ایک وقت تھا………………/ فیصل شامی

ایک وقت تھا جب پاکستان دنیا بھر میں کھیلوں کے میدان میں راج کرتا تھا کوئی بھی کھیل ہو کرکٹ،ہاکی،سکوائش، والی بال، کبڈی، سنوکر، ٹینس پاکستانی کھلاڑی ہمیشہ ہر میدان میں چھائے رہے اور دنیا بھر میں فتح کے جھنڈے لہراتے رہے۔ لیکن پھر وقت بدلا پاکستان دنیا بھر میں کھیلوں کے میدان میں بہت پیچھے چلا گیا اور سیانے کہتے ہیں کہ ہر عروج کے بعد زوال اور زوال کے بعد دوبارہ عروج حاصل ہوتا ہے اور یہی حال ہمارا بھی ہے کہ کھیلوں کے میدان میں زول پذیر ہونے کے بعد اایک دفعہ پھر پاکستان کھیل کے میدان میں عروج پا رہا ہے۔یقیناکھیل کے میدان سے اچھی خبریں بھی سننے کو مل رہی ہیں اور پاکستان اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوتا نظر آ رہا ہے۔ ہاکی ٹیم کی اچھی کارکردگی بھی سب کے سامنے ہے اور والی بال کی ٹیم کی زبردست کامیابی سے بھی پاکستانی خوش ہیں۔بڑی خوشی کی خبر تو یہ بھی ہے کہ محمد آصف چھٹی مرتبہ ورلڈ ماسٹر اسنوکر چیمپئین بننے میں کامیاب ہو گئے جبکہ انڈر 17 اسنوکر ٹرافی بھی پاکستانی کھلازی نے اپنے نام کی۔سنوکر کے میدان میں فتح پاکستانی کھلاڑیوں کا زبردست کارنامہ ہے۔ قوی امید ہے کہ پاکستانی کھلاڑی تاریخ دہرائینگے ااور مزید کامیابی کے جھنڈے بھیں لہرائیں گے اور اب بات اگر تھوڑی سی کر لیں کرکٹ کی تو یقینابنگلہ دیش سے ہونے والی حالیہ سیریز میں پاکستانی کھلاڑیوں کی کاارکردگی ناقص رہی اور اب پاکستان ٹیم ویسٹ انڈیز سے سیریز کھیلنے بیرون ملک پہنچ چکی ہے اور دیکھتے ہیں کہ ویسٹ انڈیز سے سیریز میں پاکستانی کھلاڑی کیا چن چڑھائینگے یہ بات بھی وقت ہی بتائے گا۔ اب اگر دیکھا جائے تو ایشیاء کپ کی تیاریوں کا آغاز بھی ہو چکا ہے ایشیاء کپ کا میزبان انڈیا ہے لیکن ایشیاء کپ دبئی میں ہو گا جس طرح سے ایک موقع پہ بھارتی ٹیم نے پاکستان آ کر کھیلنے سے انکار کر دیا تھا بالکل ویسے ہی پاکستان نے بھارت جا کے کھیلنے سے انکار کر دیا اور باقاعدہ وزارت اعلیٰ کی طرف سے نوٹس بھی جاری کر دیا گیا ہے کہ کسی بھی ایونٹ میں پاکستان کی کوئی بھی ٹیم یا کھلاڑی بھارت میں نہیں جائیگا اور پاکستان ٹیم کے انکار پر ایشیاء کپ کے میچ یو اے ای متحدہ عرب امارات میں کھیلے جائیں گے۔پاکستان کے بھارت سے کھیلنے سے انکار پہ بھارتی میڈیا چیخ و پکار کر رہا ہے اور یقینایہ انتہائی افسوس ناک بات ہے کہ کھیل کے میدان میں سیاست کا پہلو شامل کیاجائے۔سیاست اور کھیل دونوں کو ایک دوسرے سے الگ رکھنا چاہیے اورہندوستان کو پاکستان آ کر کھیلنا چاہیے تھا بالکل ویسے ہی پاکستان ٹیم اگر ہندوستان چلی بھی جائے تو کوئی برائی نہیں لیکن بہر حال کیا کہیں یہ سب تو بڑوں کی باتیں ہیں عام عوام بے چارے کیا کر سکتے ہیں۔ بہرحال ایشیاء کپ کا شیڈول جاری ہو چکا ستمبر میں ایشیاء کپ کاا آغاز ہو گا اور یقینا شائقین کر کٹ کو اچھی کرکٹ دیکھنے کو ملے گی اور ایشیاء کہ میں پاکستان،انڈیا،متحدہ عرب امارات، بنگلہ دیش،سری لنکا وغیرہ شامل ہیں اور ایشیاء کپ کا آغاز تو ہونے والاہے لیکن تاحال پاکستان قومی ٹیم کو آئے روز نت نئے تجربات کی کسوٹی پہ پر کھا جاتا ہے آئے روز ٹیم میں اکھاڑ پچھااڑ کی جاتی ہے اور حیران کن بات ہے کہ ایشیاء کپ کا اعلان ہوچکا لیکن پاکستان ٹیم کا تاحال اعلان نا ہو سکا اور تاحال ایشیاء کپ کے لئے کھلاڑیوں کی حتمی فہرست تیار نہ ہو سکی۔ایک بات اور بھی بتا دیں کہ پی سی بی واحد ایسا ادارہ ہے جو کھلاڑیوں کو کھیلنے کا کثیر معاوضہ دیتا ہے اور اسپانسرز کی طرف سے آسائشیں اور میچ فیس سمیت نا جانے کیا مراعات حاصل ہیں کھلاڑیوں کو لیکن پھر بھی پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کھلااڑیوں کی کارکردگی صفر ہے اور اب دیکھتے ہیں کہ پاکستانی کھلاڑی اپنی زبردست و عمدہ کرکردگی سے ایشیاء کپ جیت کر دنیا بھر میں پاکستاانی جھنڈا بلند کر سکیں گے یا پھر روایتی کھیل پیش کے پاکستانی شائقین کر کٹ کو مایوسی سے دوچار کرینگے۔ بہر حال اب اس بارے میں کیاکہیں مزید فی الحال اجازت ہی چاہیں گے آپ سے تو ملتے ہیں جلد دوستو اک بریک کے بعد تو چلتے چلتے اللہ نگہبان رب راکھا




