غزل

غزل /کسی دریچے کی بیلوں میں چاند ٹھہرا ہوا/ نذیر قیصر

غزل

نذیر قیصر

میں جیسا سوچ  رہا تھا  وہی ہوا  میرے ساتھ

میں چل پڑا تو  ستارہ بھی چل پڑا میرے ساتھ

 

کسی دریچے کی بیلوں میں چاند ٹھہرا ہوا

تری گلی سے گزرتی ہوئی ہوا میرے ساتھ

 

بس ایک پھول اسے نذر کر کے آ یا میں

پھر اس کے بعد کھلے پھول جا بجا میرے ساتھ

 

میں ڈھونڈتا ہوں وہ آ نکھیں کسی ستارے میں 

کوئی تو ہو گا کہیں جاگتا ہوا میرے ساتھ

 

سکوت  شب  کو  عقیدہ  بنا لیا  میں نے

کبھی تو بات کرے گا میرا خدا میرے ساتھ

 

بہشت میں میری مٹی خراب کی جس نے 

وہی فرشتہ زمیں پر بھی آ گیا میرے ساتھ 

 

میں رنگ و نور تھا جب چاک سے اتارا گیا 

میرا غبار بھی اس نے اڑا دیا میرے ساتھ

 

یروشلم کی سرائے ہےاور آخر شب

کلام کرتا ہوا آ خری دیا میرے ساتھ

 

ہم ایک ساتھ ہیں اک دوسرے سے بچھڑے ہوئے 

مری تلاش میں نکلا ہوا خدا میرے ساتھ

 

چراغ جیسے پکڑ لے کسی چراغ کی لو

وہ جاتے جاتے ملا اور لپٹ گیا میرے ساتھ

 

میں پیڑ کاٹ کے کشتی بنانے والا تھا

ندی میں پیڑ کا سایا اتر گیا میرے ساتھ

 

عجیب رنگ تھے میرے الاؤ میں قیصر 

میرے الاؤ میں جنگل ہرا ہوا میرے ساتھ

Author

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x