غزہ سے متعلق رضوان کا بیان ہمارے دائرہ اختیار میں نہیں: آئی سی سی

پاکستانی بلے باز محمد رضوان کے غزہ سے یکجہتی سے متعلق بیان پر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کا کہنا ہے کہ وکٹ کیپر بیٹسمین کا بیان آئی سی سی کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔
آئی سی سی کے ترجمان نے انڈیپنڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’فرد اور ان کے بورڈ پر منحصر ہے کہ وہ اپنے انفرادی پلیٹ فارم کو کس طرح استعمال کرنا چاہتے ہیں۔‘
سری لنکا کے خلاف ورلڈ کپ میں تاریخی فتح کو محمد رضوان نے ’غزہ کے بہن بھائیوں‘ کے نام کیا تھا جس کے بعد ان کے اس بیان پر بحث جاری ہے۔
بدھ کو محمد رضوان نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر لکھا کہ ’یہ جیت غزہ میں ہمارے بہن اور بھائیوں کے لیے ہے۔‘
This was for our brothers and sisters in Gaza.
Happy to contribute in the win. Credits to the whole team and especially Abdullah Shafique and Hassan Ali for making it easier.
Extremely grateful to the people of Hyderabad for the amazing hospitality and support throughout.
— Muhammad Rizwan (@iMRizwanPak) October 11, 2023
ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ پاکستان کی فتح میں حصہ ڈال کر خوش ہیں۔ انہوں نے اس کا سہرا پوری ٹیم کے سر باندھا ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
پاکستانی بلے باز محمد رضوان نے انڈیا کے شہر حیدرآباد کے لوگوں کی مہمان نوازی اور حمایت پر بھی شکریہ ادا کیا۔
محمد رضوان کی پوسٹ پر جہاں پاکستان میں بیشتر صارفین ان کی تعریف کر رہے ہیں وہیں انڈیا کے ایکس صارفین محمد رضوان کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ وہ محمد رضوان کی پوسٹ کا موازنہ ماضی کے واقع سے کر رہے ہیں جب مہندر سنگھ دھونی کو آئی سی سی نے انڈین فوج سے متعلق دستانے پہننے سے منع کر دیا تھا۔
انڈین صحافی وکرانت گپتا نے محمد رضوان کی پوسٹ پر آئی سی سی سے سوال کیا کہ اس کی اجازت ہے؟ ساتھ ہی لکھا کہ مجھے یاد ہے دھونی کو ورلڈ کپ 2019 کے دوران گلوز سے آرمی کے نشان کو ہٹانے کا کہا گیا تھا۔
Is this allowed @ICC ? I remember Dhoni was asked to remove the Army insignia from his gloves during the World Cup 2019
Aren’t cricketers prohibited from making political and religious statements during ICC events?— Vikrant Gupta (@vikrantgupta73) October 11, 2023
پاکستان سے باہر سے کچھ بیانات محمد رضوان کی پوسٹ کے خلاف آئے مگر پاکستانیوں کی بڑی تعداد نے اس بیان کو سراہا۔
ایک صارف نے محمد رضوان کی تصویر لگا کر لکھا کہ’ ایک ہی دل کتنی بار جیتو گے؟‘
ابراہیم حنیف نے لکھا کہ جو انڈین رضوان نے پر تنقید کر رہے ہیں انہوں نے پوسٹ کا آخری حصہ چھوڑ دیا ہے جس میں انہوں نے حیدر آباد کا شکریہ ادا کیا۔
brilliant message from a champion player, to all Indians who ignored last lines in which he is thanking hyderabad and Are criticizing Rizz for speaking for the Innocent Palestinian kids are nothing but toxic, he can support and raise his voice for the oppressed ones palestine is…
— Ibrahim Hanif (@Ibrahim02114) October 11, 2023
ایک صارف نے رضوان کی پوسٹ کے جواب میں لکھا کہ یہی وجہ ہے کہ رضوان اپنی پرفامنس کے بغیر بھی بہترین کھلاڑی ہے۔
This is why, irrespective of performance, Rizwan remains the best player on team
— Oshaz (@ThisisOshaz_) October 11, 2023
ایک اور صارف عامر ملک نے لکھا کہ انڈین کرکٹر بھمرا کی اہلیہ نے آئی سی سی پکر پریزنٹر ہوتے ہوئے یوکرین کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا تھا مگر رضوان کا فلسطین کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنے پر مسئلہ ہے۔ ’یہ دوغلہ پن ہے۔‘
Bumrah Wife being an ICC presenter can show Solidarity with Ukraine, Indian people neither we have any problem.
But Rizwan showing solidarity with Palestine is issue for them… Hypocrisy.! pic.twitter.com/3qaVVzmu3S
— Aamir Malik (@Cagedm23) October 11, 2023




