
رات کی دبیز قبا ہنوز تمام چاک نہ ہوئی تھی، مگر مشرقی افق پر نور کی لطیف جھلمل نے اپنی زلفیں بکھیرنا شروع کر دی تھیں۔ برفانی سحر کی سرد و ساکت فضا میں ہر ذی روح گویا لمحۂ موجود کے طلسم میں مقید تھا۔ زمین نے ایک لطیف، دودھیا ردا اوڑھ رکھی تھی۔ درختوں کی شاخیں برف کی نازک چادر تلے مستور تھیں اور ان پر جمی برف کسی شفاف آبگینے کی طرح تاباں تھی۔ ہوا یخ بستہ تھی، مگر اس میں سرگوشیوں کا ایک مخفی ساز مدھم لہریں اٹھا رہا تھا۔
میں ایک گوشۂ تنہائی کے بینچ پر متمکن تھا، ہاتھوں میں "دوسرے کمرے میں بیٹھا خیال”(عالیہ مرزا کی نظمیں)لیے ہوئے، جو برف کی نرم چادر سے بھی زیادہ لطیف اور اس بے کراں خاموشی سے بھی زیادہ با معنی ہیں۔
عالیہ مرزا شاعرہ ہونے کے ساتھ ساتھ آرٹسٹ بھی ہیں اور یہی دوہرا ہنر ان کے متن کو رنگ اور ان کے رنگوں کو متن عطا کرتا ہے۔ گویا قلم سے بنے نقوش کینوس پر لہو بن کر دوڑتے ہیں اور کینوس کے رنگ لفظوں میں روشنی گھول دیتے ہیں۔ ان کے فن میں شعریت اور بصری جمالیات یوں باہم پیوست ہیں کہ خیال، تصویر بن کر نظر آتا ہے اور تصویر، مصرع بن کر دل میں اترتی ہے۔ اس کم یاب جوڑ کی سب سے بڑی صفت ان کی جمالیاتی باخبر ی ہے۔ وہ جو دیکھتی ہیں اسے برتتی بھی ہیں اور جو برتتی ہیں اسے برمحل لفظ دیتی ہیں، بصیرتِ نظر اور بصیرتِ زبان کا حسین امتزاج کہہ سکتے ہیں۔
عالیہ مرزا ایک حساس روح ہیں جو ہر دکھ، ہر یاد، ہر بچھڑے لمحے کو اپنی نظموں میں سمو کر اسے امر کر دیتی ہیں۔ وہ گم گشتہ موسموں میں سانس لیتی ہیں اور اپنے حرفوں میں یادوں کو یوں پروتی ہیں جیسے کسی قدیم مخملی گلاب پر شبنم کے قطرے موتیوں کی طرح جڑ دیے گئے ہوں۔
ان کی نظمیں کسی استعارے کی محتاج نہیں، وہ خود ایک مکمل کائنات ہیں۔ جن میں گزرے لمحوں کی روپہلی چمک ہے، ادھورے خوابوں کی نمی ہے اور بچھڑ جانے والوں کی مدھم سرگوشیاں ہیں، جو وقت کے ضخیم پردوں میں لپٹ کر بھی اپنی بازگشت برقرار رکھتی ہیں۔ ان کے ہاں ماضی کوئی بجھی ہوئی راکھ نہیں، بلکہ ایک سلگتا ہوا چراغ ہے جو حال کی خاموش فضاؤں میں روشنی کی کرنیں بکھیرتا ہے۔
بہر کیف ان کی نظمیں سادگی اور گہرائی کا امتزاج ہیں، جہاں الفاظ کم ہیں مگر معانی کے جہان وسیع۔ یخ بستہ جھونکوں کے بیچ یہ نظمیں مجھ پر ایک منفرد سحر طاری کر رہی ہیں۔
کچھ نظمیں درج ذیل ہیں:
یادیں کبھی سٹور روم میں نہیں رکھی جاتیں!
بہت آسان ہوتا ہے
سامان کو سٹور روم میں رکھنا
اور کہنا!
"اب اس کی ضرورت نہیں رہی”
جیسے ماں کا پلنگ
اب کمرے میں نہیں ہے
اَن گنت یادوں سے جڑے اس پلنگ پر
ماں کا لمس بکھرا ہوا تھا
بارہا میں نے اُس کی آنکھوں سے جھڑنے والے دُکھ
اسی بستر سے اُٹھائے
اور پیروں کو دباتے ہوئے اس کے تلوؤں سے
صدیوں کے سفر سمیٹے
ماں کی عادت تھی رومال میں خوابوں کو
عیدی کی طرح باندھ کے سرہانے رکھتی
اور عید کے روز ہماری ہتھیلیوں پر اس کے دیے ہوئے
خواب مسکراتے
اب کچھ بھی نہیں
پلنگ، سرہانہ ، خواب ، سب خواب ہوئے
مگر یادوں کا پانی دھیرے دھیرے آنکھوں سے
روح میں اتر گیا ہے
ایسی یادوں کو بھلا سٹور روم میں کیسے رکھا جاسکتا ہے !
۔۔۔۔۔
بوسیدہ کاغذ پر نظم
زندگی بوسیدہ کاغذ پر لکھی ہوئی نظم ہے
کہیں سے ہلکی، کہیں سے گہری
کہیں سے آدھی، کہیں سے مٹی ہوئی
یا ایک کپ کافی پلانے کے وعدے جیسی ہے
جو چاہتے ہوئے بھی پورا نہیں ہوسکتا
زندگی اجنبی شہر کے رستوں میں
بھٹکتی رہتی ہے
کچھ ریل گاڑی کی سیٹی میں گم ہونے لگتی ہے
جب نقاب پہن کر چلتی ہے
تو پلیٹ فارم کا نمبر بھول جاتی ہے
اور غلط ڈبے میں سوار ہو کر
کسی انجان اسٹیشن پر اتر جاتی ہے۔۔۔۔۔۔
ہمارے شہر میں موت شیرینی کی طرح بٹنے لگی ہے
شاید میں تم سے نہ مل سکوں
مگر جب تم بوسیدہ کاغذوں سے
میری نظموں کو چنا گے
تو میں تمہارے ہاتھوں میں سدا زندگی رہوں گی
۔۔۔۔۔
خواب رکھ کر بھول گئی ہوں
یہاں وہاں
سب چیزوں کے درمیاں دیکھ لیا تھا
میز پوش اٹھا کر دیکھا
گل دان کے سارے پھول نکالے
کچھ نہ ملا
شیلفوں پہ قرینے سے لگی سبھی کتابیں
الٹ پلٹ ڈالیں
کپڑوں کی الماری کو قطار اندر قطار
ہاتھوں سے ٹٹولا
ہینگر میں لگے سب کوٹوں کی جیبیں خالی نکلیں
بستر الٹا، تکیے اٹھائے
رات جو خواب دیکھا تھا
جانے اُسے کہاں رکھ کر بھول گئی ہوں!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دو گھونٹ خواہشوں کے
میں نے اپنی
اک پرانی نظم کے
کچھ خیال چرائے
سوچ کے تہہ خانوں سے
چند لفظ نکالے
اور ورق ورق گرد اتاری
آنکھوں کی جلن
عینک کے خالی کیس میں رکھ دی
کل رات کمرے میں کوئی اور بھی تھا
کافی کے مگ میں
خواہشوں کے چند گھونٹ بچے تھے
سوچتی رہی، پی لوں
یا دو گھونٹ خواہشوں کے بچا کر رکھ لوں!



