انٹرویو : روما رضوی / انٹرویوور: عطرت بتول

تعارف
روما رضوی اردو ادب کی ایک متحرک اور باصلاحیت ادبی شخصیت ہیں جو شاعری، صحافت اور انٹرویو نگاری میں یکساں مہارت رکھتی ہیں۔ وہ برطانیہ سے شائع ہونے والے معروف پلیٹ فارم "عالمی اخبار لندن” سے وابستہ ہیں اور کئی اہم ادبی و ثقافتی شخصیات کے انٹرویوز لے چکی ہیں۔ ان کی تحریروں میں فکری گہرائی، نسوانی حساسیت اور زبان و بیان کی شستگی نمایاں ہے۔ روما رضوی نہ صرف ایک کہنہ مشق شاعرہ ہیں بلکہ اردو ادب کو عالمی سطح پر فروغ دینے میں بھی مصروف عمل ہیں۔ روما رضوی سماجی اور فلاحی کاموں سے بھی وابستہ ہیں این جی او سے منسلک ہے جھگیوں میں رہنے والوں اولڈ ہومز میں رہنے والوں کی فلاح وبہبود کے لیے کام کرتی ہیں اس کے علاوہ بہت سی اہم تقریبات اور سیمنار کی نظامت کرچکی ہیں ہم نے اردو ورثہ کے لیے ان سے بات چیت کی جو پیش خدمت ہے
اسلام علیکم، روما صاحبہ کیسی ہیں؟
الحمدللہ، بالکل ٹھیک
1سوال- آپ اپنی ابتدائی زندگی، تعلیم اور ادبی رجحانات کے بارے میں کچھ بتائیے۔
جواب _ میرا تعلق بنیادی طور پر تو شہرِ کراچی سے ہے شادی کے بعد لاہور آنا ہوا۔ شہر کراچی ہی میں تعلیم کی ابتدا ہوئی وہیں بقایا تعلیم مکمل کی۔مادری زبان بھی اردو ہی ہے اسی سبب سے اردو زبان بلکہ فارسی زبان سے بھی اور ادب سے بھی گھر میں ہر ایک کو ہی لگاؤ تھا تو اچھی کتابیں پڑھنے کی ترغیب بچپن سے ہی ملی بہت چھوٹی عمر میں جب محض اردو پڑھنا سیکھی تھی تو میری نانی اماں ڈپٹی نذیر احمد کے ناولز کی بلند خوانی یعنی اونچی آواز میں پڑھواتی تھیں جہاں غلطی ہوتی درست کرتی جاتیں ۔ یہاں ایک تربیت تو اکبری اصغری کی کہانی سے گھر کی لڑکیوں کی ۔۔کی جاتی تھی اور ساتھ ہی اردو زبان کا امتحان بھی گاہے بگاہے ہوتا رہتا تھا ۔
شاعری تحت اللفظ کی صورت میں گھر کے بزرگ خود بھی پڑھتے تھے اور ہم سب سے بھی سنا کرتے تھے ۔
کچھ عزیز بہت عمدہ شعر کہتے تھے جو گھر کی محافل میں فرمائش پر سنے جاتے ۔
یوں سمجھ لیں کہ اردو فارسی محاورے، مختلف بولیاں ، گئت لوریاں نظمیں سب ہی گھر میں بزرگوں اور گھر کی خواتین کی زبانی بچپن سے سُنیں ۔
اور اردو شاعری میں سب سے پہلے تو انیس و دبیر کے مرثیے سنتے ہوئے آغاز ہوا پھر اچھے شعر کی پہچان ہوئی ، زبان سے محبت ان محافل میں شریک ہوتے ہوئے بڑھتی گئی ۔
میں نے سرسید کالج کراچی سے گریجویشن کیا تب بھی بہت اچھے اساتذہ کی نگرانی میں مضامین نویسی کے مقابلوں میں شرکت کرتی رہی اور قومی سطح پر مقابلوں میں بھی اول انعامات حاصل کئے ۔
