
آج مجھے تم سے ملنے آنا ہے ۔ میری آنکھوں میں سیاہ کاجل ہے اور چہرے پر گلال ۔ میں نے وہی رنگ پہنا ہے جو تمہیں پسند تھا ۔ آسمان کا رنگ ۔۔۔ تمہیں یاد ہے ناں وہ لمحہ جب تم نے سنہرے رنگ کی چوڑیوں سے میری کلائیوں کو بھر دیا تھا ۔ وہی چوڑیاں آج میرے ہاتھوں میں چمک رہی ہیں ۔ سالہا سال گزر گئے مگر ان کی چمک ابھی بھی باقی ہے ۔ اور کھنک بھی ۔۔۔ میں نے آئینے میں ابھی اپنا چہرہ دیکھا ہے ۔۔۔ ہونٹوں کے گرد جو تبسم ہے وہ تم سے ہی منسوب ہے۔ تم جب اس مسکراہٹ کو دیکھو گے تو تمہیں بیتے ہوئے جانے کتنے لمحے یاد آئیں گے ۔ وہ لمحہ بھی جب تمہارے ہونٹوں نے میرے چہرے کو چھوا تھا ۔ اور میں نے تمہاری بانہوں میں اپنا آپ چھپا لیا تھا ۔ میرا تم تک پہنچنے تک کا راستہ تب بھی طویل تھا اور اب بھی طویل ہے ۔ میرے شہر سے جو بس نکلتی ہے وہ بہت سست روی سے چلتی ہے ۔ راستے میں کئی سٹاپ ہیں جہاں اسے رکنا ہوتا ہے ۔ اور جب یہ چلتے چلتے یکدم رک جاتی ہے تو جیسے میرا دل بھی ٹھہر جاتا ہے ۔ اور جانتے ہو تم ، ایسا آج بھی ہوا ہے ۔ پہلے تو میں کبھی راستوں کی طوالت کی پرواہ نہیں کرتی تھی ۔ مجھے سفر کرنا بھی گراں نہ لگتا تھا۔ لیکن اب تو ایک ایک لمحہ جیسے بوجھ بن کر گزر رہا ہے ۔ میں گھڑی پر نگاہ ڈالتی ہوں ۔ منزل پر پہنچنے کےلئے ابھی سوا دو گھنٹے رہتے ہیں ۔
تمہیں یاد ہے تم نے ہی کہا تھا کہ ہم کبھی جدا نہیں ہوسکتے ، چاہے میں کہیں بھی رہوں تم مجھے یوں ہی چاہو گے اور میں بھی ۔ جہاں جہاں گئی ، جس موڑ سے گزری جس گام پر رکی ، تمہاری یاد کو پلو سے قیمتی شے کی طرح باندھے رکھا ۔ میرے لیے یہ بھی بہت تھا کہ میں اب بھی تم سے محبت کرتی ہوں اور تم بھی مجھ سے ۔۔۔۔
تین دہائیاں گزر گئی ہیں جب تم نے پرائے دیس کےلئے اڑان بھری تھی اور میں ڈولی میں بیٹھ کر کسی اور کے آنگن جا اتری تھی ۔
تم نے کہا تھا ، تم آؤ گے
میں نے کہا تھا میں انتظار کروں گی
لیکن ایسا نہ ہوسکا ۔
تم نہ آئے
نہ مجھے انتظار کی اجازت ملی ۔ لیکن پھر بھی محبت تم ہی سے کی ۔۔۔ صرف تم سے ۔۔۔راتوں کو تنہائی میں تم سے باتیں کیں ، بارش کی بوندوں کو تمہارے نام کے ساتھ محسوس کیا ۔۔۔اپنے آنسو تمہارے تصور کے روبرو رکھ کر بہائے اور خوشی کے لمحے سب سے پہلے ان ہواؤں کے سپرد کیے جو مجھے یقین تھا تم تک پہنچتی ہیں اور جب بھی کوئی سرد ہوا مجھے چھو کر گزرتی تھی تو مجھے لگتا تھا کہ یہ تمہارا سندیسہ ہے ۔ تمہارا لمس ہے جو تم نے میرے لئے ہواؤں کے سپرد کیا ہے ۔ میرا من چاہتا کہ میں اس لمس کو چھپا لوں ۔۔ ہمیشہ کےلئے ۔۔اپنے اندر ۔۔۔اور ان لمحوں کےلئے بچا لوں جب لہو سرد ہو جاتا ہے اور دل مدھم ۔۔۔ میں دوسری بار گھڑی کو دیکھتی ہوں بس پھر سے ایک موڑ پر آکر رک گئی ہے ، کچھ مسافر قطار میں کھڑے ہیں اور کچھ اتر رہے ہیں ۔ میری منزل آنے میں کئی سمے باقی ہیں ۔ تم منتطر ہوگے ، میں جانتی ہوں ، تم پر انتظار کا ہر گزرتا ہوا لمحہ گراں گزر رہا ہوگا ۔ تم اپنی گندمی کلائی پر بندھی روپہلی گھڑی کو بار بار دیکھتے ہوگے ۔ شاید تمہارے چشمے کا نمبر بھی بدل گیا ہوگا ۔ کیا اب بھی سنہرا چشمہ لگاتے ہو ؟ خیر ، دیکھ لوں گی میں ۔۔ کچھ ہی دیر تو رہ گئی ہے ۔ میں اپنے بالوں کو پھر سے سنوارنے لگی ہوں ۔ یہ بال اب بھی سیاہ ہیں ۔۔ کیوں ؟ یہ نہ پوچھنا ۔ وقت کی گرد نے میرا چہرہ بدل دیا ہے شاید تمہیں بھی اس کا احساس ہو لیکن یہ جان لینا کہ اس گرد میں ایک ایک ذرہ تمہاری یاد سے پیوستہ ہے ۔ آج جب میں نے لباس زیب تن کیا تو میرے میکے سے کسی نے کہا کہ یہ مجھے اسی طرح جچ رہا ہے جیسے برسوں پہلے سجتا تھا ۔ شاید یہ تمہاری محبت کا کمال ہے یا شاید میں اب تک اسی لمحے میں جی رہی ہوں جب تم نے میرے بالوں کو چھوا تھا اور میرے ہونٹوں کی لالی چرالی تھی ۔ سب کہتے ہیں عورت کا دل بہت گہرا ہوتا ہے ۔ تمہارا بھی تو یہی خیال تھا اور شاید یہ سچ بھی ہے ۔ اگر میرا دل اتنا مضبوط نہ ہوتا تو میں اتنے برس دوہری زندگی کیسے گزارتی ؟ ایک وہ جو تمہارے ساتھ جی دوسری وہ جو تمہارے بنا جی ۔ ساتھ ساتھ چلیں میرے یہ دونوں زندگیاں اور ایسے کہ کسی کو کوئی خبر بھی نہیں ہوئی ۔ کسی نے ایک بار کہا تھا کہ ایسا کرنا منافقت نہیں ہے کہ یہ صرف محبت ہے ۔ منافقت اور محبت بھلا ایک ساتھ کیسے رہ سکتی ہیں ؟ یہ تو ایک دوسرے کی ضد ہیں ۔ بس روانہ ہوچکی ہے ۔ اس کی ادھ کھلی کھڑکی کے اس پار شام رخصت ہورہی ہے ۔ سورج کی کچھ کرنیں قرمزی رنگ میں ڈھل کر زمین کے کناروں پر گرنے لگی ہیں ۔ مجھے ایسا لگ رہا ہے جیسے آج ایسا رنگ میرے چہرے کا بھی ہے ۔ تم سے ملنے کے احساس نے میرے وجود کا رنگ بدل دیا ہے ۔ جلد ہی سرمئی شام پھیل جائے گی ۔ بالکل میرے دل کی طرح ۔ مجھے چلتی بس کے شور میں بھی اپنے دل کی دھڑکن سنائی دینے لگی ہے ۔ اتنے برسوں کے بعد روبرو آنے پر تم کیا کہو گے ؟ ۔۔۔ شاید گئے برسوں کا احوال یا محبت کی تجدید کا اظہار ۔۔۔ تمہارے ہاتھوں کی انگلیاں مجھے دیکھ کر لمحہ بھر کو لرزاں ہو جائیں گی بالکل ایسے ہی جیسے نہر کنارے بیٹھے ہوئے میری قربت کے احساس سے کانپ جاتی تھیں ۔
