اُردو ادباُردو شاعرینظم
کچھ پتا نہیں چلتا / ابرار احمد
کچھ پتا نہیں چلتا
آبائی شہر کو جاتی گاڑی کو دیکھتا ہوں
اس میں سوار نہیں ہوتا
اور نہ ہی ہاتھ ہلاتا ہوں
دنیا —
عجیب و غریب لوگوں اور چیزوں سے بھری پڑی ہے
میں بھی بچتا بچاتا ان میں سے گزرتا ہوں
بغیر کسی یاد کے
بغیر کسی خواب کے
ایک دھند ہے
جو دماغ پر جم گئی ہے
ایک رفتار ہے ،
جو کچھ دیکھنے نہیں دیتی
خالی جگہیں پر نہیں ہوتیں
لیکن بادل دوڑے چلے جاتے ہیں
پتھروں اور دیواروں کے درمیان
ہم —– سایوں کی طرح
بھٹکتے پھرتے ہیں
دن ہے یا رات
جیت ہے یا ہار
سفر ہے یا قیام
کچھ پتا نہیں چلتا
بس یوں ہے
کہ جب میرے پاؤں کو ٹھوکر لگتی ہے
یا میرا ماتھا اچانک …کسی دیوار سے ٹکراتا ہے
مجھے لگتا ہے
جیسے کوئی کہتا ہو
"بیٹے ——–میرے بیٹے !!”




