نظم
بٹن کو دبانے سے پہلے / اویس ضمؔیر
بٹن کو دبانے سے پہلے
بٹن کو دبانے سے پہلے۔۔۔
تذبذب کا اِک لمحہ کھنچ کر
تھما یوں کہ سب رک گیا تھا
سوالِ وجود و عدم سے الجھتا
دمِ آخریں کو بمشکل سنبھالے ہوئے
دست و پا مارتا مَیں
اندھیرے کے سیّال میں ڈوبتا تھا
غضب خوف سے دل پھٹا جا رہا تھا
یہ لگتا تھا مَیں
کائناتی توجّہ کا مرکز بنا
خورد بینوں کے نیچے کھڑا تھا
مِرے فیصلے کو رقم کرنے سارا
نظام اِک گھڑی میں سمٹ کر
مِری ذات پر مرتکز ہو گیا تھا۔۔۔
بٹن کو دبانے سے پہلے۔۔۔
کہیں لحظہ بھر کو
مِرا کُل جہاں میری نظروں میں گھوما
اِدھر ایک جانب
مکافات کے سرمئی کینوس پر
سیہ سرخ پرچھائیاں منتشر تھیں
اُدھر۔۔۔
ایک سر سبز و شاداب و روشن چمن میں
تمہارا تبسّم سے آراستہ پیکرِ ناز گرچہ
نہایت قریں تھا
مِری شش جہت سے مگر
ایک لا منتہی فاصلے پر !