ایل ایل بی کراچی یونیورسٹی سے کیا اس دوران بھی مختلف موضاعات پر مطالعے کا موقع ملا ۔سوشیالوجی یا یعنی معاشرے کے مشاہدے پر مبنی تعلیم ہمیشہ سے بہت پسندیدہ مضمون رہا ہے ۔شاہد یہی سبب تھا کہ مختلف حالات میں انسانی رویوں یا ردعمل سے دلچسپی رہی ۔
سوال 2 – شاعری کی طرف پہلا قدم کب اور کیسے اٹھا؟
شاعری سنتے سنتے اچھے اشعار کی پہچان تو ہونے لگی تھی مگر جہاں تک مجھے یاد ہے پہلا شعر خود تیسری جماعت میں کہا تھا
نہیں معلوم ہم آئے کہاں سے
نہیں معلوم اب جانا کہاں ہے
اس وقت اس طرح کے اشعار جو فلسفے پر مبنی ہیں اس وقت بے معنی ہی لگتے تھے کسی کو دکھایا بھی شاید اسی لئے نہیں کہ اس عمر کے مطابق مقصدیت ہی نہیں لگتی تھی۔ مگر شعر سنتے سنتے اکثر اشعار خود ہی ذہن میں وارد ہوجاتے تھے ۔
کالج میں ادبی سرگرمیاں بہت ہوا کرتی تھیں مشاعرے ، بیت بازی ، مضمون نویسی ، گلوکاری کے مواقع بھی ملتے تھے کالج میگزین کی ایڈیٹوریل کمیٹی یعنی مجلس ادارت کی رکن رہی اس دوران بھی انٹرویوز کئے ہماری استاد آمنہ مشفق صاحبہ جو جناب مشفق خواجہ کی اہلیہ تھیں وہ بھی بہت رہنمائی کرتی تھیں ۔
جب بھی کبھی کوئی ادبی مہمان بھارت سے تشریف لاتے تو ہم مجلس ادارت سے منسلک طلبہ کوان سے ملاقات اور گفتگو کا موقع ضرور ملتا تھا ۔
سوال3 – آپ کی شاعری میں احساس، لطافت اور مشاہدہ بہت نمایاں ہے، یہ خوبی کہاں سے آئی؟
آپ کے نزدیک شاعری اظہارِ ذات ہے یا اصلاحِ معاشرہ کا ذریعہ؟
جواب۔مجھے قدرت سے بہت لگاؤ ہے پہلا عشق ہی سمجھ لیں کہ سر سبز و شاداب ماحول، کھلے نیلے آسمان اور بلند و بالا پہاڑوں سے ہوا ۔اور مجھے لگتا ہے قدرت کو سراہنا بھی عبادت ہے اس لئے درختوں سے باتیں کرنا ، پھولوں کو سراہنا ہوا کی شگفتگی سے لطف اندوز ہونا میری بھی طبیعت میں لازم ہوگیا ہے ۔۔
اور ایسا ممکن ہی نہیں کہ آپ شفاف پانی کی روانی دیکھیں خوبصورت نظاروں کو دیکھیں اور کوئی شعر نہ کہہ سکیں ان سب میں شدید رومانیت ہے ۔اور ساتھ ہی جیسے کہ پہلے بھی تذکرہ کیا کہ جس قدر انسان قدرت کے نزدیک ہو یا انسانوں کے نزدیک ہو تو دل سے ہی ان سب کے لئے تعریف و توصیف برآمد ہوتی ہیں۔شاعری اول تو اظہارِ ذات کا ہی ذریعہ ہے معاشرے کی اصلاح تو نبی و پیغمبر نہ کرسکے تو ہم کہاں اس کے اہل ہوسکتے ہیں ۔
ہاں یہ کہا جاسکتا ہے ایک حساس انسان کہ اندر آباد جہان سے اسی شاعری کی صورت دوسرے ہم مزاج افراد متعارف یا آگاہ ہوتے ہیں۔
