
گھر میں رونق میلہ لگا ہوا تھا ۔ پورا گھر لائٹنگ سے جگمگ کر رہا تھا ۔
رنگ برنگے آنچل ہر طرف لہرا رہے تھے۔
ڈھولک کی تھاپ تالیاں اور ہنسی کی آوازیں مل کر خوشی کا سماں پیدا کر رہے تھے۔ آج تو امی ابو چہرے پہ سکون اور خوشی نظر آرہی تھی بھئی آخر کیوں نہ ہو انکی لاڈلیوں کی شادی ہو رہی تھی۔
مسرور احمد اور انکی بیگم فردوس بیگم کی چار بیٹیاں تھیں انتہایی سگھڑ اور فرمانبردار بڑی دونوں ایم اے کر کے گھر بیٹھی تھیں۔ فردوس بیگم کا ارادہ انکو رخصت کرنے کا تھا۔ مسرور احمد اس معاملے سے لاتعلق تھے۔ انہوں نے اپنا ہر کام اللہ کے سپرد کیا ہوا تھا۔ بڑی بیٹی کا رشتہ آیا لڑکا بہت اچھا اور برسر روزگار تھا فیملی کافی بڑی تھی ۔مگر پڑھے لکھے اور سلجھے ہوئے لوگ تھے۔ مسرور صاحب نے چھان بین کے بعد ہاں کر دی۔ لڑکے والے شادی ایک ماہ کے اندر کرنا چاہتے تھے۔ مسرور صاحب کو کوئی اعتراض نہ تھا۔ ان کا اپنا بزنس تھا جو بہت اچھا چل رہا تھا پیسے کی کمی نہ تھی ۔دونوں طرف شادی کی تیاری عروج پر تھی۔ اسی دوران ہمارے گھر کے تیسرے گھر سے چھوٹی باجی کا رشتہ آیا یہ لوگ سنار تھے ۔پیسے کی کوئی کمی نہ تھی سب سے بڑھ کر لڑکا بہت اچھا تھا۔ اور ہماری فیملی ان کو بہت لمبے عرصے سے جانتی تھی۔ اس لیے زیادہ چھان بین کی ضرورت نہ پڑی اور ہاں ہو گئی۔طے یہ پایا کہ دونوں بہنوں کی شادی اکٹھی کی جائے وقت کم تھا اور تیاری زیادہ مگر خوشی میں ہر کام مکمل اور جلدی ہو گیا ۔تینوں خاندان صاحب حیثیت تھا باقی رہ گئی ہم دونوں چھوٹی بہنیں میں مہوش اور مجھ سے ایک سال بڑی زویا ہم دونوں گھن چکر بنی ہوئ تھی۔ گھر کا پہلا فنکشن تھا۔ ہم چاہتے تھے کہ ہر کام شاندار ہو ہم دونوں نے اپنی تیاری ساتھ ساتھ ہی مکمل کر لی ہم نے ہر فنکشن کے لیے ایک جیسے کپڑے بنوائے ۔روزانہ بازار کے چکر لگتے مگر شکر اللہ کا ساری تیاری وقت پر مکمل ہو گئی۔ سارے رشتہ دار دو دن پہلے ہی آگئے۔ لڑکیوں نے رات کو ڈھولک رکھ دی بڑی عمر کے خواتین اپنے دور کے گانے سناتی اور لڑکیاں آج کے لڑکیاں گانا کم گاتیں اور ان کی کھی کھی زیادہ ہوتی آج اور کل کے دور کا زبردست مقابلہ ہوتا خوب شور و غل مچتا ساتھ ساتھ چائے اور کھانے کا دور بھی چلتا رہا۔ آج دونوں باجیوں کی مایوں تھی۔ پیلے کپڑے اور پھولوں کے زیور میں وہ پریاں لگ رہی تھی۔ ہم دونوں بہنوں نے بھی زرد رنگ کے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ ہنسی مذاق میں باجیوں کو مایوں لگایا گیا ۔