جرابوں سے بنی بارہ سو کہانیاں: انسانوں کے دکھ، تنہائی اور شناخت کی کہانیاں / رپورٹ : عطرت بتول

تسنیم ایف. انعام ایک کثیر الجہتی فنکارہ اور ماہرِ تعلیم ہیں۔ وہ کالج آف آرٹ اینڈ ڈیزائن پنجاب یونیورسٹی میں تدریس کے فرائض انجام دے رہی ہیں۔ انہوں نے 2023 میں نیشنل کالج آف آرٹس، لاہور سے ایم اے (آنرز) ویژول آرٹ میں مکمل کیا۔ اس سے قبل انہوں نے 2013 میں پنجاب یونیورسٹی سے مصوری میں ماسٹرز کی ڈگری گولڈ میڈل کے ساتھ حاصل کی۔
تسنیم نے نیشنل کالج آف آرٹس سے 2011 میں گرافک ڈیزائن میں پروفیشنل ڈپلومہ اور 2009 میں خطاطی و تزئین کاری میں ڈپلومہ بھی حاصل کیا۔ ان کے فن پاروں کی نیشنل کالج آف آرٹس میں installation نمائش کے لیے پیش کی گئی۔ وہ اسی ایونٹ میں ڈول میکنگ ورکشاپ کی بھی منتظم رہیں۔ انہیں 2025 میں سمال انڈسٹریز کارپوریشن کی جانب سے MCAV (میٹل کرافٹ آرٹسینز ولیج) آرٹسٹ ریزیڈنسی کے لیے منتخب کیا گیا۔
بین الاقوامی سطح پر ان کے فن پارے اٹلی، ترکی، امریکہ، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور ملائیشیا میں نمائش کے لیے پیش کیے جا چکے ہیں۔ پاکستان میں وہ تقریباً 40 نمائشوں میں حصہ لے چکی ہیں۔ ان کا کام مختلف کتابوں میں شائع ہو چکا ہے، جن میں "Women Making Visual Poetry” (مرتب: آمنڈا ارل، اشاعت: Timglaset Editions, 2021) اور "Project Trob Zero” (اٹلی) شامل ہیں۔
تسنیم لاہور میں مقیم ہیں اور وہیں آرٹ پر کام کر رہی ہیں۔ NCA میں گزشتہ کئی دنوں سے فن پاروں کی نمائش جاری تھی۔ کل 28 نومبر آخری دن تھا۔ آرٹ کے زبردست نمونے دیکھنے کو ملے۔ این سی اے کے سٹوڈنٹس اور اساتذہ نے بہت خوبصورتی سے اپنے فن کو پیش کیا۔ اپنے کام اور رنگوں سے اچھوتے موضوعات کو اجاگر کیا۔ تسنیم ایف انعام کے پروجیکٹ "Can You See Me” نے بہت متاثر کیا۔ انہوں نے جرابوں کی مدد سے بارہ سو مختلف ڈولز تیار کی تھیں جو اپنے جوڑے سے بچھڑ گئی تھیں۔ دور سے دیکھنے میں ایک جیسی تھیں لیکن نزدیک سے سب ایک دوسرے سے مختلف، جیسے انسانوں کے دکھ ایک دوسرے سے مختلف، جیسے ہر انسان اپنی ذات میں تنہا۔
تسنیم ایف انعام نے اپنے پروجیکٹ کو بہت خوبصورتی سے پیش کیا اور جس احساس کو انہوں نے پیش کیا اس کا تجربہ وہیں ہوگیا۔ وہ اس طرح کہ ایک دوسرا پروجیکٹ بھی دیکھنے کو ملا جو این سی اے کی ایسوسی ایٹ پروفیسر عطیہ جاوید نے تیار کیا تھا۔ ایک نیم اندھیرے کمرے میں ہلکی روشنی اور الفاظ کی مدد سے اپنے اس کرب کو ظاہر کیا تھا۔ اس تکلیف کا اظہار تھا جب انہوں نے اپنے پیاروں کو کینسر کی اذیت سے گزرتے دیکھا اور لمحہ لمحہ انہیں محسوس کیا تھا۔ اس نیم دھندلکے میں دکھ واضح تھے۔ تخیل کی قوت نے اندر کے جذبات لطیف انداز میں پیش کیے۔
تسنیم ایف انعام کی سوچ اور تخیل نے شعور بیدار کرنے کی دعوت دی کہ انسانوں کے اس جنگل میں اکیلے رہ جانے والے، ساتھیوں سے بچھڑنے والے، تنہائی اور دکھ کے شکار انسانوں کے جذبات کو محسوس کرنا چاہیے۔ تسنیم نے بتایا کہ: میری انسٹالیشن “Can You See Me” بارہ سو (1200) اکیلی جرابوں سے بنائی گئی ہے جو اپنے جوڑے سے بچھڑ گئی ہیں اور بے مقصد خیال کی جاتی ہیں۔ یہ سوفٹ سکلپچرز اُن افراد کی نمائندگی کرتے ہیں جو معاشرہ کے اس ہجوم میں کہیں کھو گئے ہیں، جنہیں نہ کبھی دیکھا گیا، نہ کبھی سنا گیا، جنہیں نہ بنیادی انسانی حقوق ملے، نہ سوچنے، سمجھنے اور اپنے بارے میں فیصلہ کرنے کا اختیار۔ ان کی انفرادی شناخت کو نہ کبھی قبول کیا گیا اور نہ کبھی احترام دیا گیا۔
دور سے یہ سب سافٹ سکلپچر رنگدار اور ایک جیسی ساخت کے نظر آتے ہیں۔ لیکن قریب سے دیکھیں تو ہر ایک کی الگ شناخت، الگ کردار ہے۔ ہر ایک اپنی کہانی سنا رہا ہے۔ کھو جانے کی، برداشت کرنے کی، دیکھے، سنے جانے کی خواہش کی، اپنی علیحدہ حیثیت کی اہمیت کی آرزو کی۔ اور ہر ایک آپ سے یہ سوال پوچھتا ہے: “کیا آپ مجھے دیکھ سکتے ہیں؟” شاید آپ اور میں بھی اُن میں سے ایک ہوں۔
تسنیم کے کام کے حوالے سے ثمینہ ناز کی ایک نظم:
"Can U see me”
(Dedicated to overlooked individuals)
ثمینہ ناز طاہر
جو میرا دُکھ اور تمہارا دُکھ ہے
نہ ان کہا ہے، نہ ان سُنا ہے
یہ حرفوں لفظوں میں ڈھل چکا ہے
مگر زمانے کا شور و غُل سب نگل چکا ہے
میں اپنے ہونے کے اور نہ ہونے کے
اک ادھورے حصار میں ہوں
میں اب بھی اپنی صداؤں کی بازگشت
کے انتظار میں ہوں