تمہارا چہرہ مجھے اب بھی یاد ہے مبہم تبسم میں چمکتا ہوا اور تمہاری آنکھیں جو تم سے بھی زیادہ بولتی تھیں۔۔۔ کبھی کبھی اتنا زیادہ کہ میں خود میں چھپنے لگتی تھی ۔ ہم کیوں نہ مل سکے ؟ اب میری آنکھوں میں ستارے اتر آئے ہیں ۔ باہر بھی شب کا پہلا ستارہ ٹمٹمانے لگا ہے ۔ جدائیاں ہمارا مقدر کیوں بن گئیں ؟ ہم مل بھی تو سکتے تھے ، ایک ساتھ زندگی بتا بھی تو سکتے تھے ۔ لیکن ہم نے شاید وقت کی آواز کو سنا نہیں تھا یا وہ لمحے ہمارے ہاتھوں سے پھسل گئے تھے ۔ وہ فیصلہ کرنے آئے تھے اور پھر مایوس لوٹ گئے تھے ۔ اب سوچتی ہوں تو دل چاہتا ہے کہ وقت کو تھام کر الٹے پاؤں بھاگنے لگوں اور ان گم تشنہ لمحوں کو پھر سے آغوش میں لے لوں ۔
تم جانتے ہو ! میں پورے تین برس تک تمہارا انتظار کیا تھا ۔ ہر روز۔۔۔ میں اس راستے پر جا نکلی تھی جہاں تم نے وقت رخصت الوداع کا ہاتھ بلند کیا تھا۔ تمہارے انتظار نے مجھے ڈاک خانے سے آنے والے اس آدمی کا انتظار کرنا سکھا دیا تھا۔
جو ہاتھوں میں سندیسے اٹھا کر لاتا تھا۔ اور وہ میرے سامنے سے گزرتا۔۔۔ میرا ہاتھ آگے بڑھتا ۔ وہ میری طرف دیکھتا اور اگے بڑھ جاتا۔ اور میرا ہاتھ خالی رہ جاتا میری زندگی کی طرح۔۔۔
اب بس اگلے پڑاؤ کی جانب بڑھ رہی ہے جو میری منزل ہے لمحے کم ہو رہے ہیں تمہیں دیکھنے کا وقت قریب آ رہا ہے
کیا تم مجھے پہچان لو گے! سب کہتے ہیں میں اب بھی ویسی ہوں۔۔ بس تھوڑا بہت بدلاؤ آیا ہے ۔ اور تم ؟ ۔۔۔ کیا تم بھی ویسے ہی ہو یا بدل گئے ہو ؟ کیا خبر تمہیں دیکھ کر میں پہچان نہ پاؤں۔ لیکن یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ تم قریب ہو اور میری دھڑکن کی ترتیب نہ بدلے
بس اب آہستہ آہستہ رک رہی ہے ۔۔۔سڑک بارش کی بوندوں سے نم ہے۔۔۔ لگتا ہے یہاں ابھی ابھی بادل برسا ہے ۔ تمہارا پسندیدہ رنگ ہمارے استقبال کے لیے زمین پر اتر آیا ہے۔
پانی کے قطرے بس کی کھڑکی کے ارد گرد جمع ہونے لگے ہیں ایسا لگ رہا ہے جیسے ان میں کچھ قطرے میری آنکھوں کے بھی ہیں ۔۔۔کیسے ہو سکتا ہے تمہاری یاد آئے اور میری آنکھیں خشک رہ جائیں یہ میرا دل ہے۔۔۔ کوئی بنجر زمین تھوڑی ہے یہاں یادیں پنپتی ہیں محبت خوشبو دیتی ہے آنکھ سے شبنم گرتی ہے ۔
بس رک چکی ہے اپنا سانس مشکل سے سنبھالے میں نے اس روش پر قدم بڑھا دیے ہیں جس کے قریب بہت قریب تمہاری قیام گاہ ہے۔ وہ چٹھی میرے ہاتھ میں ہے جس پر تم نے پتہ لکھ کر بھیجا تھا۔ ایک ساتھی مسافر نے مجھے بتایا تھا کہ یہ جگہ بس سٹاپ سے زیادہ دور نہیں۔ گو چلنا میرے لیے آسان نہیں لیکن میں اپنے قدموں پر آنا چاہتی ہوں تاکہ ایک ایک قدم مجھے تمہاری قربت کا احساس دلائے ۔ سانس بھاری ہونے کے باوجود یہ مسافت مجھے روئی کے گالےکی طرح ہلکی محسوس ہو رہی ہے ۔۔۔