اُردو ادباُردو شاعرینظم
یہی ہماری زندگی ہے / احمد امتیاز
یہی ہماری زندگی ہے
ہم ایک دھندلی فضا میں محو سفر ہیں،
اجنبی راستوں کا اختتام درندوں بھرے جنگل میں
کسی بدن جھلساتے صحرا میں
یا طوفان اٹھاتے سمندر تک ہے کچھ نہیں معلوم
شائد کوئی راستہ بستیوں کی طرف بھی نکلتا ہے جہاں بھوک اور افلاس رقص کر رہی ہے
ان بستیوں کے باسی زندہ رہنے کے لئے لہو کے پیاسے ایک دوسرے پر جھپٹ رہے ہیں
ہم اپنے خیالوں کی مدھم کرنوں کی اندھی روشنی کے سہارے سمتوں کا اندازہ لگا کر سفر کر رہے ہیں
کسی کو نہیں معلوم کہ کہاں جا رہے ہیں
آگے موت گھات لگائے ہماری منتظر ہے
سفر میں بے یقینی ، بے چینی اور خوف زاد راہ ہے
بس یہی ہماری زندگی ہے




