
میرے گھر کے آنگن کی طرح گاؤں کی تنگ و تاریک سی گلیوں میں بھی شام اتر رہی تھی۔ ڈوبتے ہوۓ سورج کی نڈھال کرنیں جیسے تھک کر زمین پر ڈھیر ہو رہی تھیں بالکل میرے بھوک سے کمزور اور زرد پڑتے بچے کی طرح۔۔۔ میں نے ساری سفید پوشی چادر کی صورت میں اوڑھی اور چادر کا کنارہ مضبوطی سے پکڑ کر دودھ والے چاچے شیدے کی دوکان کے دروازے پر جا کھڑی ہوئی۔ دل کی دھڑکنوں میں ایک ہی سوال تھا—کیا وہ مجھے آج بھی خالی ہاتھ لوٹا دے گا؟؟؟
”چاچا… میرا عبداللہ اب تین برس کا ہو گیا ہے۔ اسے ڈبے والا مہنگا دودھ پلانا اب میرے بس کی بات نہیں رہی، تھوڑا سا ہی دے دو بیشک… میں پیسے جلدی ہی ادا کر دوں گی۔” میں نے نہایت آہستگی سے لرزتی ہوئی آواز میں کہا۔ لیکن چاچا شیدے کے چہرے پر سختی کی لکیریں ابھریں اور اس نے اک ذرا سا طنزیہ قہقہہ لگایا اور بولا:
”ادھار؟ تیرے میاں کے پاس نشے کے پیسے ہیں، لیکن دودھ کے نہیں؟ اور ویسے بھی نشئیوں سے بھلا ادھار کون کرتا ہے!”
دودھ والے کے اونچی آواز میں بولے گئے الفاظ میرے کانوں میں گونجتے گئے، مجھے دنیا کی ہر نظر اپنا تمسخر اڑاتی محسوس ہونے لگی گویا سب کے سامنے میری سفید پوشی کا بھرم رکھتی سیاہ چادر اتر گئی ہو اور میں کسی مقناطیس کی طرح سب کی نظروں کو اپنی طرف کھینچنے لگ گئی ہوں۔۔۔ جیسے ہر لفظ ببول کا ایک کانٹا بن کر دل میں اترتا گیا۔ میں نے نگاہیں جھکائیں اور دھیرے سے کہا:
”چچا… میں اپنے بچے کو حرام کی کمائی کا نوالہ نہیں دینا چاہتی۔ اس کا باپ چاہے جتنا بھی دے، میں صاف انکار کر دیتی ہوں۔ عبداللہ بھوکا رہے گا، مگر ناجائز رزق کا ایک قطرہ بھی نہیں پئے گا۔ لیکن آخر کب تک۔۔۔!!؟”
میری آواز ضرورت مندی اور بے عزتی کے ملے جلے احساسات کے سبب کانپ رہی تھی مگر لقمۂ حرام سے بچنے پر میرا یقین پتھر کی طرح اٹل تھا۔ ایسا لگا جیسے میرے الفاظ چچا شیدے کو کچھ یاد دلا گئے ہوں اور
چاچے شیدے کے چہرے کا رنگ یکایک جیسے بدل گیا ہو۔ اور جیسے اس کی نم ہوتی آنکھوں کے آگے کوئی پرانی یاد جاگ اٹھی ہو۔ اس نے سر جھکایا اور خاموشی سے تھیلی اٹھائی، ایک کلو دودھ اس تھیلی میں ڈالا اور میرے لرزتے ہاتھ میں تھما دیا۔ پھر میرے سر پر باپ کی سی شفقت کا ہاتھ رکھتے ہوئے دھیرے سے بولا:
”لے جا بیٹی… خدا تیرے بچے کو ہمیشہ حلال لقمے کی برکت دے اور حرام کی آگ سے بچائے۔”
میں نے مشکور اور شرمندہ نظروں سے دودھ والی تھیلی کو سینے سے لگا لیا۔ آنکھوں سے تشکر لیکن کم مائیگی کے دکھ سے بھرے دو آنسو بہہ نکلے، مگر اس کے باوجود دل کے اندر ایک عجیب سا سکون اتر آیا—جیسے غربت کی اس اندھیری رات میں میرے بچے کے لیے حلال دودھ کی روشنی جل اٹھی ہو۔۔۔۔




