اُردو ادباُردو شاعریغزل
غزل / اس لیے طعنہ پڑ رہا ہے ہمیں / علیم عالم
غزل
اس لیے طعنہ پڑ رہا ہے ہمیں
عشق دہرانا پڑ رہا ہے ہمیں
اس کی مجبوریاں سمجھ آئیں
آج جب جانا پڑ رہا ہے ہمیں
اس سے بہتر تو عشق کر لیتے
جتنا پچھتانا پڑ رہا ہے ہمیں
اس نے مرہم رکھا ہے ہونٹوں سے
زخم جھٹلانا پڑ رہا ہے ہمیں
دل تو تم نے لگایا تھا ہم سے
اس کا ہرجانہ پڑ رہا ہے ہمیں
وصل کی ایک شب تو کافی نہیں
جتنا جرمانہ پڑ رہا ہے ہمیں
موسمِ ہجر آن پہنچا ہے
اور گھر جانا پڑ رہا ہے ہمیں




