غزل
غزل /وہ نظر آئے بالکل الگ طور کے /احتشام حسن

غزل
احتشام حسن
میں نے برتے سبھی زاویے غور کے
وہ ہر اک میں حسیں ہیں نئے طور کے
جا چکا تھا میں آگے بہت عشق میں
جب کھلا مجھ پہ وہ ہیں کسی اور کے
پھر گزارا اداسی میں دن آج کا
کل پہ ڈالے سبھی کام فی الفور کے
یہ حوالہ محبت سے کم تو نہیں
میں بھی لاہور کا تم بھی لاہور کے
پہلے کاغذ پہ بنتا تھا اب فون پر
دل تقاضے سمجھتا ہے ہر دور کے
ایک ہی مکتب_ عشق_ اردو سے ہیں
ہوں کراچی کے لہجے کہ اندور کے
ہجر سے چند اک روز پہلے حسن
وہ نظر آئے بالکل الگ طور کے




