سائنس و ٹیکنالوجی

اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں بدلتی آب و ہوا میں پاکستان میں خشک سالی پر بین الاقوامی ورکشاپ

اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں بدلتی آب و ہوا میں پاکستان میں خشک سالی پر بین الاقوامی ورکشاپ

اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں پاکستان میں بدلتی ہوئی آب و ہوا کے تناظر میں خشک سالی کے موضوع پر ایک بین الاقوامی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔ دو روزہ ورکشاپ میں خشک سالی سے نمٹنے کے لیے ماہرین موسمیات اور زراعت دانوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا جائے گا۔ شرکاء موسمیاتی ڈیٹا کے تجزیے اور پالیسی سازی پر تبادلہ خیال کریں گے۔

اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں "تبدیل ہوتی آب و ہوا میں پاکستان میں خشک سالی” کے موضوع پر بین الاقوامی ورکشاپ

پی آر او نمبر 60/24، مورخہ 21.02.2024
ڈائریکٹوریٹ آف پبلک ریلیشنز، اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور
بہاولپور: اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے زیر اہتمام انٹرنیشنل سینٹر فار کلائمیٹ چینج، فوڈ سیکورٹی اینڈ سسٹین ایبلیٹی نے پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کے تناظر میں خشک سالی کے موضوع پر بین الاقوامی ورکشاپ کا انعقاد کیا۔

اس دو روزہ ورکشاپ کے افتتاحی سیشن کے مہمان خصوصی کمشنر بہاولپور ڈویژن ڈاکٹر احتشام انور تھے۔ ورکشاپ کی صدارت ڈائریکٹر اسٹوڈنٹس افیئرز، ڈائریکٹر انسٹی ٹیوٹ آف کیمسٹری پروفیسر ڈاکٹر عبدالرؤف نے کی۔ دو روزہ ورکشاپ کا انعقاد نیشنل ڈراؤٹ مانیٹرنگ اینڈ ارلی وارننگ سینٹر اسلام آباد، پاکستان میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ اسلام آباد کے تعاون سے کیا جا رہا ہے۔

کمشنر بہاولپور ڈاکٹر احتشام انور نے اپنے خطاب میں کہا کہ موسمیاتی تبدیلی قومی اور عالمی مسئلہ ہے۔ جنوبی پنجاب کو بھی ملک کے دیگر حصوں کی طرح موسمیاتی تبدیلیوں کے چیلنجز کا سامنا ہے۔ سال 2022 میں جنوبی پنجاب نے موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث بدترین سیلاب کا سامنا کیا اور گزشتہ برس بھی یہاں بہنے والے ندی نالوں میں طویل عرصے بعد طغیانی آئی۔ اس حوالے سے عمومی معلومات خاص طور پر سکولوں کے نصاب میں کلائمیٹ چینج سے آگاہی کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے سبز کتاب تدوین کی گئی۔ یہ کتاب جنوبی پنجاب کے سکولوں کے نصاب میں شامل ہے اور بچوں کے ساتھ ساتھ اساتذہ اور بڑے بھی اس سے مستفید ہو رہے ہیں۔ کمشنر بہاول پور نے اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور میں موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے ملکی جامعات کے کنسورشیم کی تشکیل اور ملکی اور بین الاقوامی اداروں سے اشتراک کو سراہا۔

پروفیسر ڈاکٹر عبدالرؤف ڈائریکٹر اسٹوڈنٹس افیئرز اور ڈائریکٹر انسٹیٹیوٹ آف کیمسٹری نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں نے پاکستان کے سماجی اور معاشی ڈھانچے کو بہت متاثر کیا ہے۔ سرکاری اور نجی شعبے کو پانی کی کمیابی اور خشک سالی سے نمٹنے کے لیے اقدامات کرنے ہوں گے۔ خصوصا نہری پانی کی بچت اور ضائع ہونے سے بچانے کے لیے آبپاشی نظام کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔

ڈائریکٹر جنرل پاکستان میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ اسلام آباد مہر صاحبزاد خان نے کہا کہ یہ قومی مرکز سال 2005 میں قائم ہوا تاکہ خشک سالی سے متعلق سائنسی بنیادوں پر اعداد و شمار مرتب کیے جائیں جن کی روشنی میں حکومتی اور دیگر ادارے قلیل اور طویل مدتی پالیسی ترتیب دیں تاکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث درپیش زرعی، سماجی اور معاشی پالیسیوں کو تشکیل دیا جا سکے۔

ورکشاپ کے فوکل پرسن ڈائریکٹر انٹرنیشنل سینٹر فار کلائمیٹ چینج، فوڈ سیکورٹی اینڈ سسٹین ایبلیٹی پروفیسر ڈاکٹر واجد نسیم جتوئی نے کہا کہ اس ورکشاپ کا مقصد اکیڈمیا، زرعی اور موسمیاتی ماہرین کو اکٹھا کرنا ہے تاکہ خشک سالی جیسے درپیش خطرے سے نمٹنے کے لیے اسٹیک ہولڈرز کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا جا سکے۔ ورکشاپ کے شرکاء موسمیاتی اعداد و شمار کے تجزیے، جغرافیائی انفارمیشن ٹیکنالوجی کے استعمال، ایڈونسڈ وارننگ سسٹم اور اس حوالے سے پالیسی مرتب کرنے کے لیے تبادلہ خیال کریں گے۔

مزید متعلقہ خبریں


Author

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x