بارش کی بوندیں اب بھی برس رہی ہیں میرا نیلا لباس بھیگتا چلا جا رہا ہے کلائیوں کی روپیلی چوڑیوں پر کئی بوندیں آ کر ٹھہر گئی ہیں۔۔۔ بس مجھے ڈر ہے کہیں انکھوں کا کاجل نہ پھیل جائے مجھے علم ہے کہ تم بے چینی سے میرے منتظر ہو گے تمہاری نگاہیں بار بار دروازے کی جانب اٹھتی ہوں گی اور بے قراری سے تمہارا دل کبھی تیز اور کبھی مدم ہوتا ہوگا میرے ہاتھوں میں جو چٹھی ہے اس پر لکھائی تمہاری تو نہیں ہے پھر کس کی ہے کیا تم نے کسی اور سے خط لکھوایا ہے یا پھر ان برسوں میں تمہاری انگلیوں نے مختلف طریقے سے لکھنا سیکھ لیا ہے۔۔۔ کئی موڑ مڑنے کے بعد شاید میں اگئی ہوں تمہارے قریب سامنے ہی تو ہے۔۔۔ بارش میں بھیگی روشنی میں چھپی عمارت۔۔۔ تو تم یہاں ٹھہرے ہوئے ہو دل ایک جھٹکا سا لیتا ہے۔۔۔ سانس رکنے لگتی ہے بس اب میں تمہیں دیکھنے والی ہوں کیا کہوں گی تم سے۔۔۔ کیا دیکھ کر رو دوں گی یا پھر شکوہ کروں گی کیا خاموشی سے تمہارے پہلو میں آ سماؤں گی ؟
سامنے ہی ایک عارضی طور پر بنا ہوا برآمدہ ہے میں کچھ لمحوں کے لیے یہاں رک گئی ہوں۔۔۔ سانس بحال کرنے کے لیے یا شاید دل کی بے ترتیب دھڑکن کو سنبھالنے کے لیے تمہیں دیکھنے سے پہلے مجھے خود پر قابو پانا ہے لیکن آنکھوں کی ضمانت کیسے دوں۔۔۔ ان کا پانی تو ہر وقت بہنے کے لیے تیار ہوتا ہے اس پانی کو میں کیا روک پاؤں گی ؟ تم بھی تو شاید رو دو گے ۔۔۔مجھے دیکھ کر ایسا ہی تو کرتے تھے تم۔۔۔ جب ہم آخری بار ملے تھے اور ہم نے الوداع کہا تھا ۔۔۔تب بھی تمہاری آنکھیں چھلک گئی تھیں تو کیا تم آج بھی رو دو گے یا پھر وقت نے تمہیں مضبوط اور مزید توانا کر دیا ہے اب تم پہلے سے چنچل ،جذباتی اور شوخ لڑکے نہیں بلکہ بڑھاپے کو چھوتے دراز قامت گریس فل شخص ہو گئے ہوگے جو ٹھہر ٹھہر کر بولتا ہوگا ۔۔۔جس کی گہری آنکھوں پر سنہرا چشمہ ہوگا۔۔۔ اور سفید بالوں میں کہیں کہیں سیاہی ہوگی ۔۔۔شاید تمہارے کندھے قدرے جھک گئے ہوں گے لیکن مجھے یقین ہے کہ پھر بھی تمہارا دراز قد ویسا ہی خوبصورت لگتا ہوگا وقت کے ساتھ تمہارے چہرے اور شخصیت میں اور بھی وقار آگیا ہوگا ۔
میرا سانس ٹھیک ہو رہا ہے ۔۔۔بارش بھی تھم گئی ہے اب میں سڑک کے اس پار جا چکی ہوں۔۔۔ وہیں تو ہے سرمئی شام میں گھری اونچی دیواروں والی سفید عمارت۔۔۔ کیا خبر تم کسی درخت کنارے کھڑے میرے منتظر ہو اور اگر ایسا ہوا تو میں شرمندہ ہو جاؤں گی ۔ کتنی دیر کر دی ہے میں نے پہنچنے میں۔ انتظار کرنا تو میں نے تم سے ہی سیکھا تھا۔ نہر کنارے کبھی دھوپ میں، کبھی ساون میں، تم پہروں میرے منتظر رہتے تھے اور مجھے دیکھتے ہی بنا شکوہ مسکرا دیتے تھے۔
کس قدر محبت کی تھی تم نے مجھ سے اور میں نے تم سے۔۔۔ پھر ہم ایک کیوں نہیں ہو سکے؟
