اُردو ادباُردو شاعرینظم
ناسٹیلجیا / اعجازالحق
ناسٹیلجیا
وہ گلی
جہاں پیپلوں کی گھنی چھاؤں میں
دوپہریں تھکن اوڑھ کر سو گئی تھیں
جہاں شام کا زرد آنچل
کسی بام کی سیڑھیوں میں الجھا تھا
وہ گلی
اب بھی ویسی ہی ہو گی
وہ در
جس پہ صدیوں کی دستک رکی تھی
جہاں وقت کی بے صدا چاپ
کسی راہرو کی طرح بیٹھتی تھی
وہ در
اب بھی ویسا ہی ہو گا
وہ لمحے
جو بارش کی بوندوں کی صورت
کسی چھت کی پیشانی پر گرتے
جو کھڑکی کی جالی میں سوکھے ہوئے ہاتھ کی
چوڑیوں کی طرح کھنکھناتے
وہ لمحے
کہاں کھو گئے ہیں
یہ رستے
یہ دیوار و در
یہ مٹی کے موسم
یہ ماضی کی سوئی ہوئی سرگوشیاں
سبھی کچھ وہی ہے
مگر میں نہیں ہوں




