
شاید پانچ چھے سال پرانی بات ہے۔۔۔ میں اور ثمینہ سید فیس بک پر ایک دوسرے کے ساتھ تھے ۔۔۔ انہی دنوں میرا ناول ” نین تیرے انجان ” جنگ سنڈے میگزین میں بالاقساط چھپنے کے بعد نیا نیا کتابی شکل میں آیاتھا۔۔۔ ایک روز ثمینہ سید کی کال موصول ہوئی کہ مجھے بھی اپنا ناول بھیجیے ، میں یہ ناول پڑھنا چاہتی ہوں ۔۔۔مجھے بہت خوشی ہوئی۔۔۔ میں نے ان کا پتہ پوچھا تو معلوم ہوا کہ وہ بھی یہیں اقبال ٹاؤن کامران بلاک میں مقیم ہیں۔۔۔ میں نے ایک دو روز کے اندر ہی اپنا ناول انہیں بھجوا دیا ۔۔۔کچھ روز ہی گزرے تھے کہ ثمینہ سید کا بہت ہی خوبصورت اور جامع تبصرہ موصول ہوا۔۔۔ وہ تبصرہ پڑھ کر بخوبی علم ہوتا تھا کہ ثمینہ سید نے ناول کا ایک ایک لفظ غور سے پڑھا ہے اور اس کو ایک تنقید نگار کی نگاہ سے ہی نہیں بلکہ ایک حساس دل رکھنے والے تخلیق کار کی نگاہ سے بھی دیکھا ہے ۔۔۔کیونکہ انہوں نے ان سب باتوں کو ہائی لائٹ کیا تھا جو میرے دل کو چھوتی تھیں ۔۔۔ میں ان کی بہت شکر گزار ہوئی۔۔۔ یوں غائبانہ طور پر ہمارا دوستانہ ہو گیا ۔۔۔ اس کے بعد شاید ہماری کسی ادبی تقریب میں ملاقات ہوئی یا نہیں ہوئی۔۔۔ یہ مجھے یاد نہیں البتہ میں نے گھر تبدیل کیا اور وہاں پر میں نے سب پیارے پیارے ادبی ستاروں ( خواتین)کی دعوت رکھی۔۔۔ وہ دعوت بڑی ہی خوبصورت ، بڑی ہی یادگار تھی، اس دعوت میں محترمہ سلمیٰ اعوان ،محترمہ نیلم احمد بشیر اور بہت سے دیگر ادبی دوست شامل تھے۔۔ انہی میں، میں نے ثمینہ سید کو بھی مدعو کر رکھا تھا۔۔۔ اسی روز وہاں کاسمو پولیٹن کلب میں بھی شاید اور تقریب تھی اور کافی دوست وہاں پر جمع تھے۔۔۔ ثمینہ نے کہا کہ میں تھوڑا لیٹ ہو جاؤں گی البتہ میں ایک دو اور دوستوں کو بھی ساتھ لے کر آرہی ہوں۔۔۔ میں نے کہا ضرور خوش آمدید ۔۔۔ ہنستی مسکراتی بڑی بڑی آنکھوں والی ثمینہ سید جب ملی تو بہت اپنی اپنی سی لگیں ۔۔۔اور ثمینہ کے ساتھ جو دو پیاری ہستیاں تھیں ۔۔۔وہ تھیں ۔۔۔ شاہین کاظمی اورالماس شبی۔۔۔ وہ محفل بڑی یاد گار رہی۔۔۔ بہت خوبصورت یادیں ہم نے اس دن سانجھی کیں ۔۔۔بڑی مزے کی گپ شپ رہی اس دن سب یوں مل بیٹھے جیسے صدیوں سے ایک دوجے کو جانتے ہوں، پہچانتے ہوں ۔۔۔قلم کا رشتہ بھی کیا ہی حسین رشتہ ہے ۔۔
یوں شناسائی کا ایک نیا دور چل نکلا۔۔۔ اس کے بعد بھی ثمینہ سید نے ہمیشہ میری تحریروں کو سراہا ۔۔۔میرے افسانوں پر مفصل مضمون لکھا۔۔۔وہ ایک بہترین شاعرہ شاندار افسانہ نگار اور عمدہ تنقید نگار ہے ۔۔۔ثمینہ کے تبصرے بڑے ہی جامع اور مفصل ہوتے ہیں۔۔۔وہ کتاب کا کوئی گوشہ بھی تشنہ نہیں چھوڑتی۔۔۔ان کے لکھے ہوئے تبصرے کسی اہم دستاویز سے کم نہیں ہوتے۔۔۔جن سے طالب علم اور اساتذہ دونوں ہی بخوبی فائدہ اٹھا سکتے ہیں ۔۔۔
ان کی نئی کتاب ” میرے ہم عصر” انہی تبصروں پر مشتمل ہے ۔۔۔ثمینہ نے اچھا کیا کہ عرق ریزی سے لکھے گئے ان مضامین کو کتابی شکل میں شائع کروا دیا ۔۔۔زبان سادہ اور سلیس ہے ۔۔۔تحریر میں روانی اور بے ساختگی ہے۔۔۔پڑھتے وقت کہیں بھی بوجھل پن محسوس نہیں ہوتا ۔۔۔اس کا پیش لفظ محترم غلام حسین ساجد نے لکھا ہے۔۔۔یہ بڑا ہی خوبصورت اور منفرد ہے۔۔۔دراصل انہوں نے اپنے عہد کی ایک بڑی مصنفہ کو خراج تحسین پیش کیا ہے ۔۔۔جس کی وہ بجا طور پر حقدار ہے۔۔۔ان مضامین میں
چالیس کے قریب ہم عصر مصنفین کی کتابوں پر لکھا گیا ہے ۔۔۔بلاشبہ یہ بڑا دقیع کام ہے۔۔۔یہ سب ثمینہ کی ادب سے بے لوث محبت کا شاہکار ہے۔۔۔وہ کھلے دل سے اپنے ہم عصروں کو سراہتی ہے ۔۔۔میری خوش نصیبی ہے کہ اس کتاب میں میری نثر پر بھی ایک مفصل مضمون موجود ہے ۔۔۔جو میرے لیے یقیناً بڑا اعزاز ہے ۔۔۔
ثمینہ اپنے عہد کی ایک توانا آواز ہیں۔۔۔ان کا کام کسی تعارف کا محتاج نہیں ۔۔۔شاعری اور افسانے کے حوالے سے بلند پایہ مقام رکھتی ہیں ۔۔۔خدا کرے کہ وہ یونہی کامیابیاں سمیٹتی آگے بڑھتی رہیں ۔۔۔
دعا ہے کہ پیاری ثمینہ یونہی شہر ادب کی رونقیں بڑھاتی رہیں ۔۔۔اللہ جلد ازجلد انہیں مکمل صحت یابی عطا فرمائے آمین ثم آمین ۔