یہ ایسا سوال ہے جو برس ہا برس سے روز میرے دل میں جاگتا ہے اور پھر جواب نہ پا کر خود میں گھلنے لگتا ہے۔ میرا دل اندر ہی اندر رونے لگا ہے ۔
زندگی تو ایک مرتبہ ہی ملی تھی۔۔۔ ہمیں اور بیکار گئی یوں ہی بس یادوں میں، محبت کی تجدید میں، سوالوں میں عذابوں ،میں ہم دونوں اسی جہاں میں جیتے رہے۔۔۔ الگ الگ ، جدا جدا۔ کیسا اذیت ناک تھا یہ سب ۔۔۔میرے قدم پھر سے بوجھل ہونے لگے ہیں لیکن میں رکنا نہیں چاہتی عمارت کے آس پاس جو درخت نظر آرہے ہیں۔۔۔ میں غور سے آنکھیں مل کر اندھیرے میں دیکھ رہی ہوں لیکن وہاں مجھے کوئی سایہ کوئی وجود نظر نہیں آ رہا۔۔۔ تمہارا سایہ ۔۔۔تمہیں تاریکی میں بھی پہچان سکتی ہوں اور یہاں تو روشنی ہے۔۔۔ اچانک میری نظر اٹھتی ہے اور عمارت کے باہر بڑے بڑے حروف میں لکھا نظر آتا ہے سٹی ہاسپٹل ۔ میں اپنی مٹھی میں دبا ہوا کاغذ کھولتی ہوں چٹھی پر لکھا ہوا پتہ دیکھتی ہوں۔
ایک ایک حرف اور ایک ایک عدد میرے سامنے ہے یہی تو لکھا ہوا ہے اس پر ۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا ہے سامنے ایک کاؤنٹر ہے اس پر کچھ لوگ بیٹھے ہیں ۔ میں اندر جا کر کاغذ ان کے سامنے کھول دیتی ہوں اور وہ سر ہلا کر تائید کرتے ہیں تو یقیناً یہی جگہ ہے۔۔۔ جہاں تم نے مجھے بلایا تھا۔ یہ جگہ ہسپتال ہے۔۔۔ لیکن میرا دل سوچوں کہ عجیب زاویے میں جا الجھا ہے شاید تم کسی سے ملاقات کے لیے یہاں آئے ہو۔۔۔ ہاں شاید میں آگے بڑھتی ہوں ادھر ادھر دیکھتی ہوں یوں محسوس ہوتے جیسے اچانک راہداری کے کسی کونے سے تم نکل آؤ گے بالکل میرے سامنے میری آنکھوں کے قریب میرے دل کے پاس اور میں تمہارا ہاتھ تھام لوں گی۔۔۔ بنا کچھ کہے اور تمہارے ہونٹ میرے بالوں کو چھو لیں گے بہت شائستگی اور محبت کے ساتھ راہداری ختم ہو رہی ہے لیکن تم مجھے کہیں دکھائی نہیں دے رہے ۔ میرا دل دھڑک دھڑک کر اب تھکنے لگا ہے۔۔۔ سانس رک رہی ہے۔۔۔ یوں لگ رہا ہے جیسے میری رگوں سے زندگی کی رمق رخصت ہو رہی ہے ۔۔۔میں قریبی بینچ پر بیٹھ کر پھر سے تمہارا خط کھول رہی ہوں شاید تم نے کچھ اور بھی لکھا ہو کچھ ایسا جو میری نگاہوں سے مخفی رہ گیا ہو۔۔۔ کوئی نام ،کوئی نمبر لیکن یہاں تو چند سطریں تھیں اور خالی حاشیے اور بس۔۔۔ ایک آواز آتی ہے جو میں نے پہلے بھی سنی ہے۔ میں سر اٹھاتی ہوں ایک نوجوان میرے سامنے کھڑا ہے ۔۔۔تمہاری شکل جیسا، وہی آنکھیں ،وہی بات کرنے کا انداز ۔۔۔لیکن یہ تم تو نہیں یہ تو کوئی اور ہے تمہارے چہرے اور آواز جیسا۔۔۔ میرا دل تھم تھم کر چلنے لگتا ہے "میرے ساتھ آئیے” ۔