سوال 4-آپ کن شعرا سے متاثر ہیں؟
– کیا آپ نظم کو زیادہ مؤثر سمجھتی ہیں یا غزل کو؟
شاعری میں میرے استاد یا رہنما سوز شاہجہاں پوری صاحب تھے جو غزل گوئی میں ایک شہرت رکھتے تھے وہ خود بھی نظم کہتے تھے مگر بہت کم نظمیں ان کی لکھی ہوئی ہیں
وہ ایک بہترین قاری بھی تھے جنہوں نے کچھ عرصہ مجھے اور بڑی بہنوں کو قرآت بھی سکھائی بدقسمتی سے مجھے محض چند برس ہی ان سے سیکھنے کا موقع ملا
مگر جس قدر میں نے سیکھا ان سے بہت شفقت اور توجہ حاصل کی وہ مجھے "جاذب” کہتے تھے کہ سیکھنے میں میری دلچسپی ایسی تھی کہ جو وہ سبق دیتے میں اسے دل و جان سے ازبر کرلیتی تھی ۔
غزل کا مقام بہت بلند ہے مگر جس تیزی سے عام فہم لہجے یعنی نظم نے لوگوں میں شناخت حاصل کی ہے وہ قابل ستائش ہے ۔شعرا میں ابن انشا ،مجید امجد صاحب ، امجد اسلام امجد صاحب اور بعض نظمیں فیض صاحب کی اور ن میم راشد صاحب کی مجھے بیحد پسند ہیں ۔نظم اپنے موضوعات کی بناء پر بھی جگہ بنانے میں کامیاب ہوئی ہے۔
سوال 5 – عالمی اخبار لندن سے وابستگی کا آغاز کیسے ہوا؟
– انٹرویو کے لیے کسی شخصیت سے ملاقات کا کوئی خاص تجربہ جو آپ کو ہمیشہ یاد رہا ہو؟
جواب _ عالمی اخبار سے 2019 سے وابستگی ہے
اور صفدر ہمدانی صاحب اس سلسلے میں بہترین استاد ہیں
انہوں نے ہمیشہ میری چھوٹی سے چھوٹی کامیابیوں کو بھی سراہا ہے اور میری غلطیوں کو سدھارا ہے
اس دوران کئی معروف شخصیات سے ملاقات رہی ان سب سے گفتگو نے علم کے مزید ادوار کھول دئیے ہیں ۔
کوئی بھی فرد بنا محنت اور ریاضت کے کامیابی کا زینہ طے نہیں کرتا۔
برسوں کی گمنامی کے بعد منظرِ عام پر آتا ہے ۔
نصیر ترابی صاحب سے ملاقات ان سے انٹرویو یاد گار رہا تھا شاید آخری انٹرویو جو شائع ہوا وہ عالمی اخبار کے لئے انہوں نے دیا تھا۔اسی انٹرویو کے توسط سے ان کے پی ٹی وی اور براہ راست مشاعروں کے تجربات سننے کا موقع ملا ۔
سوال 6 – ایک کامیاب انٹرویو کے لیے آپ کن نکات کو ضروری سمجھتی ہیں؟
جواب _کامیاب انٹرویو کے لئے ضروری ہے کہ ایسے سوال مرتب کئے جائیں کہ صاحبِ مُصاحِبہ کا قاری کے ساتھ ایک ربط قائم ہوسکے وہ تمام سوالات جو مختلف اوقات میں ان کے بارے میں جاننے کے لئے ان کے شائقین کے ذہن میں آسکتے ہیں ان کو شاملِ سوالنامہ کیا جائے ۔
ان کی بتدریج کامیابی اور پسِ پردہ ریاضت کا تذکرہ لازمی شامل کیا جائے ۔ان کی زندگی کے معمولات جن میں بنا تعطل کے وہ اپنی ادبی سرگرمیاں بھی ساتھ ہی جاری رکھتے ہوں انہیں قارئین کے سامنے لایا جائے۔
