
صبح ہی صبح جمال کو اپنے دروازے پر دیکھ کر مجھے کافی حیرانی ہوئی کیونکہ عموماً وہ ہمیشہ نو دس بجے تک سیدھا دکان پر ہی آتا تھا۔ لیکن اس نے اپنے آنے کی جو وجہ بیان کی تھی اس نے میرے چودہ طبق روشن کر دئیے تھے۔
یہ کیسے ممکن ہے؟
کوئی ایسا کیسے کر سکتا ہے؟
یہ ناممکن ہے یقیناً جمال کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہو گی۔
اس طرح کی کتنی ہی باتیں میرے ذہن کی دیواروں پہ ہتھوڑے کی طرح برسنے لگی تھیں۔ پہلے سوچا کہ ہمیشہ کی طرح جا کر محسن سے بات کروں لیکن پھر ارادہ بدل دیا کہ اس نے آج تک میری کوئی بات مانی ہے جو یہ مانے گا۔ الٹا طعنے تشنے ہی سننے کو ملیں گے اس لیے خاموش ہو کر بیٹھ رہا۔ لیکن اگلی صبح اس سے بھی دردناک تھی میرے دکان پر پہنچتے ہی جمال بھی آ گیا تھا۔
اویس بھائی آپ کو شاید میری بات پر یقین نہیں آیا جو آپ محسن بھائی کو سمجھانے نہیں گئے۔۔۔ جمال نے میری گہری خاموشی سے شاید یہی نتیجہ اخذ کیا تھا۔
"نہیں جمال ایسی بات نہیں۔ کرنے کو تو محسن کچھ بھی کر سکتا ہے۔ میرا چچازاد ہے ۔ بچپن سے ایک ساتھ رہے ہیں لیکن اس حد تک گر سکتا ہے یہ بات مجھے ہضم نہیں ہو رہی” میں نے برملا اپنی رائے کا اظہار کر دیا تو اس نے بےاختیار اپنا سر نیچے جھکا دیا
دیکھ لیجیے کہیں روزِ قیامت آپ کا گریبان بھی چچا جی کے ہاتھ میں نہ ہو” جمال تو بات مکمل کر کے گاہکوں کو نمٹانے لگا اور میں اس کی کی گئی بات کی بازگشت میں الجھ کر رہ گیا۔
سارا دن جمال کی کہی بات مجھے کچوکے لگاتی رہی بالآخر میں ایک فیصلے پر پہنچ گیا۔
آصف چچا میرے اکلوتے چچا تھے اور محسن ان کا اکلوتا بیٹا ۔ چچی کا انتقال محسن کے پیدا ہوتے ہی ہو گیا اور چچا نے اپنی سرکاری نوکری بھی سنبھالی اور محسن کو بھی۔۔ ان کے بےجا لاڈ پیار نے محسن کو نکھٹو اور کام چور بنا دیا تھا۔
محسن نے اپنی مرضی سے شادی کر لی اور چچا نے خوشدلی سے اپنی پینشن کے پیسے محسن کے حوالے کر دئیے کہ چلو کوئی چھوٹا موٹا کاروبار کر لے گا تو گھر آئی کسی کی بیٹی بھی سکون پا لے گی۔ محسن نے اپنے کسی دوست سے شراکت داری پر کاروبار کیا اور چچا کو لے کر دوسرے شہر چلا گیا۔
چچا جی کو فالج کا اٹیک ہوا تو میں اور میری بیوی ان کا پتا کرنے سرگودھا سے فیصل آباد گئے۔
