
بقول شاعر
چراغِ طور جلاؤ بڑا اندھیرا ہے
ذرا نقاب اٹھاؤ بڑا اندھیرا ہے
اس شعر کے بعد جواد نے اپنی تقریر کا آغاز یوں کیا
” اشرف المخلوقات ہونے کے باوجود انسان خود کو دنیا کا بد مست جانور ثابت کرنے پر بضد ہے ۔ اپنے ہاتھ میں لوہا اٹھائے زمانوں کی نقابیں الٹائے اپنے ہاتھوں کو خون سے رنگین کئے چلا جا رہا ہے ۔ ہر وقت ہر سطح پر ترقی کی آڑ میں تلوار سے لیکر میزائلوں کی نمائش تک اپنی آستانیں چڑھائے اپنی حاکمیت جتاتے سامنے والے کی سانسوں کا دشمن بن کر دوسروں کو بھسم کر کے نجانے کون سی تسکین پا رہا ہے ۔ جبکہ حقیقت حال میں ویسے ہی انسان نے اپنے وقت پر دنیا کو چھوڑ جانا ہوتا ہے پھر اس کام میں انسان کو یہ سب اپنے ہاتھ میں لوہے سے بنے یہ ہتھیار استعمال کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں کو دوسروں کے خون سے رنگین کرنے کی کیا ضرورت ہے ۔
تحفظ کی آڑ میں صرف اپنی حاکمیت جتانا ۔ کتنی سفاکی ہے ایسے تمام مائنڈ سیٹ میں ۔
مکالمہ بہترین حل ہے اور تمام ممالک کو اپنے دانشوروں کی فوج تیار کرنی چاہئے تا کہ انکی سر زمینوں پر آگ نہیں سرخ گلاب اور رنگے برنگے پھولوں کی مہکتی خوشبوئیں سفر در سفر رہیں ”
گاؤں کے سکول کے ساتویں جماعت کے طالب علم جواد کو اسکے کلاس فیلوز ایک الگ مخلوق سمجھتے ۔ وہ جب بھی کوئی بات کرتا تو وہ سب ہنس پڑتے مگر اسے ان کے ہنسنے سے کوئی فرق نہ پڑتا وہ اپنی منفرد سوچ کا اظہار کرتا رہتا ۔ آج جواد پر ہنسنے والے اسکے ہم جماعت اسے گاؤں کے قریبی قبرستان میں سپردِ خاک کرتے ہوئے نہ تھمنے والے آنسوؤں سے روئے جارہے تھے کہ کل شب یہاں گرنے والے ایک میزائل نے اسکی سانسیں بند کر دیں اور جواد دنیا سے رخصت ہوتے ہوئے بھی اپنے دوستوں کے لئے ایک سوال چھوڑ گیا کہ کل شب فتح کس کی ہوئی !
فاتح کون ہے !!