ہم ساری رات کزنز مل کے باتیں کرتی رہی دونوں خاندان والے مہندی خوب دھوم دھام سے لائے۔ مسرور احمد صاحب نے بھی انتظام شاندار کیا ہوا تھا ۔ہم دونوں بہنوں نے مہندی رنگ کے کپڑے اور گولڈن دوپٹہ لیا گولڈن کھسہ ہاتھوں میں رنگ برنگی بھری بھری چوڑیاں اور کانوں میں بڑی بڑی بالیاں ہم پر بہت سج رہی تھی۔ ہم دونوں میں صرف ایک فرق تھا۔ زویا نے لمبا پراندہ ڈالا اور میں نے بال کھلے چھوڑے سارے خاندان والوں نے ہماری بہت تعریف کی مہندی کا فنکشن اکٹھا تھا اس لیے بہت رش تھا۔ ایسے میں مجھے لگا کہ کوئی مجھے دیکھ رہا ہے مگر ادھر ادھر دیکھنے سے پتہ نہ چلا میں کندھے جھٹک کر سٹیج کی طرف آ گئی جہاں لڑکیوں نے اودھم مچایا ہوا تھا ۔ہم بہنیں بھی ان کے ساتھ مل کر گانا گانے لگی تالیاں بجا بجا کر ہاتھ لال ہو گئے تھے ۔میرے کھلے بال بار بار چہرے پر آ رہے تھے۔ میں سر کو جھٹکا دے کر ان کو پیچھے کرنے کی کوشش کرتی اس کوشش میں میری کانوں کی بالیاں میرے چہرے کو چوم رہی تھی۔ دو آنکھیں مہوش کی ہر حرکت کو آنکھوں کے کیمرے سے دل میں محفوظ کر رہی تھی۔ بارات اور ولیمے کا فنکشن بھی شاندار رہا دونوں فنکشن میں ہم دونوں بہنیں ہی چھائی رہیں ۔مگر وہ دو آنکھیں مہوش کے ارد گرد منڈلاتی رہیں۔ دونوں باجیاں اپنے اپنے گھر میں بہت خوش تھی۔ ہم دونوں بھی کالج جانا شروع ہو گئے ۔امتحانات سر پر تھے۔ اس لیے ہم سب بھول بھال کر تیاری میں جت گئی آخری پرچہ دے کر آئ اور لمبی تان کر سو گئی شام کو تر و تازہ ہو کر اٹھیں اچانک باہر سے بڑی باجی کی آواز آئی ہم چھلانگ لگا کر ان کے گلے لگ گئیں باجیوں کے جانے کے بعد ہمارا گھر سونا ہو گیا تھا۔ بہت اچھے ماحول میں کھانا کھایا گیا۔ بڑی باجی کی ساس بھی بہت نفیس خاتون تھی۔ ان کے جانے کے بعد امی نے بتایا وہ لوگ مہوش کا رشتہ مانگ رہے ہیں۔ امی دو بہنوں کا ایک ہی گھر میں رشتہ طے کرنے پر راضی نہ تھی۔ بڑی باجی کے سسرال والے بضد تھے بڑی باجی بھی تعریفیں کرتے نہ تھکتی آخر کار انہوں نے امی ابو کو منا ہی لیا ۔باجی کا چھوٹا دیور سعد واقعی بہت اچھا تھا۔ چھوٹی باجی اپنی ساس اور سسر کے ساتھ آگئی۔ انہوں نے آتے ہی کہا کہ ہم مہوش کا رشتہ مانگنے آئے ہیں۔ سب پریشان ہو گئے۔ ابا نے بڑے تحمل سے کہا بہن جی آپ یہ کیا کہہ رہی ہیں ۔میں نے تو اب ہاں کر دی ہے ۔وہ بڑے غصے سے بولی کہ ہم نے مہوش کا رشتہ پہلے مانگنا تھا۔ چھوٹی باجی کا سسر زوردار آواز میں بولا بھائی صاحب آپ ان کو انکار کر کے ہمیں ہاں کریں۔ ابا کو بھی بہت غصہ آیا وہ گرج کر بولے یہ کوئی مذاق ہے میری بیٹی ہے۔ میں جس کو چاہے ہاں کروں۔ وہ لوگ غصے سے اٹھ کر چلے گئے ۔انہوں نے اس پر بھی بس نہ کی چھوٹی باجی پر بہت پریشر تھا۔ وہ امید سے تھی۔ چھوٹی باجی کے سسرال والوں نے پیغام بھیجا کہ اگر مہوش کا رشتہ نہیں دیتے تو اپنی بڑی بیٹی کو بھی گھر بٹھاؤ ۔یہ سن کر چھوٹی باجی پریشان ہو گئی۔ امی ابو نے بہت مشورے کے بعد یہ فیصلہ کیا اور ان کو کہا کہ آپ لوگ زویا کا رشتہ لے لیں اس طرح دونوں خاندان خوش ہو جائیں گے۔ مگر ان کی ساس واضح بولی کہ ہمارے فیصل کو مہوش پسند ہے۔ گھر میں عجیب پریشانی والا ماحول بن گیا تھا۔ کچھ دنوں سے زویا مجھ سے کھینچی کھینچی رہنے لگی۔ ہر بات کا جواب ہوں ہاں میں دیتی۔ میں سمجھ نہیں پا رہی تھی۔ کہ زویا کو کیا ہوا ہے آخر کار اماں ابا نے فیصلہ مجھ پر چھوڑ دیا۔ مجھے چھوٹی باجی کے سسرال والے خاص کر ان کا دیور فیصل بالکل پسند نہ تھا۔ اس لیے میں نے بڑی باجی کے دیور سعد کے لیے ہاں کر دی۔ ایک دن زویا میرے پاس آئی اور کہا کہ فیصل مجھے بہت پسند ہے میں اسی سے شادی کرنا چاہتی ہوں۔ میں نے اسے بہت سمجھایا کہ وہ تمہارے قابل نہیں ہے۔ مگر وہ میری بات نہ مانی میں نے یہ بات چپکے سے چھوٹی باجی کو بتا دی ۔ پتہ نہیں کیسے باجی نے اور بہنوئی نے مل کر اپنے گھر والوں کو منایا اور وہ لوگ زویا کا رشتہ لینے آئے چھوٹی باجی کے سسرال سے پیغام آیا کہ وہ شادی سادگی سے کریں گے۔ ابا نے اس پر کوئی اعتراض نہ کیا چھوٹی باجی کے سسرال والوں کے رویے خشک تھے ۔مگر زویا کو اس کی پرواہ نہ تھی۔ وہ خوشی خوشی اپنی شادی کو انجوائے کر رہی تھی۔ یہ تھی میری زویا سے آخری ملاقات فیصل نے سختی سے منع کیا کہ ہم آپ لوگوں سے کوئی رابطہ نہیں رکھنا چاہتے ۔سعد بہت پیار کرنے والے تھے ۔سعد نے مہوش کو اپنے پیار کے قصے سنائے وہ بہت ہنسی اور بولی اچھا تو تعاقب کرتی آنکھیں آپ کی تھیں۔ سعد دل پر ہاتھ رکھ کر ڈرامائی انداز میں بیڈ پر گر گیا۔ اور دونوں کا قہقہ ایک ساتھ گونجا سعد مہوش کو بہت چاہتا تھا ۔ اللہ نے ان کو خوبصورت بیٹی اور بیٹے سے نوازا جو زیادہ تر بڑی باجی اور ساس کے پاس ہوتے مہوش دو بچوں کے بعد بھی ویسی ہی حسین تھی۔ یہ سعد کی محبت اور ساتھ کا اثر تھا ۔آج مہوش اپنے فیصلے پر خوش تھی۔ مگر زویا اپنے فیصلے پر دکھی وہ سب سے کٹ گئی تھی۔ فیصل زویا کی بالکل پرواہ نہ کرتا زویا سوکھ کر کانٹا ہو گئی تھی۔ گھر میں سہولیات کا انبار تھا۔ مگر سکون نہ تھا ایک غلط فیصلے نے اس کی زندگی برباد کر دی.