اگر قاری اپنے محبوب مصنف شاعر یا ادبی شخصیت سے مزید احترام اور اُنسیت پر آمادہ ہوجائے تو سمجھیں آپ نے یہ ملاقات اس شخصیت اور اس کے شائقین سے کروادی ہے ۔
یہی میزبان کی کامیابی تصور کی جاتی ہے ۔
سوال 7 – خواتین کے مسائل کو آپ کس انداز سے اپنی تحریروں میں اجاگر کرتی ہیں؟
جواب _ خواتین ہمارے ملک کی آبادی کا نصف فیصد ہیں
اپنے گھروں میں ان کا کلیدی کردار ہے ، معاشرے میں بہتر فرد کی تربیت انہی کی آغوش میں آغاز ہوتی ہے ۔ ایسے میں انہیں اچھی تعلیم ، اچھی خوراک اور اچھا ماحول دینا اپنے مستقبل کی آبیاری ہے ۔ان کے مسائل اب بھی معاشرے میں اسی طرح موجود ہیں گو کہ تعلیم نے انہیں اعتماد سے آراستہ کیا ہے پڑھے لکھے حلقوں میں ان کی آواز کو اہمیت ملی ہے مگر اب تک وہ کچھ طبقات میں اپنے حقوق سے محروم نظر آتی ہیں ۔
خود اس صنف کی نمائندے کے طور پر ان کے احساسات بحثیت ماں ، بہن ، بیٹی اور بیوی کے تو بخوبی سمجھے جاسکتے ہیں مسائل بھی جو عمومی طور پر درپیش ہوں ان سے براہ راست واسطہ پڑتا ہے۔
بیشتر مشاہدے سے اور خواتین سے گفتگو سے بھی بہت معاملات بہتر طور پر سمجھے جاسکتے ہیں اور اسی طرح کسی کردار کو لکھتے ہوئے وہ قلم سے قرطاس پر منتقل ہوتے ہیں ۔
سوال 8 – اردو ادب کو بیرونِ ملک آپ کی نظر میں کس قسم کے چیلنجز درپیش ہیں؟
جواب _ دراصل بیرونِ ملک ادبی سرگرمیاں کچھ تنظیموں کے تحت ہی منعقد ہوتی ہیں تو اردو بولنے والے بڑے طبقے کو ان میں شامل ہونے کے مواقع کم ملتے ہیں ۔
ایسے میں پاکستانی سفارت خانے اس کام کو بہتر انداز سے انجام دے سکتے ہیں
تہواروں پر مشاعرے یا ادبی میلے منعقد کئے جائیں ان کے باقاعدہ اشتہارات کے ذریعے اعلان کئیے جائیں ، وقتاً فوقتاً کتابوں کی نمائشیں بیرون ملک بھی رکھی جائیں تاکہ شائقین باضابطہ طور پر شرکت کرسکیں ۔
سوال 9- کیا آپ سمجھتی ہیں کہ ادیبوں کو معاشرتی و سیاسی معاملات پر کھل کر لکھنا چاہیے؟
جواب _ ادب کی خصوصیت یہی ہے کہ وہ حالات حاضرہ پر لکھا جاسکتا ہےشعراء حالات کی ترجمانی کرسکتے ہیں ، مزاح نگار کرداروں سے ایسے جملے کہلاوا سکتے ہیں جو عوام کی ترجمانی کرتے ہوں ۔۔
شعرا و ادیب معاشرے کے حساس افراد ہوتے ہیں مشکل حالات سب سے پہلے انہیں بے چین کرتے ہیں اور عوام تک انہیں خبر کی صورت پہنچانے سے زیادہ اہم تمثیلی صورت میں اسے دکھانا ہے جو زیادہ اثرانداز ہوتا ہے ۔
