائی

کپڑوں سے ناآشنا، وہ کچھ پہن نہ سکی

انہوں نے اسے سگریٹ کے ٹکڑے چبھوئے،

جلے ہوئے کارکوں سے اسے داغا

اور قہقہے لگاتے ہوئے

میخانے کے فرش پر لوٹ پوٹ ہو گئے

وہ بول نہ پائی کہ کلام سے ناواقف تھی۔

اس کی آنکھیں دور دراز کی محبت کا رنگ تھیں

اس کی بانہیں یاقوتوں کا جوڑا تھیں

اس کے ہونٹ چپ چاپ، مرجانی روشنی میں کپکپائے

اور آخرکار وہ دروازے سے نکل گئی

جونہی وہ دریا میں اتری، پاک ہوگئی

دوبارہ بارش میں دمکتے ہوئے پتھر کی طرح

اور ایک نگاہ واپسیں کے بغیر

ایک بار پھر تیر گئی

وہ تیر گئی عدم کی جانب،

وہ تیر گئی اپنی موت کی طرف

 

پابلو نیرودا | ترجمہ : افتخار بخاری

Author

  • توحید زیب

    روحِ عصر کا شاعر ، جدید نظم نگار ، نظم و غزل میں بے ساختگی کے لیے مشہور

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x