اُردو ادباُردو شاعرینظم
سرد خانے میں رکھی تنہائی / ثبات گل
سرد خانے میں رکھی تنہائی
ہم نے
دل اور جسم آباد کیے
جب ہماری روحوں کو "متروک شدہ ٹھکانہ” قرار دیا گیا
اپنے دل میں گھر کرنے کی اجازت کے ساتھ
تم نے
جب بےگھری کا طعنہ دیا، تو
پچھلے ایک سو تین دنوں کی کشمکش ختم کرتے ہوئے
میں نے
کسی مخبوط الحواس بچے کی طرح
اپنی خواب زدہ آنکھوں کو ویرانی سے بھر دیا
کیا
مستقبل کی تنہائی کے خوف سے
کی جانے والی محبتوں کی کلوننگ ممکن ہے؟
اور کیا شمار ہو سکتی ہیں
حال محفوظ کرنے جیسے فریب سے جنمی غلطیاں؟
رائیگانی کے دنوں میں مجھے
خود کو خط لکھنے کا مشورہ دینے والا میرا دوست،
مر چکا ہے۔۔۔
اس کی دراز بے شمار خطوں سے بھری پڑی ہے
جن کی روشنائی مٹتی جا رہی ہے
دیکھو! تنہائی سمیٹتے میرے ہاتھ
سرد ہو چکے ہیں
سانس لیتی یادوں کا عذاب
رفتگاں کے غم سے کہیں بڑھ کر ہے،
تو کیا
زہر اور محبت کا رنگ ایک جیسا ہوتا ہے؟





سانس لیتی یادوں کا عذاب
رفتگاں کے غم سے کہیں بڑھ کر ہے ۔۔۔
بہت خوبصورت نظم لکھنے پر ثبات گل کو مبارک باد