غزل

غزل | اسی لیے تو مجھے کوئی اطمنان نہ تھا | باسط پتافی

غزل

اسی لیے تو مجھے کوئی اطمنان نہ تھا

مِرے یقین کو حاصل تِرا گمان نہ تھا

نہ کوئی جھونکا چلا اور نہ کوئی کھڑکی کھلی

مکین دکھ سے بھرا تھا مگر مکان نہ تھا

یہ چائے برف بنی، ہونٹ میرے سوکھ گئے

کہ تیری میز پہ میرا کوئی نشان نہ تھا

یہ میرے پاؤں کی تاثیر ہے زمیں کی نہیں

وہ تیری آنکھ کا جادو تھا آسمان نہ تھا

درونِ ذات تِرے جو نہیں ہے موسیقی

سو میرے سینے میں شاید چراغ دان نہ تھا

اسے بھی میری طبیعت کا کوئی پاس نہیں

مجھے بھی اس کی مشیّت کا کوئی دھیان نہ تھا

Author

  • توحید زیب

    روحِ عصر کا شاعر ، جدید نظم نگار ، نظم و غزل میں بے ساختگی کے لیے مشہور

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x