سوال 10 – ڈیجیٹل میڈیا نے اردو ادب اور صحافت پر کیا اثر ڈالا ہے؟
جواب_ ڈیجیٹل میڈیا کے آنے سے ایک نقصان یہ ہوا کہ کچی پکی خبریں فوری پیش کی جانے لگیں مقابلہ اس قدر بڑھ گیا کہ ہر فرد صحافی ، شاعر اور ادیب نظر آتا ہے اسی سبب سے اب یہاں تحقیق و تدوین کی کمی نظر آتی ہے ۔
پہلے لکھنے والے کئی ادارتی مراحل سے گزار کر تحریر کو شائع کیا کرتے تھے مگر اب مقابلہ کہیں یا جلد بازی کے سبب قاری کم اور لکھاری زیادہ نظر آتے ہیں ۔
سوال 11 – کیا شاعری آپ کے لیے ایک جذباتی ضرورت ہے یا شعوری عمل؟
جواب شاعری جذبات سے گزر کر شعوری طور پر سرزد ہوتی ہے ۔۔
کوئی بھی ایسا مرحلہ جو روح پر نقش ہوجائے وہ کسی تحریر یا اشعار کی صورت تصویر ہوجاتا ہے بعض اوقات بے اختیار ہوکر لکھا جاتا ہے کہ ذہن ان آوازوں سے منتشر ہورہا ہوتا ہے کہ جو آپ کے اندر گونجتی ہیں خواہ وہ دکھ ہو خواہ کوئی خوش کن واقعہ ۔
سوال 12 – قارئین سے کیسا ردعمل ملا؟ کیا کبھی کسی نظم یا انٹرویو پر تنقید کا سامنا بھی ہوا؟
جواب _ تنقید برائے تعمیر ہو تو خوش دلی سے قبول کی جاتی ہے اب تک تو قارئین کی جانب سے شکایات موصول نہیں ہوئیں ۔
مگر بہتری کے لئے رہنمائی کی صورت کوئی بھی مشورہ ہو یا کار آمد نکتہ ہو اسے ضرور بغور سنتی ہوں اور قابلِ عمل ہو تو اگلی تحریر میں آزماتی ہوں ۔
سوال 13 – آپ نئی نسل کے اردو لکھاریوں سے کیا توقع رکھتی ہیں؟
جواب _
آج کے نوجوان بہت حساس ہیں مگر خوبصورت و منفرد خیالات کے حامل ہیں ۔
بعض کم عمر مصنفین اور شعراء تو بہت ہی اچھا لکھ رہے ہیں
مگر شاید موجودہ حالات ہی ان کی حساسیت کا سبب ہیں ۔
کہیں کہیں
نرگسیت بھی ان کے لئے رکاوٹ بن سکتی ہے ۔
ان سے یہی گزارش کرتی ہوں
کہ اپنے اساتذہ کے ادبی سفر پر ہمیشہ نظر رکھیں رہنمائی لیتے رہیں اور جلد بازی سے گریز کریں ۔
14سوال – آپ کے نزدیک ادب میں عورت کی آواز کا کیا مقام ہے؟
جواب _
عورت تو ہمیشہ سے ہی ادب تخلیق کررہی ہے خواہ وہ لوریوں کی صورت نظمیں ہوں کہانیاں ہوں ، محاورے ہوں
یوں سمجھئے کہ اردو زبان کی بقاء میں خواتین نے بھی اہم ذمہ داری نبھائی ہے۔
یہ صنف زیادہ حساس ہے قدرت سے نزدیک ہے اور ہر صورت میں بھرپور کردار نبھاتی ہے ۔
ہماری زبان و ادب آج کے دور میں اپنے بچوں اور نئی نسل تک پہنچانا گو کہ مشکل کام ہے مگر ناممکن نہیں ہے ۔
اردو مطالعے کو رائج کرنے کے لئے نئے موضاعات جدید طرزِ تحریر اور دلچسپ اندازِ گفتگو کو