محسن کے معاشی حالات بہت دگر گوں تھے۔ اسے اس کے دوست نے کاروبار کرنے کے نام پر دھوکا دیا تھا ۔چچا کی حالت بھی کچھ اچھی نہ تھی۔ میں نے بہت دفعہ محسن سے کہا کہ چچا جی کو میرے ساتھ بھیج دو وہاں ان کے علاج کے ساتھ اچھی خوراک بھی ہو گی تو جلدی ٹھیک ہو جائیں گے لیکن وہ اور اس کی بیوی کسی صورت نہ راضی ہوئے ۔ فالج کے حملے کی وجہ سے چچا جی بول تو نہیں سکتے تھے لیکن ان کی آنکھوں میں نظر آتا کرب ان کی اداسی بیان کر رہا تھا۔ میں نے آتے ہوئے کچھ پیسے محسن کی مٹھی میں یہ کہہ کر دئیے چچا کا بیٹا ہونے کے ناتے ان کا مجھ پر بھی کچھ حق ہے۔
میں اپنی دکان داری میں مصروف ہو گیا۔ محسن سے فون پر روز بات کرتا اور چچا کا پوچھتا تو وہ پہلے سے بہتر ہیں کہہ کر تسلی دیتا۔
اور اب جب جمال نے مجھے یہ بات بتائی تو حقیقتاً میرے تلووں سے لگی اور سر پہ بجھی۔ ایسا کیسے ممکن تھا۔ مجھے بہرحال جمال کی بات پر یقین کرنا ہی تھا کیونکہ یہ بات کسی نے جمال کو بتائی نہیں تھی بلکہ جمال خود اپنی آنکھوں سےساری صورتحال دیکھ کر آیا تھا۔ میں گھر بتا کر صبح سویرے سرگودھا سے فیصل آباد جانےوالی بس پر سوار ہو گیا۔
اڈے پر اترتے ہی میں نے رکشہ لیا اور اسے اپنی منزلِ مقصود سے آگاہ کیا۔ گھنٹہ گھر کو کراس کرتے جیسے ہی میں اوکاڑہ فیصل آباد روڈ پر پہنچا تو ڈی ٹائپ چوک میرے سامنے تھا لیکن اس سے زیادہ ہولناک وہ منظر تھا جس نے گزشتہ دو راتوں سے میری نیند غارت کر رکھی تھی ۔ میری نظروں نے جو کچھ دیکھا تھا میرا دل چاہا کہ زمیں پھٹے اور میں اس میں سما جاوْں ۔ ملجگے رنگ کا سوٹ پہنے محسن اور نہایت ہی خستہ حال میں وہیل چئیر پر بیٹھے چچا۔۔۔۔۔
چچا کے بازووْں پہ جا بجا لگی پٹیاں، اور زخمی دایاں پاوْں جس سے پیپ بہہ رہی تھی اور بائیں ٹانگ پر بندھی پٹی نے مجھے اس انہونی کی خبر دے ڈالی تھی جس کا ذکر جمال نے کیا تھا ۔میں بھاری ہوتے قدموں سے چل کر محسن کے سر پر جا پہنچا اور کھنکھار کر اسے اپنی طرف متوجہ کیا۔
"اویس بھائی آپ” مجھے دیکھ کر محسن کے چہرے کا رنگ فق ہو گیا تھا۔ میں نے قہر آلود نظروں سے اسے دیکھا اور بنا کچھ کہے آگے بڑھ کر چچا کی وہیل چئیر کو پیچھے سے پکڑا اورگھر کی طرف چل پڑا ۔ وہاں سے محسن کے گھر کی پیدل مسافت صرف دس منٹ تھی۔ گھر پہنچتے ہی دروازہ بند کر کے محسن بھی میرے پیچھے ہی تھا
"آپ مجھے بتاتے میں آپ کو اڈے سے لے آتا” وہ کانپتی آواز سے بولا تو میں جو کب چچا کی شکوہ کناں آنکھوں سے نظریں چرا رہا تھا ایک دم غصے سے پھٹ پڑا
"اگر تمہیں بتاتا تو یہ حقیقت کیسے سامنے آتی کہ تم نے چچا کو بھیک مانگنے پر مجبور کر دیا ہے۔”
✍🏻حمیرا نگاہ




