خبریں

سعودی عرب کا انڈیا، مشرق وسطیٰ اور یورپ کے درمیان اقتصادی راہداری کا اعلان


سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان نے ہفتے کو انڈیا، مشرق وسطیٰ اور یورپ کے درمیان ایک نئی اقتصادی راہداری کی تعمیر کے لیے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کرنے کا اعلان کیا۔

عرب نیوز کے مطابق راہداری میں بجلی اور ہائیڈروجن کی پائپ لائنیں بھی شامل ہوں گی۔

نئی دہلی میں جاری جی 20 سربراہی اجلاس کے پہلے دن خطاب کرتے ہوئے شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ اس منصوبے کے ذریعے ’معاشی باہمی انحصار کو مضبوط بنا کر ہمارے ممالک کے مشترکہ مفادات کو حاصل کیا جا سکتا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ یہ اقدام بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور بحالی میں تعاون کرے گا جس میں ریلوے، اور بندرگاہیں بھی شامل ہیں، اس سے کارگو اور سروسز کے تبادلے کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔

سعودی ولی عہد نے کہا کہ ’یہ منصوبہ شریک ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات میں اضافہ کرے گا اور انرجی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے ہائیڈروجن سمیت توانائی کی سپلائیز کی درآمد کو فروغ دے گا۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’یہ مفاہمت کی یادداشت ماحول دوست توانائی کو فروغ دینے کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے اور اس کا نفاذ تمام فریقوں کے لیے ٹرانزٹ کوریڈورز کے ساتھ روزگار کے نئے مواقع اور طویل مدتی فوائد پیدا کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔‘

اس سے قبل وائٹ ہاؤس کے ایک عہدے دار نے بتایا تھا جی 20 اجلاس کے موقعے پر مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کو جوڑنے والے کثیر القومی ریل اور بندرگاہوں کے معاہدے کا اعلان کیا جائے گا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب امریکی صدر جو بائیڈن، چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کا مقابلہ کرنے کے لیے جی 20 کے ترقی پذیر ممالک کے لیے واشنگٹن کو متبادل پارٹنر اور سرمایہ کار کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکہ میں قومی سلامتی کے نائب مشیر جان فائنر نے نئی دہلی میں جی 20 اجلاس کے موقعے پر صحافیوں کو بتایا کہ اس معاہدے سے خطے کے کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک کو فائدہ پہنچے گا اور اس سے عالمی تجارت میں مشرق وسطیٰ کے لیے اہم کردار سامنے آئے گا۔

امریکی حکام کے مطابق اس منصوبے کا مقصد مشرق وسطیٰ کے ممالک کو آپس میں ریلوے کے ذریعے جوڑنا اور انہیں بندرگاہ کے ذریعے انڈیا سے جوڑنا ہے، جس سے شپنگ کے وقت، اخراجات اور ایندھن کے استعمال میں کمی کر کے خلیج سے یورپ تک توانائی اور تجارت کے بہاؤ میں مدد ملے گی۔

فائنر نے کہا کہ معاہدے کے لیے مفاہمت کی ایک یادداشت پر یورپی یونین، انڈیا، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، امریکہ اور دیگر جی 20 شراکت دار دستخط کریں گے۔

ان کا کہنا تھا: ’ہمارے خیال میں ان اہم خطوں کو جوڑنا ایک بہت بڑا موقع ہے۔‘





Source link

Author

Related Articles

Back to top button