مختلف ادوار میں خواتین نے اپنے خاندانوں کی تربیت میں مکالمے ، قصہ گوئی ، محاورات کے استعمال سے زبانوں کو زندہ رکھا ہے ۔
اردو کے فروغ اور
ادب کی تخلیق میں جس قدر بھی اصناف رغبت سے پڑھی یا سنی جاتی ہیں ان کو بام ِعروج پر پہنچانے میں خواتین کا برابر سے نمایاں کردار نظر آتا ہے ۔۔
فاطمہ ثریا بجیا ، خدیجہ مستور ، قرۃالعین العین حیدر ، ادا جعفری ، پروین شاکر فہمیدہ ریاض ، زہرا نگاہ جیسی خواتین شعرا اب تک اردو ادب میں اہم مقام رکھتی ہیں۔
سوال 15 – مستقبل میں آپ کے ادبی یا صحافتی منصوبے کیا ہیں؟
جواب_
فی الوقت تو میں کچھ سماجی اداروں کے ساتھ منسلک ہوں مختلف اوقات میں یا تقریبات میں کچھ ایسے اداروں میں جانا ہوتا ہے جو زہن پر بہت اثرانداز ہوتے ہیں، کبھی اولڈ ایج ہومز میں خواتین کی کہانیاں سننے میں آتی ہیں اور ان کے استحصال پر دکھ ہوتا ہے ۔
کبھی جُھگی اسکولز میں بچوں کے حالات معلوم ہوتے ہیں ۔
کبھی صحت کے مسائل تو کبھی بنیادی حقوق کی عدم دستیابی نظر آتی ہے ۔
حکومتی اداروں سے زیادہ نجی سماجی ادارے عوام کی مدد میں سرگرم نظر آتے ہیں ۔
ان سب معاملات پر لکھنا بہت اہم ہے خواہ انہیں کہانیوں کی صورت ہی کیوں نا سامنے لایا جائے ۔
دنیا کی ہر زبان کا ادب ایسی ہی کہانیوں سے آراستہ ہے ہر فرد ایک کہانی ہے اور بیشمار کہانیوں کے درمیان جی رہا ہے ۔
میری لکھی کہانیاں ایک عورت کی داستان ہی ہوتی ہیں جو اپنی زندگی اپنی ذمہ داریوں پر نچھاور کردیتی ہے بنا کسی صلے کی توقع کئے ۔
15 سوال _ کہانیاں کہاں کہاں شائع ہوئیں اور کوئی کتاب اب تک کیوں نہیں شائع کی
جواب_ کہانیاں انڈیا ، پاکستان دونوں ہی ملکوں کے مختلف ادبی رسائل میں شائع ہوچکی ہیں ۔
کبھی کوئی دوست بھیج بھی دیتا ہے ۔
کتاب پڑھنے کا رجحان اب بہت کم رہ گیا ہے بیشتر تحریریں سوشل میڈیا پر پڑھی جاچکی ہوتی ہیں تو کتاب سے دلچسپی کم ہی نظر آتی ہے ۔
کتب خانوں میان وقت گزارنے کے بجائے اب قارئین چند سیکنڈز کی ریلز یا ویڈیوز دیکھنا پسند کرتے ہیں
تو کتاب شائع کروانا سرمائے کا زیاں لگتا ہے ۔
ایک بلاگ پوسٹ پر میں اپنی تحریریں شائع کرتی ہوں ۔دلچسپی رکھنے والے اسے فالو کرتے ہیں ۔
سوال 16 – کچھ اپنی شادی اور بچوں کے بارے میں بتائیے
میں کراچی سے شادی ہوکر لاہور آئی اور پھر لاہور سے سعودی عرب پھر ملیشیاء میں کچھ عرصہ مقیم رہی ۔
بچے ماشاءاللہ چار عدد ہیں دو بیٹیاں اور دو بیٹے تعلیم مکمل کرکے اب عملی میدان میں آچکے ہیں ۔


