منتخب کالم

کیا پنجاب پولیس ایک آئیڈل فورس ہے؟/ یونس باٹھ



ہیڈ کانسٹیبل سے لے کر ایس پی تک پولیس افسران کی پرموشنز کیلئے آئی جی پولیس اور ان کی پوری ٹیم مبارکباد کی مستحق ہے کہ انہوں تاریخ ساز اقدامات کرکے ماتحتوں کے دل جیت لیے ہیں  اور ایک ایسا طریقہ وضع کردیا ہے جس سے امید پیدا ہو گئی ہے کہ مستقبل میں بھی چاہے کوئی بھی آئی جی پولیس پنجاب ہو یہ تسلسل اسی طرح قائم رہیگا۔ یہ سب باتیں آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کی بہت بڑی کامیابی ہیں جس پر ان کی ستائش ہونی چاہیے تاہم ایک دوسرا پہلو بھی ہے جس پر انہیں توجہ دینی چاہیے۔ پولیس نظامِ انصاف کی پہلی سیڑھی ہے۔ اگر یہ سیڑھی درست ہو گی تو عوام کو انصاف بھی ملے گا۔ تھانوں کو خوف کی علامت نہیں بلکہ دارالامان ہونا چاہیے۔ یہ عام سی بات ہے کہ پولیس کا معاشرے میں امیج بہتر نہیں۔ لوگ پولیس والے کو دیکھ کر احساس تحفظ کی بجائے عدم تحفظ میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ ایس ایچ او کی سطح تک کے افسر ابھی تک عوام کو یہ احساس نہیں دلا سکے کہ وہ ان کی خدمت کیلئے حاضر ہیں۔آج بھی عام آدمی تھانے میں جاتے ہوئے ایک انجانا خوف محسوس کرتا ہے۔ تھانہ کلچر بدلنے کی باتیں بہت ہوئی ہیں۔ ہر دور میں پولیس کو سیاست سے پاک کرنے کے دعوے بھی کئے جاتے رہے ہیں مگر حالات بہتر ہونے کی بجائے بدتر ہوتے چلے گئے۔ پولیس  نے بعض کارروائیاں ایسی بھی کی ہیں، جن سے یہ تاثر ابھرا کہ انہوں نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا ہے۔وہ ان سے اجتناب کرتے تو زیادہ بہتر تھا۔ خیر ائی جی پولیس پنجاب نے اس محکمے کو بہتر بنانے کیلئے جو کاوشیں کی ہیں وہ حوصلہ افزا ء ہی نہیں قابل ستائش بھی ہیں۔ اگر آئی جی پولیس نے اپنے محکمے کیلئے اتنا کچھ کیا ہے تو اب انہیں اپنے پولیس افسروں اور اہلکاروں کو یہ پیغام بھی دینا چاہیے کہ وہ عوام کی نظر میں پولیس کے منفی تاثر کو بدلیں۔ رشوت اور سفارش کی لعنت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں، مظلوم کو انصاف دیں اور ظالم کو قانون کے کٹہرے میں لائیں۔ کسی بااثر کے کہنے پر کمزور کو نشانہ بنائیں اور نہ ہی جھوٹے مقدمات کا اندراج کریں جو عزت آئی جی نے اپنے ماتحتوں کو دی ہے ماتحتوں کا بھی فرض ہے کہ وہ عزت عوام کو دیں۔ ایک سربراہ نے اگر محکمے کا مجموعی تاثر تبدیل کیا ہے تو اب اس کی فورس کے جوانوں اور افسروں کا بھی فرض ہے کہ عوام کی نظروں میں محکمے کی عزت و وقار میں اضافہ کریں۔ آئی جی محکمے میں حوصلہ افزائی کیلئے انعامات دے رہے ہیں جو اچھی بات ہے تاہم جزا و سزا کا نظام برابر چلنا چاہیے۔سی سی ڈی کے قیام سے پنجاب میں جرائم کی شرح میں کمی واقع ہوئی ہے، جس سے عوام کا پولیس پر اعتماد بڑھا ہے تاہم پولیس کے نظام میں پورے ملک میں بنیادی اصلاحات ناگزیر ہیں کیونکہ لوگوں کو ہر جگہ تھانہ کلچر سے سابقہ درپیش ہے اور پولیس کے موجودہ نظام کی بناء پر وہ پورے ملک میں ایک جیسی مشکلات کا شکار ہیں آئی جی پولیس نے اپنی فورس کا مورال اپنے اقدامات سے بلند کیا ہے، اب عوام کی نظر میں بھی پولیس کا مقام بلند ہونا چاہیے۔ یہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب پولیس عوامی خدمت کے جذبے سے سرشار ہو کر بغیر کسی لالچ و دباو کے اپنا فرض ادا کرے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو ڈاکٹر عثمان انور ایک ایسے کمانڈر بن جائیں گے جنہوں نے پنجاب پولیس کو ایک آئیڈیل فورس بنانے کا کارنامہ سرانجام دیا۔





Source link

Author

Related Articles

Back to top button