بلاگ

موم کا پہاڑ / زوبیہ حسیب

زندگی ایک انجان, پر خطر,پر مشقت اور پر لطف تجربے کا نام ہے. ایک ایسا منفرد تجربہ جو آپ کو ہنسنا,رونا,قدم بڑھانا, یا پھر چپ رہنا سیکھاتا ہے. اس تجربے کی سب سے بڑی خوبی ہے کہ ہر انسان اس تجربے کے ہر پہلو سے مستفید نہیں ہوتا. کچھ لوگ صرف رونا سیکھتے ہیں.بعض لوگ صرف ہنسنا جانتے ہیں. اکثر لوگ محنت ومشقت اور جدوجہد کو ہی محور حیات مانتے ہیں. دوران سفر کئی انجان موڑ آتے ہیں,کئی مقامات پر راستہ ہموار یا پھر خستہ و بدحال ہوتا ہے. بہت دفعہ سوار کو سواری کی رفتار بڑھانی یا گھٹانی پڑتی ہے.

” مؤثر حکمت عملی دانائی کا
بہترین عکس ہوتی ہے”

اسی طرح محض کسی ایک تصور کے تحت جینا زندگی نہیں ہے. زندگی کا معانی ومفہوم جس قدر وسیع ہے اتنا ہی آسان اور عام فہم ہے.
"موم کا پہاڑ” یہ عنوان زندگی کے معانی ومفہوم کی بہترین عکاسی کرتا ہے. اس انجان اور پرخطر سفر کو طے کرنا آسان ہے. صرف ہنسنا نہیں ہے رونا بھی ضروری ہے. فقط چپ ہی نہیں رہنا بروقت کلام کرنا بھی دانشمندی ہے. کہانی بھی لکھنی ہے اور کردار بھی بننا ہے. کامیابی کے لئے سینہ پتھر ہو مگر دل کا موم ہونا لازم ہے. کسی بھی مشکل سے لڑنا بلندی کی نشانی ہے.

” ٹھوکر سے ڈرنے والے کبھی
کامیاب نہیں ہوتے. ”

راستے کی خستگی اور بد حالی کا حل ترک سفر نہیں ہے بلکہ ایسی صورت میں محض راستہ تبدیل کیا جاتا ہے. منزل بدلتی ہے نہ اس کا مقصد. موم کا پہاڑ بننا سیکھیں.
پہاڑ کسی کسی بھی شکل میں ڈھل جاۓ اس کی اصلیت چٹانوں جیسی ہی رہتی ہے. موقع کی مناسبت سے ڈھل جانا ہی حقیقی خوبی ہے. انسان کی اصل شناخت اس کی سچائی, ایمانداری, اخلاق اور ظرف ہے. یہ وہ سرمایہ ہے جس سے ہر شے حاصل کی جاسکتی ہے.

” جس کے پاس ظرف ہو
وہ ناکام نہیں رہتا”

اس لئے آپ ظاہری طور پر کسی بھی مقام پر رہیں. آپ کی اصلیت مضبوط ہونی چاہیے. آپ کا دل نرم زبان شریں اور اصلیت چٹان ہونی چاہیے.

 

Author

Related Articles

Back to top button