اس نے اور کچھ بھی نہیں کہا اور نہ ہی پوچھا وہ مجھے تمہارے پاس لے کر جا رہا ہے۔۔۔ لیکن کیا میرے قدموں سے بےتابی لپٹنے لگی ہے۔۔۔ بس وہ نوجوان ہے ،میں ہوں اور طویل راہداری۔۔۔ آہستگی سے اٹھتے قدموں کی دھمک یک دم رک جاتی ہے اور وہ ایک نیم وا دروازے کے قریب جا کر میری طرف دیکھتا ہے میں اس کے عقب میں چھپنا چاہتی ہوں جانے کیوں۔۔۔ جبکہ میں جانتی ہوں وہ مجھے اندر جانے کا اشارہ کر رہا ہے میں ایک قدم آگے بڑھتی ہوں اور دو قدم پیچھے کی جانب پلٹ جاتی ہوں۔۔۔ جیسے کوئی دھکیلتا ہے مجھے۔۔۔ جانے کیا بات تھی کہ دل اندر سے گریزاں ہے اور خوفزدہ بھی۔۔۔ دروازے تک پہنچتے پہنچتے کئی سمے گزر گئے ۔۔۔جانے کتنی بار میرا سانس رکا ہے اور دل تھما ہے۔۔۔ پہلا قدم اندر ہے اور دل کا دریا سپرد طوفاں۔ نیم اندھیرے میں جو چہرہ نظر آرہا ہے وہ میرے لیے اجنبی ہے جانے کون ہے چند ہڈیوں پر مشتمل یہ وجود۔۔۔ اسے تو میں ہرگز نہیں پہچانتی مین گھبرا کر پلٹنا چاہتی ہوں لیکن ایک آواز نے میرے پاؤں میں زنجیر ڈال دی ہے وہ آواز جو میری سماعت میں اس طرح بند تھی جیسے سیپ کے اندر موتی۔
آس پاس کی دیواروں سے وحشت برستی ہے اور میں چونک کر اس سمت دیکھتی ہوں ۔۔۔میرا نام ان ہونٹوں پر تھا جو مشکل سے حرکت کر رہے تھے ایک سرگوشی سی بلند ہوتی ہے جانے کیا کہہ رہے تھے وہ زرد سرد ہونٹ۔۔۔ میری آنکھوں کے سامنے سیاہی پھیلنے لگتی ہے خود کو گرنے سے روکنے کے لیے میں نے دیوار کو تھام لیا ہے۔۔۔ اجنبی نوجوان نے اندر آ کر مجھے سہارا دیا ہے اور کرسی کو اس پلنگ کے قریب رکھ دیا ہے ۔ جہاں سے مانوس آواز کبھی ابھرتی کبھی ڈوبتی ہے ۔ میری نظریں ایک مرتبہ پھر اٹھتی ہیں۔۔۔ کیا یہ تم ہو میں تمہاری بند آنکھوں کو دیکھتی ہوں۔۔۔ جو کھلنا چاہتی تھیں لیکن شاید تم ان میں چھپی نمی کو چھپانا چاہتے تھے میرا ہاتھ اٹھتا ہے اور تمہاری سرد انگلیوں کو چھونے لگتا ہے۔۔۔ تمہارا ہاتھ دھیرے سے لرزتا ہے بالکل ویسے ہی۔۔۔ نہر کنارا میری آنکھوں کے سامنے آ جاتا ہے ۔ کیا یہ وہی ہاتھ ہیں کیا یہ وہی تم ہو یا کوئی اور ہے۔۔۔ تمہاری انگلیاں دھیرے دھیرے میری کلائی کی چوڑیوں پر آ رکی ہیں ۔۔۔ایک قطرہ تمہاری بند آنکھوں سے نکل کر تمہارے رخسار کی ابھری ہڈی پر آ رکا ہے۔ نہر کنارے سبزے پر جو ہنسی کا جلترنگ گونجا تھا اب وہ گونج بن کر اپنے مدفن کی جانب بڑھنے لگا ہے۔ میں جانتی ہوں اس سمے ہم ایک سا محسوس کر رہے ہیں وہی یادیں، وہی پل ،وہی زمانہ ،وہی محبت مجھے ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے ہم نے وقت بتایا ہی نہیں۔۔۔ ہم تو اب بھی وہیں کھڑے ہیں ۔۔۔بس وقت کی گرد نے ہمیں خاکتسر کر دیا ہے۔ میں کبھی تمہیں دیکھتی ہوں کبھی قریب کھڑے خاموش نوجوان کو۔۔۔ کئی سوال میرے دل میں ہیں لیکن پوچھنے سے خوف زدہ ہوں کچھ سوالوں کے جواب اس قدر اذیت ناک ہوتے ہیں کہ آپ ان کے بارے میں کچھ سننا نہیں چاہتے۔۔۔ شاید میں بھی کچھ جاننا نہیں چاہتی تھی تمہارے سینے کی ہڈی کے نیچے دل کا ارتعاش مجھے سب بتا رہا تھا تو کیا تم مجھ سے اسی لیے ملنا چاہتے تھے ؟ آخری بار آخری بار دیکھنا چاہتے تھے۔ اور کیا تمہیں یقین تھا کہ تمہیں یوں بدلے ہوئے وجود کے ساتھ دیکھ کر جی پاؤں گی۔۔۔ میں جس کا دل کمزوری کے باعث دوائیوں پر انحصار کرتا تھا جس کے لیے کچھ قدم چلنا محال ہے یہ تو تمہاری محبت تھی جو مجھے یہاں تک لے آئی ۔۔۔وگرنہ سال ہا سال سے میں ایک ہی کمرے میں بند ہوں۔۔۔ بے اولاد اور اب بھی اپنے میکے میں ہی اسی کمرے میں جہاں تمہارے سندیسے کے انتظار میں، میں پہروں دریچے میں کھڑی رہتی تھی ۔
کاش میں تمہیں اپنے دل کا دردسنا سکتی کیسے گزرے یہ ماہ و سال بیان کر سکتی ۔۔۔سوچا تھا دل کی کتاب کا ایک ایک حرف پڑھ کر سناؤں گی لیکن میں تو ایک لفظ بھی نہیں کہہ پائی یہ بھی نہیں کہ مجھے اب بھی تم سے محبت ہے میرا کمزور دل بہت آہستگی کے ساتھ دھڑکنے لگا ہے۔۔۔ اس کی دھڑکن پھر سے بے ترتیب ہو رہی ہے میرے ہاتھ سرد ہونے لگے ہیں۔۔۔ جانتے ہو آج تم سے ملنے کے احساس نے سب کچھ بھلا دیا تھا یہ بھی کہ اپنی زندگی کی بقا کے لیے مجھے دوا بھی کھانی ہے ۔
کس قدر جلدی تھی مجھے تم سے ملنے کی کہ دوا کی تھیلی وہیں پڑی رہ گئی۔۔۔ شاید اچھا ہی ہوا اب کسے چاہت ہے جینے کی ۔ تمہارے نحیف ہاتھوں نے میری یخ ہوتی انگلیوں کو تھام لیا ہے۔۔۔ یوں جیسے اب کبھی چھوڑ نہ پاؤ گے کیسی عجیب بات ہے کہ ایک سی دکھ رہی ہے ہر انگشت۔۔۔ تمہاری بھی میری بھی۔۔۔ جیسے ایک ہی روح سے پرورش پائی ہو انہوں نے یوں جیسے ایک سا وقت گزرا ہو ان پر وہی سلوٹیں وہی ،رنگ وہی ارتعاش، وہی سرد ہوتی ہوئی تمازت ۔ تمہاری آنکھیں اہستہ آہستہ آہستہ بند ہو رہی ہیں۔۔۔ جیسے تمہیں زندگی کا مقصد حاصل ہو گیا ہو۔۔۔ ایک سکون ہے تمہاری پلکوں کے اطراف میں ہے۔۔۔میرا دل بھی بے ترتیبی کی روش چھوڑ کر سبک روانی سے چل پڑا ہے مدھم مدھم جیسے الوداع کہنا چاہتا ہو میرے لہو کو۔۔۔ تمہاری بند آنکھوں کے ساتھ ہی میری پلکیں بھی بھاری ہو گئی ہیں جیسے اب زیست کا بوجھ نہ اٹھا پائیں گی۔۔۔ میں جانتی ہوں کہ میری سانسوں نے تمہاری سانسوں کو تھام لیا ہے ان کا سفر ایک ایک ساتھ تو نہیں بیتا لیکن ہاں ختم اکٹھے ہی ہوا ۔





محبت ایسا دریا ہے
کہ پانی سوکھ بھی جاۓ
محبت کم نہیں ہوتی۔
شاندار لکھا ۔ بہت خوبصورت