اُردو ادباُردو شاعرینظم
جوتے / افتخار بخاری

جوتے
تپتی ریت پر ننگے پاؤں چلنا ایک قدیم فن ہے
جیسے بانسری پر گریہ کرنا
جیسے درد بھرا گیت لکھنا
جیسے محبت کرنا
ریت سے، بھوکا رہ کر
سراب سے، پیاسا ہوتے ہوئے
یہ فن نسل در نسل کی کمائی ہے
اِس کے پیچھے سفّاک صدیاں ہیں
ایک فن اور بھی ہے
جوتے بنانا
جوتے کیا ہوتے ہیں؟
تھر کے بچّو !
یہ چمڑے کے خول ہوتے ہیں
شان دار پیروں کے لیے
اِن کے تلے تمہارے نصیب سسکتے ہیں
اِن کی قیمت تمہاری جھونپڑیوں سے زیادہ ہے
ریت پر قالین بچھتے ہیں
چمک دار جوتوں کے لیے
مگر ان میں ایک عیب ہے
ان کو پہن کر نیچے نہیں دیکھا جا سکتا
یہ آئینے بن جاتے ہیں
جن میں مُردار خور بھیانک شکلیں نظر آتی ہیں



